رشتوں کی دلدل

(Syeda Khair-ul-Bariyah, Lahore)

انسان کی زندگی میں رشتوں کی اہمیت نمایاں ہے۔ بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا کہ انسانی زندگی رشتوں کے پیچ و خم کا شکار رہتی ہے۔ اکثر لوگ ایک سوال کرتے ہیں کہ کچھ رشتے، خاص طور پر محبت کے معاملات، ہمیں جکڑ کے رکھ لیتے ہیں۔ لوگ پوری زندگی کسی رشتے کو چھوڑنے یا نہ چھوڑنے کی الجھن میں گزار دیتے ہیں۔ آئیے اس گتھی کو سلجھانے کے لیے کسی صورت حال کو تشبیہ کے طور پہ دیکھتے ہیں۔

فرض کریں آپ ایک خوبصورت وادی میں ہیں اور اپنی گاڑی میں بیٹھے آپ اس کے حسن میں مدہوش ہیں اور اس وادی کے مسحور کن نظارے آپ کے دل کو گرفت میں لیے ہوۓ ہیں۔ آپ کو اچانک اپنی گاڑی زمین میں دھنستی محسوس ہوتی ہے۔ آپ اتر کے دیکھتے ہیں تو ایک ہولناک منظر آپ کے سامنے ہوتا ہے کہ گاڑی کے پچھلے دو پہیے دلدل میں آہستہ آہستہ دھنس رہے ہیں۔ اب آپ بتائیے آپ کیا کریں گے؟ کیا وادی کی رنگینیوں میں کھوۓ رہیں گے یا اپنی بقا کو ترجیح دیں گے؟ بے شک آپ ایکسلیریٹر (accelerator) کو جتنی زور سے دبا سکیں گے دبائیں گے اور گاڑی کے پہیوں کے باہر نکلتے ہی آپ نظاروں کو پیچھے چھوڑتے ہوۓ آگے نکل جائیں گے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد آپ جب بھی اس وقت کو یاد کریں گے تو آپ کے منہ سے شکر کے کلمات ادا ہوں گے۔ آپ کو یاد رہ جاۓ گا تو صرف یہ کہ آپ کی جان بچ گئ تھی۔
کچھ رشتے زندگی میں ایسی ہی وادی کی طرح ہوتے ہیں جو بظاہر زندگی کے لیے بے حد ضروری اور دل کے قریب لگتے ہیں لیکن اس رشتے کی دلدل جو آپ کے چین، سکون، ترقی، خوشحالی، معاشرتی عزت و وقار کو اپنے اندر جذب کر رہی ہوتی ہے وہ آپ کو نظر نہیں آتی۔ آنکھ تب کھلتی ہے جب دلدل سب کچھ اپنے اندر سمو چکی ہوتی ہے۔

اللہ نے انسان میں یہ شعور رکھا ہے کہ اس کے لیے کیا صحیح ہے اور کیا غلط لیکن وہ خواہشات کے تابع رہ کر خود کو جان بوجھ کر دھوکے میں رکھتا ہے۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ دلدل سے دور چلے جائیں۔ یقین جانیں وقت کے ساتھ آپ کے اندر کا بڑھتا سکون ثابت کرے گا کہ آپ کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ آپ کا مصلحت کو سمجھتے ہوۓ کئے جانے والا فیصلہ آنے والی زندگی کے کئ سال بدسکونی اور انتشار سے بچا لے گا۔

ایک بات ذہن نشین کر لیں

جو شخص جتنا حقیقت پسند ہے وہ اتنا ہی پر سکون ہے کیونکہ وہ خواہشات کو حقائق کے ساتھ کبھی جوڑتا نہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 285 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda Khair-ul-Bariyah

Read More Articles by Syeda Khair-ul-Bariyah: 15 Articles with 5817 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: