میری گلوبٹ - قسط 2

(Kirankhan, Bahwalpur)

تین چار لڑکیوں کا قہقہہ بلند ہوا اور میں بدمزگی سے سامنے دیکھنے لگی۔۔۔
کلاس میں داخل ہوے چند لڑکیاں میری طرف آئیں۔۔اور بتایا کہ مجھ پر کسی نے انک پھینکی ہے اور میری شرٹ کا پچھلا حصہ کافی متاثر ہوچکا ہے ۔۔
اوہ نو۔۔۔میں نے فوراً گردن موڑ کر دیکھا تو میری قمیض کا سارا دامن انک کے چھینٹوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔شک کی گنجایش ہی نا تھی پورا یقین تھا کہ اسی کے کام ہیں۔۔۔اسی مقصد کےلیے تو میرے پیچھے کھڑی تھی۔۔۔میں افسوس سے اپنی شرٹ کو دیکھ ہی رہی تھی کہ محترمہ کلاس میں داخل ہوئیں۔
معنی خیز انداز میں ہنستے ہوے مجھ سے استفسار کیا " یہ کیا ہوا کس نے انک پھینکی؟"
میں نے غصے کو دباتے ہوے بمشکل جواب دیا " پتہ نہیں کس بدتمیز اوچھی لڑکی نے یہ واہیات حرکت کی ہے "

اس کے چہرے کا رنگ ذرا سا بدلا لیکن فوراً سے کرخت تاثرات کے ساتھ پلٹ کر اپنا بیگ کھولنے لگی۔۔مجھے بھی تھوڑی کمینی سی خوشی ہوئی چلو انڈائرکٹ ہی سہی کچھ تو سنا ہی دیا۔
۔بدلے میں اس نے سزا یہ دی کہ دس چکر سٹاف روم کے لگواے کہ فلاں چیز لے او فلاں رکھ آو وغیرہ وغیرہ ۔۔مانیٹر تھی اور اسطرح کے اختیارات اس کے پاس تھے۔۔

۔پڑھائی چلتی رہی میرے نمبرز ہمیشہ اس سے زیادہ ہوتے اور اس کا خون کھول اٹھتا ۔۔چھوٹی چھوٹی بات پر جان کو آجانا بے عزت کرنا اس کا معمول بن گیا ۔۔اور میں سواے اگنور کرنے کے کچھ نا کرپاتی۔کیونکہ اس کا سٹائل ہی ایسا ہوتا کہ یوں محسوس ہوتا تھا یہ واقعی میں ہاتھ پاوں توڑ ڈالے گی۔
مزید رہی سہی کثر کچھ کلاس فیلوز نے اس کے وہ تاریخی معرکے مجھے سنا کر پوری کردی جن میں اس نے آرام سے اگلی لڑکیوں کو تھپڑ مارنے یا بال نوچنے سے بھی گریز نا کیا تھا ۔۔۔ "
ایک ڈیمو میں نے خود بھی ملاحظہ کیا کہ بریک ٹائم کلاس میں غلطی سے ایک لڑکی اس سے ٹکرا گئی اس کے سموسے اور چٹنی اس پر گر گئے اس نے آو دیکھا نا تاو اس کا گریبان پکڑ لیا اور رکھ کر تھپڑ مارا ۔ وہ لڑکی تو جو خوفزدہ ہوئی سو ہوئی میں اس سے زیادہ خوفزدہ ہوگئی کہ یہ تو مار دھاڑ بھی کرلیتی ہے۔۔اب اپنی جان مزید خطرے میں پڑتی نظر آئی ۔

۔ایک مرتبہ کلاس روم کی الماری کھول کے چاکس کا ڈبا نکالا مجھے تھمایا کہ فلاں کلاس میں ٹیچر مانگ رہی ہیں ۔میں جا کے ٹیچر کو دے آئی۔۔جوں ہی ہماری انچارج ٹیچر آئیں اور ہمیں سوال سمجھانے کو بلیک بورڈ کی طرف بڑھی چاک طلب کیے ۔اس نے شکایتی انداز میں میری طرف اشارہ کیا کہ ہمارے چاک اٹھا کہ فلاں ٹیچر کو دے آئی ہے ۔ٹیچر نے سوالیہ انداز میں میری طرف دیکھا ۔۔" آپ نے ہماری کلاس کے چاک دوسری ٹیچر کو کیوں دیے؟؟"

میں اس ساری صورت حال پر بوکھلا اٹھی۔۔۔میرے کچھ بولنے سے پہلے گلو بٹ بول اٹھی " اس لیے کہ یہ ان ٹیچر کی گڈ بک میں آجاے اور ان کےپیریڈ میں اس سے امتیازی سلوک کیا جاے"
میں نے گھبر اکر نفی میں سر ہلایا " ٹیچر اس نے خود مجھے دیے کہ انہیں دے آو "
ٹیچر نے اب اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔ یہ کھا جانے والی نظروں سے مجھ پر چڑھ دوڑی " مجھ پر جھوٹ باندھنے کی ہمت کیسے ہوئی؟؟ ایک تو میری چابی ا ٹھا کر چاک چوری نکال کر لے گئی اوپر سے الزام لگاتی ہو؟؟؟ میں تمہارے ہاتھ توڑ دونگی"

اس سنگین انداز پر میں نے بے ساختہ ہاتھ پیچھے کیے۔۔اور مدد طلب نظروں سے ٹیچر کو دیکھا۔۔۔ٹیچر الجھن بھرے انداز سے ہم دونوں کو دیکھ رہیں تھیں۔۔ کہ کون سچی ہے ۔۔اس نے تابوت میں آخری کیل یوں ٹھوکی کہ مجھے چیلنج کیا کہ اگر میں نے تمہیں ڈبا دیا تھا کسی نے تو دیکھا ہوگا ثبوت دو مجھے ؟؟
اس کے بعد ٹیچر کی طرف متوجہ ہوئی " ٹیچر اس الماری کی چابی ہمیشہ میرے پاس ہوتی ہے کیا میں نے کبھی کوئی چیز نکالی ہے؟؟؟ ۔
مجھے یاد ایا کہ جب اس نے مجھے ڈبا دیا تھا اس وقت کلاس میں کوئی لڑکی بھی موجود نا تھی۔۔اس کا منصوبہ واقعی میں شفاف تھا مجھے لیٹ سمجھ آئی تھی۔۔۔

ثبوت میرے خلاف جا رہے تھے لہذا مجھے سزا کے طور پر چاکس کی قیمت ادا کرنی پڑی۔۔پاکٹ منی سے ہاتھ دھو کر میں مایوسی سے بینچ پر بیٹھ گئی ۔۔اس دن انصاف اور عدل سے میرا یقین اٹھ گیا۔۔اور اندازہ ہوا کہ حریف اگر ذہین ہونے کے ساتھ چالاک بھی ہو تو آپ کو آرام سے پھسا سکتا ہے۔۔

اس دن مجھے صحیح معنوں پریشانی ہوئی کہ یہ مجھے کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے۔۔۔میں سارا دن چپ چپ رہی اور یہ مجھے فاتحانہ نظروں سے دیکھتی رہی۔۔چھٹی ہوگئی میں گھر جا کے ابو کا انتظار کرنے لگی
۔۔شام کو جب ابو آے میں نے بات کا آغاذ کیا " ابو مجھے اس سکول میں نہیں پڑھنا"
"خیریت بیٹا؟ کیا ہے سکول کو؟؟" ابو کا سوال تو بنتا تھا۔۔۔

میں نے جھجھکتے ہوے بات بڑھائی " بس مجھے پسند نہیں "
" کیوں پسند نہیں ؟؟ ٹیچرز اچھے نہیں یا پڑھائی نہیں ہوتی؟ " ابو کا اگلا اعتراض ۔۔

میں نے انکار میں سر ہلایا " نہیں پڑھائی بھی اچھی ہے اور ٹیچرزبھی"
ابو نے حیرت سے مجھے دیکھا " تب کیا مسئلہ ہے؟؟"

میں نے ایک اور بے وقوف سا جواز گھڑا " ابو یہ سکول بہت بڑا ہے"
ان کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری " بڑا ہے تو تم نے سکول کو کندھے پر اٹھانا ہے کیا؟"
میں عاجز ہوچکی تھی لہذا سیدھی سی بات بتا دی کہ کلاس فیلو پریشان کر رہی ہے۔۔سننے کے بعد ابو مسکرا اٹھے "۔۔اوہ تو یہ بات ہے۔۔ "
اب انہوں نے مجھے سمجھایا"۔بیٹا فرار کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ایسے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں کہاں کہاں سے بھاگو گی؟؟۔۔
اس بچی کی فطرت کو سمجھو اس کو ہینڈل کرو کیونکہ ذہین لوگ مسائل کے حل ڈھونڈتے ہیں بانسبت جان چھڑانے کے۔۔۔ اور مجھے یقین ہے میری بیٹی اس چھوٹے سے مسئلے کو آرام سے حل کر لے گی۔۔۔"
ابو کے اپنے متعلق حسن ظن سے مجھے بہت محبت تھی۔۔ ابو ہمیشہ ہمیں اپنے مسائل سے خود نمٹنے کی ترغیب دیتے تھے۔۔اور اب مجھے ابو کی طرف سے ایک چیلنج مل چکا تھا کہ اس گلوبٹ کی نفسیات سمجھ کر اس سے دوستی کرنی ہے۔۔مجھے چیلنج قبول کرنا پسند تھے اور ابو یہ بات جانتے تھے۔
گوکہ اس وقت زبردستی مسکرا کر ابو کے یقین کو تقویت بخشی لیکن میرا دل جانتا تھا کہ یہ ٹارگٹ کافی جان جوکھوں کا کام تھا۔
اور مجھے اس اونٹ کو رکشے میں بٹھانا ہی تھا ۔

ایک امید کا سرا میرے ہاتھ میں ابو تھما چکے تھے سو اگلے دن میں ایک نئی آس کے ساتھ کلاس میں موجود تھی ۔۔مس گلو بٹ کی آمد ہوئی آکر بیگ رکھا اور مردانہ لٹھ مار انداز میں سب کا حال احوال پوچھنے لگی ۔۔
ایک بات تو طے تھی اس کی ہوٹنگ سےکوئی لڑکی محفوظ نا تھی۔۔سب کو بے عزت کرنےکا ٹارگٹ اس کو گویا سونپا گیا تھا۔۔کچھ باغی طبیعت کی لڑکیاں اگر جوابی کاروائی کرنے کی کوشش بھی کرتیں تو مانیٹر ہونے کے ناطے ان کو سزا دلانا اس کے لیے قطعاً مشکل نا تھا۔۔

سب کا حال پوچھنے کے بعد میری طرف متوجہ ہوئی۔۔" کیسی ہو چور عورت"
اس طرز تخاطب پر میں کھول کر رہ گئی لیکن ابو کی نصیحت بھی یاد تھی لہذا زبردستی بشاشت چہرے پر سجائی۔۔" تم تو کم از کم مجھےچور نا کہو ۔۔"

اس نے ابرو اچکاے" کیوں میں کیوں نا کہوں؟؟"
" کیونکہ باقیوں کو پتہ نہیں لیکن تم تو جانتی ہو نا کہ چاکس تم نےہی مجھے دیے تھے"
میں نے اسی طرح مسکرا کر جواب دیا۔۔بدلے میں اس کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔

۔۔اتنے میں ٹیچر اندر داخل ہوگئیں۔۔میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور آہستگی سے اس کے کان میں سرگوشی کی " کیا ہم اچھے دوست نہیں بن سکتے؟"
اس کی آنکھوں میں حیرت ابھری شاید اسے امید نا تھی کہ چاکس والی حرکت کے بعد میں اس کو دوستی کی آفر دونگی۔۔
۔اس نے سوچتے ہوے انداز میں مجھے دیکھا اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔۔اور میرے ہاتھ پر دوسرے ہاتھ سے دباو دیا ۔۔
۔"کرکے دیکھ لیتے ہیں ۔۔۔دشمن سے دوستی کا بھی اپنا مزہ ہے ۔۔"
مجھے اس کی بات کی سمجھ نا آئی تھی ۔۔لیکن یہ تسلی ضرور ہوگئی کہ یہ تو دوستی کرنا چاہتی ہے۔۔۔اس دن بریک میں اس نے مجھے دعوت کھلائی۔۔تینوں سیکشنز کی لڑکیوں کو کلاس میں بلا کر آفیشلی آناونس کیا کہ آج سے ہم دونوں دوست ہیں۔۔
لڑکیاں مجھے حیرت سے دیکھ رہی تھیں کیونکہ مس گلو بٹ کی کبھی کوئی دوست نا رہی تھی نا کبھی اس نے اس قابل کسی کو سمجھا تھا ۔۔
۔اور آپ سے کیا چھپانا مجھے بھی اس پروٹوکول پر یوں محسوس ہوا گویا میں نے علاقے کے ڈان سے رشتے داری کر لی ہے لیکن میں یہ بھول بیٹھی تھی کہ ڈان سے دوستی مجھے بھی "عذیر بلوچ " یا " راو انوار" بننے پر مجبور کردے گی۔۔
ایک چیز اس دن مجھے نوٹ کرنی چاہیئے تھی جو میں اپنے سادہ پن میں نا نوٹ کر سکی وہ تھی اس کے چہرے کی پراسرار مسکراہٹ۔۔۔ میں نا جانتی تھی اب اس نے دوست بنا کر میری کھال اتارنی تھی۔

اس دن چھٹی کے وقت اس نے مجھے اس قدر محبت کےساتھ گلے سے لگا کر خدا حافظ کیا مجھے یوں محسوس ہوا گویا میں جہاد پر جا رہی ہوں۔۔خیر گھر آنے کے بعد میں نے خوشی خوشی ابو کو اطلاع دی کہ گلو بٹ میری دوست بن چکی ہے۔۔ابو نے بھی مبارکباد دی۔۔

اب میرے دن چین اور راتیں سکون سے گزرنا تھیں یہ میرا خیال تھا اس کو مجھ سے اتفاق کیسے ہو سکتا تھا اس کو تو فساد اور لڑائی پسند تھی۔۔مجھے ابھی بھی شک تھا کہ کہیں یہ مذاق یا خواب تو نہیں لیکن دو چار دن اس نے بالکل بہترین سہیلیوں والا سلوک کرکے میرا دل ہی جیت لیا۔۔اب شروع ہوئی میری آزمایش ۔

۔وہ اسطرح کے عید کی آمد تھی۔۔ایک دوسرے کو گریٹنگ کارڈز دینے کا رواج شروع ہوا ۔ مجھ سے پہلے اس نے مجھے عید کارڈ گفٹ کیا ۔۔اور کلاس کےمطابق میں پہلی لڑکی تھی جسے اس نے گفٹ دیاتھا میری خوشی تو بنتی تھی۔۔میں نے بھی اسے ایک نہایت خوبصورت کارڈ گفٹ کیا۔۔

اب ہوا یوں کہ کلاس کی چند اور لڑکیوں نے بھی مجھے کارڈز گفٹ کیے جن کے ساتھ اچھی دعا سلام تھی۔۔میں نے بھی ظاہر ہے واپسی میں کارڈ دیے۔ایک دن یونہی کارڈز دیکھ رہی تھی ایکدم سے ایک کارڈ پر اس کی نظر رکی۔۔" یہ وہ کالی کلوٹی فرزانہ نے دیا ہے نا؟؟؟"
مجھے اس کا یوں کہنا اچھا تو نا لگا لیکن اثبات میں سر ہلادیا۔
۔" تم نے بھی اس کو کارڈ دیا ہے؟؟" اس کے ماتھے میں بلوں کا اضافہ ہوا ۔
میں نے تذبذب سے ہاں میں جواب دیا ۔۔اتنا سننے کی دیر تھی اس نے ہاتھ میں پکڑی کتاب اٹھا کر میز پر اتنے زور سے پٹخی کہ دھڑام کی آواز آئی ۔۔جارحانہ انداز سے میری طرف پلٹی۔ ادھر اس کا وہی انداز دیکھ کر میرے ہاتھ پاوں پھول گئے۔
" میری اس سے لڑائی ہوئی تھی تمہاری یہ جرات مجھ سے پوچھے بغیر اس سے دوستانے جوڑ لیے؟؟"
یہ جان کر کہ وہ اس کی دشمن ہے میری رہی سہی ہمت جواب دے گئی۔۔اور بمشکل اتنا کہا" اچھا ناراض نا ہو میں اب اس سے بات نہیں کرونگی"
دل کو تسلی دی کہ سجنڑاں دے دشمن اپنڑے وی دشمن۔

۔اس نے بات مکمل ہونے سے پہلے اچک لی " واہ بات نہیں کرونگی۔۔۔کرکے تو دکھاو پھر تماشہ دیکھنا۔۔"
دھمکی ایسے انداز سے دیتی تھی کہ دھمکی میں اثر ہی اثر ہوتا ۔۔۔میں نے سر جھکا لیا۔۔

۔" شرافت سے جا کر اس کا کارڈ واپس کرو اور اپنا لے کر آو " اس کا اگلا حکم میرے حواس اڑانے کو کافی تھا ۔۔
۔۔میں ایسی غیر اخلاقی حرکت کس طرح کر سکتی تھی۔۔۔میں منمنائی" چھوڑو اب کہا تو ہے بات نہیں کرونگی ۔۔۔اب کارڈ لینا اچھی بات تو نہیں"
اتنے میں باہر سے کسی لڑکی نے اسے بلایا یہ اپنی جگہ سے اٹھی۔۔خونخوار نظروں سے میری طرف مڑی۔۔" میری انا کا معاملہ ہے اب تو ۔۔۔آج چھٹی سے پہلے کارڈ واپس لینا ہوگا ورنہ مجھ سے برا کوئی نا ہوگا"

میں پریشانی کے عالم میں سوچنے لگی کہ اب اس کا حل کیا نکالوں۔۔یہ کچھ دیر بعد واپس آئی سخت سے تاثرات اس کے چہرے پر ثبت تھے ۔۔میں بھی چپ چاپ بیٹھی رہی ۔۔
چھٹی ہونے سے پندرہ منٹ پہلے اس نے کندھے سے مجھے ٹہوکا دیا" اٹھ شابش کارڈ لے کے آ "
مرتا کیا نا کرتا مرے مرے قدموں سے اٹھی۔۔چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتی مطلوبہ لڑکی کی طرف بڑھی۔۔دل میں ایک پلان بنایا کہ اس کےپاس بیٹھی رہونگی واپس جا کر کہوں گی کی اس کےپاس کارڈ نہیں ہے وہ گھر چھوڑ آئی ہے ۔۔میں جا کے آرام سے اس کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔
۔لیکن یہ نا جانتی تھی کہ اس نے بھی ایک منصوبہ بنایا ہوا تھا جو کہ ظاہر ہے ماسٹر پیس تھا۔۔

۔مجھے دو منٹ بھی نا ہوے تھے کہ مجھے اس کی کھنکھار اپنے سر پر سنائی دی میں نے بے ساختہ مڑ کر پیچھے دیکھا ۔ اس کے ہاتھ میں وہی عید کارڈ تھا جو دوسری لڑکی نے مجھے دیا تھا چبا چبا کر بولی۔۔" تم نے تو کہا تھا کہ اس سے اپنا عید کارڈ واپس لینے جا رہی ہوں ۔۔لیا کیوں نہیں اب تک؟؟ "

فرزانہ نے حیرت سے مجھے دیکھا اسے معاملہ سمجھ نا آیا تھا ۔۔۔" او بی بی ادھر کیا دیکھ رہی ہے ادھر میری طرف دیکھ میں سمجھاتی ہوں۔۔۔میری دوست ہے یہ اب کوئی دو ٹکے کی لڑکی اس کی دوست نہیں بن سکتی یہ اپنا عید کارڈ لو اور اس کا واپس دو "
۔۔اس نےپھینکنے کے انداز میں کارڈ اس کی طرف اچھالا ۔۔جو میں نے شرمندگی سے جھک کر اٹھایا ۔۔میرےہاتھ سے جھپٹ کر اس نے واپس اس کی طرف پھینکا۔۔میں نے اس وقت خود کو بے بس محسوس کیا ۔

۔فرزانہ چند لمحے بے یقینی سے مجھے دیکھتی رہی پھر اپنے بیگ سے میرا دیا ہوا کارڈ نکالا جسے گلوبٹ نے اچک کر لیا اور پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ۔۔اس ساری واردات کے بعد میری فرزانہ سے نظر ملانے تک کی جرات نا تھی لہذا میں چپ چاپ اپنے بینچ کی طرف چل پڑی۔۔گلوبٹ یوں نارمل بی ہیو کرتی رہی کہ کچھ ہوا ہی نہیں لیکن مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ دوستی کم اور دھونس زیادہ ہوگئی ہے۔۔

خیر پیپرز شروع ہونے والے تھے۔ لہذا فی الوقت سب بھول بھال کر پیپرز کی طرف توجہ کی۔۔ دوستی کا حق بھی ٹھیک ٹھاک ادا کرتی رہی ۔۔کبھی اس کو ہوم ورک کرکے دینا ہوتا تھا تو کبھی اس کےلیے کینٹین سے کھانا لے کر آنا ۔۔ اور ظاہر ہے میں کام آنے کو دوستی کا حصہ ہی سمجھتی تھی۔۔

پیپرز کے بعد ورائٹی شو کا فنکشن بھی تھا۔۔اس دن میں جب فنکشن میں پہنچی گلوبٹ ابھی نہیں آئی تھی فرزانہ پر نظر پڑی ۔۔موقع غنیمت جان کر اس کے پاس گئی تاکہ معذرت کرسکوں۔۔زیادہ لمبی تمہید نا باندھی کیوں کہ اس کا ڈر تھا کہ کبھی بھی آسکتی ہے ۔۔سیدھی سی بات کی کہ مجھے معاف کردو تمہاری دل آزاری کی۔۔وہ بھی صاف دل کی لڑکی تھی اس نے تسلی دلای کہ معاف کیا۔۔میرے دل سے گویا بھاری بوجھ ہٹ گیا۔۔

اب میں جا کے مقررہ جگہ بیٹھ کر اسکا انتظار کرنےلگی اور جب محترمہ آئی میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔اس نے بیش قیمت میکسی پہنی ہوی تھی بے شک سارے سکول میں اس جیسا لباس کسی کا نا تھا ۔۔پیاری بھی لگ رہی تھی پہلی بار مجھے کچھ زنانہ تاثر کے ساتھ نظر آئی تھی ۔۔ لہذا مجھے خوش فہمی ہوئی کہ شاید آج یہ لڑکیوں کا طرح ری ایکٹ کرے۔

۔۔مسکراتے ہوے پوچھا کیسی لگ رہی ہوں ۔۔میں نے دل کھول کر تعریف کی۔۔بدلے میں اس نے بھی میری تعریف کی۔۔نا کرتی مجھے تب بھی فرق نا پڑتا مجھے اس کی خوشی زیادہ اچھی لگ رہی تھی۔جس کو پانچ منٹ بعد ہی اس نے غارت کر دیا ۔۔

سٹیج پر میوزک لگا یہ کرسی سے چھلانگ لگا کر بینچ پر چڑھ گئی۔۔۔اور مجھے اشارہ کیا کہ تم بھی آو میرے ساتھ ۔اس بڑے میز پر چڑھ آو میں نے سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھا ساونڈ سسٹم کو سنبھالنے کےلیے ایک دو مرد بھی موجود تھے یہاں۔۔اور میں مر کر بھی ایسا نا کرسکتی۔۔لہذا میں زبردستی مسکرائی " نہیں میں یہی ٹھیک ہوں ۔۔"

یہ خوش زیادہ تھی لہذا مجھے فورس نا کیا۔۔۔اب فنکشن شروع ہوا تالیوں کی گونج میں زور دار سیٹی سنائی دی۔۔نہایت تیز آواز تھی میں نے ناگواری سے پیچھے مڑ کے دیکھا تو میری گلوبٹ نے مردانہ انداز میں انگلیاں منہ میں پھسا کر دوسری سیٹی بجائی۔۔
میں نے بدمزگی سے اس کا یہ انداز دیکھا ۔۔مجھ پر نظر پڑتے ہی مجھے اپنی طرف بلایا۔۔۔میں اٹھ کر گئی تو آرڈر دیا " میری طرح سیٹی بجاو "
میں نے صاف جواب دے دیا کہ مجھے ایسی سیٹی بجانی ہی نہیں آتی۔
۔اس نے زور دیا " اندھی ہو کیا؟؟؟ کچھ آتا جاتا ہے کہ نہیں ڈفر"
میں نے چپ کرکے سن لیا۔۔اس نے مجھے پھر سے ڈیمو کرکے دکھایا " یہ دیکھو یوں انگلیاں منہ میں ڈالو اور یوں بجاو۔۔۔یہ تیسری سیٹی تھی جو اس کے بجاتے ہی ایک ٹیچر ہمارے سر پر آن موجود ہوئیں" شرم آنی چاہیئے آپ لوگوں کو" ٹیچر نے ڈانٹا۔۔۔
جہاں میں اس ڈانٹ پر شرم سے پانی پانی ہوگئی اس نے مسکرا کر ٹیچر سے سوری کیا اور فنکشن انجواے کرنے لگی۔۔۔سارا وقت اس نے مجھےپریشان رکھا کبھی زور زور سے نعرے مارنا شروع ہوجاتی ۔" آے ہاے شیر لگی ایں سوہنیئے "

۔کبھی میز پر کھڑی ہوکر جھومنے لگ جاتی ۔سیٹی بجانے سے بھی باز نا آتی ۔
۔میں اس کے ساتھ تو کھڑی رہی لیکن اس کی ہر اوٹ پٹانگ حرکت پر مجرموں کی طرح شرمندگی سے سر جھکا لیتی جیسے کوئی ناخلف اولاد سے پریشان ہو ۔۔۔اللہ اللہ کرکے فنکشن ختم ہوا اور میں گھر چلی گئی۔

۔۔دو دن چھٹی تھی اور تیسرے دن ایک حادثہ میرا منتظر تھا ۔۔جس کا کاونٹ ڈاون میرے سکول میں قدم رکھنے کے بعد شروع ہوچکا تھا ۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 106 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kirankhan

Read More Articles by Kirankhan: 15 Articles with 6865 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: