ملکی مفادات میں آرمی ایکٹ میں ترمیم ۔ وقت کی آواز پر کان دھرنے کا وقت

(Mian Ashraf Asmi, Lahore)

ایران کے جنرل کی شہادت کے بعد بھارت امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ نے پوری دُنیا میں کھلبلی مچا دی ہے دُنیا اِس وقت عالمی جنگ کے دھانے پر کھڑی ہے۔اِن حالات میں وطن عزیز میں یک جہتی کی اشد ضرورت ہے اور ن لیگ نے دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے۔جب نواز شریف کو پانامہ کیس میں نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تواُس کے تیور ہی بدل گئے۔ نواز اور شہباز کے بیانیے میں واضع طور فرق پیدا ہوا اور یوں نواز شریف کا خلائی مخلوق کا بیانیہ ہوا ہو کر رہ گیا۔ مجھے کیوں نکالا کی گردان کسی طور پر بھی کام نہ آسکی کبھی خلائی مخلوق اور عدلیہ کو نواز شریف ہدف تنقید بناتے رہے۔ الیکشن میں بھی ن لیگ بھرپور کامیابی نہ حاصل کر پائی اگر ن لیگ نے ہی کامیاب ہونا تھا تو پھر اُسے نکالنے کا کیا مقصد رہ جاتا۔ یوں نواز شریف مہربانوں کے سایہ آشفت سے محروم ہوتے چلے گئے۔ چوہدری نثار اور شہباز شریف کے مشورے پسِ پُشت ڈال کر نواز شریف کو آخر کار جیل کی ہوا کھانا پڑی اور یوں مختلف قسم کے مقدمات میں اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا اُس کے بعد جس طرح وہ لندن روانہ ہوئے۔ یہ سب کچھ تاریخ کا باب ہے جسے آنے والا مورخ مختلف انداز میں دیکھ سکے گا۔ پاکستان جس طرح کے جغرافیائی محلِ وقوع میں واقع ہے اور جس طرح کے ازلی دُشمن بھارت کا اُسے سامنا ہے اِن حالات میں سولین سپرمیسی وہ بھی ایسی جمہوریت اور ایسی سیاسی لیڈر شپ جس کے دل میں نہ تو خوفِ خدا ہو اور نہ عوام کا کوئی ڈر، چاہا جانا عبث ٹھرتا ہے۔ ملٹری اسٹبلشمنٹ کی آشیر باد سے پروان چڑھنے والے نواز شریف کو نہ جانے کیوں یہ زُعم ہو چلا تھا کہ وہ عوام کے دلوں میں بستا ہے۔ نواز شریف کی گرفتاری کے بعد اور سزا سُنئے جانے کے بعد جس طرح ن لیگ کے کارکنان سڑکوں پر نہیں نکلے اِس ثابت ہوتا ہے کہ نواز شریف کے گرد دودھ پینے والے مجنونوں کی ہی بہتات ہے۔موجودہ حالات کے تناظر میں جس طرح ن لیگ نے غیر مشروط طور پر آرمی ایکٹ کی منظوری کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا ہے یقینی طور پر اِس کا فائدہ ملک میں جاری کشمکش میں کمی کی صورت میں نکلے گا۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مجالس قائمہ برائے دفاع نے آرمی چیف سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کے متعلق قوانین میں ترامیم سے متعلق بل منظور کرلئے ہیں۔مجالس قائمہ کے مشترکہ اجلاس میں ان بلوں کی منظوری دی گئی۔ مشترکہ اجلاس میں ارکان کے علاوہ وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر قانون فروغ نسیم، مشاہد حسین سید، شیری رحمن و دیگر شریک ہوئے۔ اجلاس میں آرمی ایکٹ، نیول ایکٹ، ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل زیر غور لائے گئے۔ واضح رہے کہ جمعہ کی صبح سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی۔ جس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی ایکٹ 1952ء میں مزید ترمیم کا بل 2020، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953ء اور پاک بحریہ ایکٹ 1961 میں ترمیم کے بل ایوان میں پیش کیے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے دفاع کا اجلاس کیپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد کی سربراہی میں ہوا جس میں حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان پارلیمان نے حصہ لیا۔خصوصی دعوت پر سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے دفاع کے ارکان بھی اجلاس میں شریک ہوئے یوں یہ دونوں مجالس قائمہ کا مشترکہ اجلاس بن گیا۔ اس اجلاس میں جس مسودہ قانون کی منظوری دی گئی اس کے تحت بری، فضائی اور بحری فوج کے سربراہان کی مدت ملازمت کی تکمیل پر وزیراعظم کے مشورے پر صدر مملکت تین برس کے لیے دوبارہ متعین کر سکیں گے یا ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی جا سکے گی۔ مسودہ قانون کے تحت توسیع یا دوبارہ تقرر وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے اجلاس کے بعد بتایا کہ حزب مخالف کی طرف سے اس بل میں کوئی ترمیم تجویز نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کی منظوری میں کوئی جلدبازی نہیں کی گئی ہے۔ اْنہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ کسی ایک شخص کی وجہ سے یہ بل متعارف کرایا جا رہا ہے۔انہوں نے مجالس قائمہ سے بل کی منظوری پر سرکاری اور اپوزیشن کی سب جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔مشترکہ اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نمائندے نے اختلاف کرتے ہوئے آرمی چیف کو توسیع نہ دینے کا مطالبہ کیا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر طلحہ محمود نے بھی اس بل کے بارے میں کچھ سوالات اْٹھائے،وزیر قانون اور وزیر دفاع نے ان کے سوالات کے جواب دیے۔ سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے دفاع کے سربراہ سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ مجلس قائمہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔پاکستان آرمی (ترمیمی) ایکٹ 2020 کے عنوان سے کی جانے والی قانون سازی کے نتیجے میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کی ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 64 برس ہوجائے گی۔ وزیر اعظم کی صوابدید ہو گی کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچے والے افسر کو توسیع دے سکیں گے۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی تقرری اور مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ 1952،چیف آف ایئر سٹاف کی تقرری اور توسیع سے متعلق ترمیم کیلئے پاکستان ایئرفورس ایکٹ1953،چیف آف نیول سٹاف کی تقرری و توسیع سے متعلق ترمیم کیلئے پاکستان نیوی آرڈیننس 1961 میں ترمیم کے 3الگ الگ بل پیش کئے۔آرمی ایکٹ 1952میں ترمیم کے بل کے متن میں آرمی چیف کی تقرری اور توسیع سے متعلق تجاویز دی گئی ہیں کہ صدر مملکت، وزیراعظم کے مشورے پر ایک جنرل کو تین سال کیلئے بطور چیف آف آرمی سٹاف تقرر کرے گا، چیف آف آرمی سٹاف کیلئے شرائط کا تعین صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے کرے گا،صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر آرمی چیف کو اضافی تین سال کی مدت تک دوبارہ تقرر کر سکے گا،آرمی چیف کی تقرری یا توسیع کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی،ایک جرنیل کیلئے صراحت کو مقرر کردہ ریٹائرمنٹ کی عمر و حدود ملازمت آرمی چیف پر لاگو نہیں ہو گی،آرمی چیف کی تقرری یا توسیع زیادہ سے زیادہ64سال کی عمر تک مشروط ہو گی۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے تقرر و توسیع کے حوالے سے آرمی ایکٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر پاکستان آرمی کے جرنیلوں یا پاکستان نیوی کے ایڈمرلز یا پاکستان ایئر فورس کے ایئر چیف مارشلز میں سے تین سال کی مدت تک کیلئے ایک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا تقرر کرے گا،صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے مدت ملازمت میں تین سال تک کی توسیع کر سکے گا،آرمی چیف کی طرح چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے تقرر یا توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی عمر کی حد بھی 64سال مقرر کی گئی ہے۔چیف آف نیول سٹاف کی تقرری یا توسیع سے متعلق پاکستان نیوی آرڈیننس 1961میں ترمیم کیلئے پیش کردہ ترمیمی بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے پر ایڈمرل کا تین سالہ مدت کیلئے بطور چیف آف نیول سٹاف تقرر کرے گا، چیف آف نیول سٹاف کے عہدے کی قیود و شرائط کا تعین صدر مملکت کی جانب سے وزیراعظم کے مشورے پر کیا جائے گا،صدر مملکت، وزیراعظم کے مشورے پر چیف آف نیول سٹاف کا تین سالہ اضافی مدت کیلئے توسیع دے سکے گا،چیف آف نیول سٹاف کی تقرری یا توسیع کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی،چیف آف نیول سٹاف کی عمر کی حد بھی زیادہ سے زیادہ64سال کر دی گئی ہے۔چیف آف ایئر سٹاف کی تقرری یا توسیع سے متعلق پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953میں مزید ترمیم کرنے کے ترمیمی بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے چیف آف ایئرسٹاف کے طور پر ایئر چیف مارشل کا تقرر تین سال کی مدت کیلئے کرے گا،چیف آف ایئر سٹاف کے قیود و شرائط کا تعین صدر مملکت کی جانب سے وزیراعظم کے مشورے سے کیا جائے گا،صدر مملکت وزیراعظم کے مشورے سے چیف آف ایئر سٹاف کا دوبارہ تقرر تین سال کیلئے کر سکے گا،چیف آف ایئر سٹاف کی تقرری یا توسیع کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی، چیف آف ایئر سٹاف کی عمر کی حد بھی 64سال مقرر کی گئی ہے۔یقینی طور ملکی سیاسی فضا اب بہتر ہوگی اور موجودہ حکومت اب عوامی مسائل حل کرنے کی جانب اپنی توجہ مرکوز کرئے گی

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 163 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 439 Articles with 183012 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: