یکساں تعلیمی نصاب : ایک سراب

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

 ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھا جائے تو برطانوی حکمرانوں نے اس خطہ میں طبقاتی نظام تعلیم کا قانون قائم کیا تھا جس کے آتشیں چنگل سے آج تک ہم آزاد نہیں ہوسکے اور وہی نظام جاری و ساری ہے۔ شاید ہمارے حکمرانوں کی نیت اور سوچ ٹھیک نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ بھی اُسی ادارہ میں تعلیم حاصل کرے جہاں اُن کے اپنے اور ایلیٹ کلاس کے بچے پڑھتے ہیں۔ یہی نیت اور سوچ ستر برس سے طبقاتی نظام ِ تعلیم کو ختم کرنے کے بجائے پروان چڑھا رہی ہے۔ پاکستان میں اس وقت تین طرح کے نظام تعلیم رائج ہیں۔ ایک وہ نظام تعلیم ہے جو ہمیں برطانوی حکمرانوں سے وراثت میں ملا، جہاں صرف انگریزوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے تھے اور جس میں محکوم قوم کا بچہ تعلیم حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ آج بھی ہمارے حکمرانوں اور سرمایہ داروں نے اسی سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے ، جس میں ایلیٹ کلاس کے بچے پڑھتے ہیں۔ دوسرا نظام وہ ہے جو اسی ایلیٹ کلاس کی ملکیت ہے۔جن میں مڈل کلاس کے لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں۔اور جہاں وہ اپنی اجارہ داری کے بل بوتے پراُن سے بھاری بھرکم فیسیں وصول کرتے ہیں ۔جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نظام کی جڑیں سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور حکمرانوں کے محلات تک جا پہنچتی ہیں۔ ان جڑوں کو کاٹنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مصداق ہے۔ لہٰذا یہ دوسرا نظام ِ تعلیم اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں اے این پی اور پی پی پی نے نجی تعلیمی اداروں کی بہتات پر قابو پانے کے لئے قانون سازی کی مگر اُسے سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ وطن ِ عزیز میں تیسرا نظام ’’سرکاری سکولوں ‘‘ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ سرکاری ملازمین کے بچے ان سکولوں میں نہیں پڑھتے۔ اس نظام کی ناقص کارکردگی اورگرے ہوئے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خیبر پختون خوا کے سرکاری سکولوں کے چپڑاسیوں ، اساتذہ ، ہیڈماسٹروں ، پرنسپلوں ،ڈائریکٹر تعلیم، سیکرٹری تعلیم اور وزیر تعلیم تک کے بچے نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہی سکولوں میں لاکھوں کی تعداد میں عملہ تعینات ہے اور یہیں سے ماہانہ اربوں روپے تنخواہوں اور مراعات کی مد میں لے رہا ہے لیکن ان سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال کرانے میں بُری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ان تین طرح کے نظام تعلیم کے علاوہ دینی مدارس کا نیٹ ورک بھی کام کررہا ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں طلباء علم و حکمت کی پیاس بجھا رہے ہیں۔

موجودہ حکومت اس طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے ۔ اُن کے پاس اس مسئلے کا حل یکساں تعلیمی نصاب میں پوشیدہ نظر آتا ہے۔ دسمبر 2019 ء کے آخری ہفتے میں سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی ، کراچی کے دورہ کے موقع پر وفاقی وزیر برائے تعلیم و فنی تربیت شفقت محمود نے اعلان کیا کہ حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ پاکستان میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے گا جس کے لئے یکساں نصاب پر کام جاری ہے اور مارچ 2020 ء تک نصاب ایک ہوجائے گا۔اس قسم کے بیانات وزیر اعظم عمران خان متعدد بار دے چکے ہیں۔ کیا ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا؟ ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میرا جواب نہیں میں بنتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے کالم کا نام ’’ یکساں تعلیمی نصاب : ایک خواب ‘‘ کی بجائے ’’ یکساں تعلیمی نصاب : ایک سراب ‘‘ رکھا ہے۔ کیوں کہ خواب کی تعبیر ممکن ہوسکتی جب کہ سراب ۔۔۔ آخرالذکر نظام تعلیم جو مدارس پر مشتمل ہے جہاں لاکھوں طالب علم پڑھ رہے ہیں ، اُن کا کوئی نمائندہ نصاب ساز کمیٹیوں میں موجود نہیں ہے۔ اسی پوائنٹ سے دینی مدارس حکومت کی نیت پر شک کر رہے اور اُن میں اضطراب اور تشویش بھی پائی جارہی ہے۔اُن کی جانب سے ایک رد عمل یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ ان مدرسوں کو وفاقی وزارت تعلیم کے ساتھ اس لئے منسلک کیا جارہا ہے کہ مالیاتی نگرانی کے بین الاقوامی ادارے ( ایف اے ٹی ایف ) کی جانب سے مدرسوں کے حوالے سے کافی دباؤ ہے اور جس میں مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ مدارس سے ہٹ کر اگر پہلے دو تعلیمی نظاموں کا جائزہ لیا جائے تو وہ موجودہ دور میں تجارتی تعلیمی ادارے بن چکے ہیں جو اپنی مرضی کا نصاب پڑھارہے ہیں، باالفاظ دیگر بیچ رہے ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہر پاکستانی بچے کا حق ہے لیکن عملی طور پر یہ تجارت بن گئی ہے۔ اَب صرف سرکاری سکول رہ جاتے ہیں جو نت نئے تجربات کی وجہ سے اپنا مقام کھو چکے ہیں۔ جہاں سرکاری سکولوں کے ملازمین اپنے بچوں کو داخل نہیں کرواتے ہیں۔ یہ چند سرسری باتیں ہیں جن کو آپ رکاؤٹوں کا نام بھی دے سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمیں یکساں تعلیمی نصاب ایک خواب کی بجائے ایک سراب نظر آتا ہے۔ اس اُمید پہ آج کا کالم لپیٹتے ہیں ہے کہ انشاء اﷲ آئندہ کالم میں’’نصاب کی حقیقت ‘‘ کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور جس میں نصاب کے وسیع مفہوم کے علاوہ یکساں نصاب کے حوالے سے دیگراہم باتیں شامل ہوں گی۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 207 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 172 Articles with 81783 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: