خبردار…… حکومت وعدے پر یوٹرن نہ لے ……!!!

(Imran Zaffar, Muzaffara Garh)

الیکشن 2018 میں خطہ سرائیکستان کے باسیوں نے دیکھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی تین بار برسراقتدار آئی اور ہر بار سرائیکی قوم سے کیا گیا وعدہ وفا نہ کیا اور کوئی نہ کوئی بہانہ بناتی نظر آئی ہے اور ن لیگ کو اس معاملے میں ویسے بھی کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ وہ توگریٹر پنجاب کے نعرہ پر کام کر رہی ہے تو وہ اس خطہ کو کیسے تقسیم کرے گی۔ یہ سب صورتحال دیکھ کر اس خطہ کے باسیوں نے پاکستان تحریک انصاف سے انصاف کی امیدیں وابستہ کر لیں اور اپنے خطہ سے بھاری اکثریت سے جتوا دیاجس وجہ سے پی ٹی آئی کو پنجاب میں حکومت کرنے کا موقع میسر آیا اسی طرح وفاق میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت آگئی جبکہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی برسراقتدار آگئی جس سے سرائیکی قوم کو امید ملی کہ اب ہمیں صوبہ مل جائے گا۔جب پی ٹی آئی نے حکومت بنانی شروع کی تو سب سے پہلی نا انصافی اس وسیب سے اس وقت کی گئی جب مخصوص نشستوں کی باری آئی ۔ پی ٹی آئی نے سب سے زیادہ نشستیں سرائیکی وسیب سے جیتی تھیں مگر سب سے زیادہ مخصوص نشستیں تخت لہور کے حصہ میں آئیں جبکہ اس سیدھی سادی، بھولی بھالی قوم کو دھوکا دیکر اور شاید کم علم سمجھ کر مخصوص نشستوں میں سے دو تین نشستیں ہی مل سکیں اسی طرح وزارتیں دیکھ لیں ان کا بھی یہی حشر ہے صرف دو تین اہم وزارتیں اور وزیر اعلیٰ اسی خطہ کا بنا کر بقیہ سب تخت لہور کے پلڑے میں ڈال دیا گیا۔مگر اس حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سو چالاک دوستوں سے ایک مخلص دوست اچھا ہوتا ہے۔

حکومت بننے کے کچھ عرصہ بعد پی ٹی آئی کے چیمے ،چمچے، چٹھے ، لغاری، مداری سب کے ناخن نکلنا شروع ہو گئے ۔ چند ہفتے قبل صوبائی وزیرعلامہ ٹک ٹاک چوہان نے کہا کہ ہمارے پاس اکثریت نہیں ہم صوبہ نہیں بنا سکتے اسی طرح اسی وسیب کے المعروف اے ٹی ایم سرکار نے بھی کچھ اسی طرح کے الفاظ دھرائے جو وسیب کے لوگوں کے دلوں پر خنجر بن کر چلے اور ان کے ارمانوں کو چھلنی چھلنی کر دیا۔ وسیب کے لوگ پیپلز پارٹی کو یاد کر نے لگے کہ ان میں اور ان میں کوئی فرق نہیں وہ بھی جھوٹ کے پلے بڑھے یہ بھی۔ مگر پی ٹی آئی کو یہ بات یاد رکھنی چاہی کہ لاوا پک رہا ہے اس قوم نے جب دھاڑ ماری تو ان کی حکومت ہل جائے گی اور یہ سب بکھر جائیں گے ان کے پاس وقت ہے اب بھی سدھر جائیں کیونکہ جب شیر اپنا شکار کرتا ہے تو انتہائی خاموش سے ہی کرتا ہے اور ایک دم حملہ آور ہوتا ہے اور شکار کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیتا اور یہ قوم بھی اب شیر کی طرح گھات لگائے بیٹھی ہے اور سب کچھ دیکھ رہی ہے۔کیا یہ حکومت بتا سکتی ہے کہ کس اکثریت اور قانون کے تحت فاٹا کو کے پی کے میں ضم کیا گیا اس وقت اکثریت کہاں تھی اسی طرح گلگت بلتستان کیلئے کس اکثریت کی ضرورت تھی یا پھر سرحد کو خیبر پختونخواہ بنایا گیا وہ کونسی اکثریت نے پاس کیا۔ ایسے بہت سارے سوالات ہیں جو سرائیکی قوم یوٹرن حکومت سے پوچھنا چاہتی ہے۔

اس ساری صورتحال کو سرائیکی اگوان بھی متحدہو رہے ہیں اور کوشش میں ہیں کہ ایک ہی پلیٹ فارم سے سرگرمیاں ترتیب دی جائیں اور حکومت کو اس قوم سے کیے گئے وعدے یاد دلائیں اسی حوالے سے گزشتہ دنوں سرائیکستان ڈیمو کریٹک پارٹی کے زیر اہتمام ایک کنونشن ملتان میں منعقد ہوا جس میں مختلف طبقہ فکر سے لوگوں نے شرکت کی ۔ اس کنونشن میں سیاسی، سماجی، صحافی، وکلاء حضرات، سٹوڈنٹس اور ورکز نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سرائیکی تحریک کے اگوان اس تحریک کو شاید کچھ اور نظر سے دیکھ رہے ہیں مگر عام سرائیکی کی بات کی جائے تو وہ کچھ اور طرح سے سوچتا اوراس کا اظہار بھی کرتا ہے میری چند عام سرائیکیوں سے اس حوالہ سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے تو لیڈر ہی ایک جگہ پر بیٹھنے کو تیار نہیں ایک اور سرائیکی نے کہا کہ یہاں جس کو دیکھو وہی لیڈر ہے ہر کسی نے اپنی ایک ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے یہی حال ہے تو تحریک کیسے آگے بڑھے پہلے یہ بڑے تو اپنے اندر میچورٹی لائیں بچوں کی طرح لڑتے ہیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے نظر آتے ہیں ہر کسی کو کرسی کی ہے صوبہ سے کوئی لیڈر مخلص نہیں ایک اور دوست نے کہا کہ ہمارے قوم پرست لیڈر ایسے لڑ رہے ہیں جیسے انہوں نے صوبہ کے وزیر اعلیٰ بننا ہو حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا ان سے اور بہت زیادہ طاقتور لوگ ہیں صوبہ بننے کے بعد یہ لوگ نظر بھی نہیں آئیں گے بہر حال ہر کسی کے اپنے اپنے خیالات ہیں ہمارے لیڈران کو چاہیے کہ ایک گٹھڑی کی مانند بنیں ورنہ تنکوں کی طرح اڑ جائیں گے اور بعد میں سب افسوس کرتے نظر آئیں گے کہ کاش فلاں کی بات مان لیتے۔

ہم سرائیکیوں کے اتحاد کے حوالے سے گزشتہ دنوں ہمارے ایک بزرگ دوست اور سینئیر قوم پرست رہنما سئیں انجینئر شاہنواز خان مشوری نے ایک خوبصورت تحریر سوشل میڈیا پر دی جو کچھ یوں تھی کہ" تم بٹے رہو سرائیکی صوبہ محاذ اور سرائیکستان گرینڈ الائنس میں ، تم تقسیم رہو بھٹو کی محبت اور عمران خان کے نئے پاکستان کے خواب کی تعمیر میں ، تم گالیاں دیتے رہو دانشور، شاعر کو اور دانشورو کہتے رہو کہ سرائیکی سیاسی اگوان امیچور ہیں تخت لہور پر بیٹھا شخص تم پرتمہاری ذہنیت پر، تمہاری سیاسی اپروچ پر تمہاری دانش پر ہنس رہا ہوگاکہ کیا لوگ ہیں 70 سال سے محرومی کی تحریک چلا رہے ہیں انکے اندر موجود طارق بشیر چیمہ، محمد علی درانی، خسرو بختیار، مخدوم باسط سلطان،نصراﷲ دریشک کافی ہیں جو ہر بار انہیں نئے نام اور نئے نعرے سے دھوکہ دینے کیلئے کافی ہیں"۔

سرائیکی قوم کو کبھی پی پی پی سہانے سپنے دکھا کر ووٹ لے جاتی ہے کبھی صوبہ محاذ کے نام پر دھوکہ دیا جاتا ہے تو کبھی عمران کی شکل میں عمرانی معاہدے کر کے ہمارے جذبات سے کھیلا جاتا ہے ۔ اسی معاہدے کے اہم مہرے اے ٹی ایم ، شوگر مافیا اور ڈان جس پر عدالت نے بے ایمانی اور جھوٹا ہونے کی مہر ثبت کر رکھی ہے جو سیاست میں بین ہو چکا ہے مگر اس یوٹرن حکومت کا کرتا دھرتا وہی ہے اس قوم کے جذبات سے کھیلنے سامنے آچکا ہے اور اس قوم کو وہی پیپلز پارٹی والا ڈرامہ سنا رہا ہے کہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں او ترین صاحب اس قوم کو یہ نہ بتائیں کیونکہ اس قوم کو پتہ ہے کہ تمہارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں اگر ملک چلانے کیلئے دو تہائی اکثریت کی ہی ضرورت ہے تو پھر باقی معاملات کیسے چل رہے ہیں ۔ ترین صاحب نہ تو تم اتنے ذہین فطین ہو کہ تمہاری شاطر ذہنیت کو یہ قوم نہ سمجھ سکے نہ اتنا چالاک ہو کہ ہمارے جذبات سے کھیلو۔ یاد رکھو بے شک یہ قوم سامنے کچھ نہ بولے، تمہیں سامنے برا بھلا نہ کہے مگر یاد رکھنا جب یہ قوم رگڑا دیتی ہے تو اچھی طرح دیتی ہے کیا ن لیگ کا انجام بھول گئے ہو۔ کیا شہباز شریف کا ڈی جی خان سے ہارنا بھول گئے ہو۔

جب بھی یہ قوم اپنے صوبے کا مطالبہ کرتی ہے کوئی نہ کوئی ڈرامہ اور بہانہ کھڑا کر دیا جاتا ہے یہ قوم پوچھتی ہے کہ جب ریاست بہاولپور کو پنجاب میں ضم کیا گیا تھا اس وقت کونسا قانون پر عمل ہوا تھا کیا عوامی ریفرنڈم کے ذریعے اس قوم کو پنجاب میں شامل کیا گیا تھا یا پھر دو تہائی اکثریت سے بل پاس کر کے ہی اس علاقہ کو پنجاب میں ضم کیا گیا تھا اسی طرح فاٹا کو کیا دو تہائی اکثریت سے منظور کیا گیا۔؟؟ جب اس ملک کے قوانین کو اپنے مطلب کے توڑتے ہو یا اپنی ایسی تیسی ہوتے دیکھ کر حریم شاہ جیسی لڑکے پر تمہارا قانون اندھا، لولہ، لنگڑا یا بے ہوش ہو جاتا ہے ۔یہ قوم اس حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہمیں دو تہائی اکثریت کا لالی پاپ مت دکھا اس قوم سے کیے گئے وعدے وفا کرو نہ یہ قوم وہ وعدے بھولی ہے نہ بھولنے دے گی۔اس کیلئے سرائیکی اگوان اپنی ناراضگیاں ختم کررہے ہیں اور اس کام پر عملی توجہ دی جارہی ہے تاکہ آپس کے اختلافات ختم کر کے یکجان ہو کر تحریک کو آگے بڑھایا جائے ۔ اﷲ پاک سرائیکی تحریک کے اگوانوں اور ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔آمین راقم کا تعلق سرائیکی وسیب کے ضلع مظفر گڑھ سے ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 309 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Zaffar

Read More Articles by Imran Zaffar: 15 Articles with 3843 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: