شکستگی کے معانی مری لغت میں نہیں۔ڈاکٹر طاہر تونسوی

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

سال نو2020 ء کی پہلی صبح نے موبائل پر جو خبر دی وہ نامور شاعر،ادیب،استاد ڈاکٹر طاہر تونسوی کے بارے میں تھی کہ ”وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے“۔ یہ خبر ملتان میں مقیم میرے برادرِ عزیز سرور صمدانی نے فیس بک پر دی تھی۔ ڈاکٹر تونسوی ریٹائرمنٹ کے بعد کی ملازمتوں سے فارغ ہوکر اپنے گھر ملتان میں رہائش پذیر تھے۔ خبر پڑھ کر مجھ میں بستر سے اٹھنے کی ہمت نہ رہی، سوچ کا دھار ڈاکٹر صاحب کے ساتھ سرگودھا یونیورسٹی کے ٹیچرز ہاسٹل میں گزارے شب و روز ایک ایک کر کے نظروں کے سامنے آنے لگے۔ ابھی چند دن قبل ہی تو میں نے اپنے مضامین پر مشتمل کتاب انہیں پوسٹ کی، کتاب موصول ہونے پر ڈاکٹر صاحب نے فون کیا، شکریہ بھی ادا کیا، اپنی خیریت بھی دی، کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ بیماری اور پریشانی کی کوئی بات انہوں نے نہ کی، البتہ وہ شوگر کے مریض ضرور تھے۔وہ تو بہادر انسان تھے، پھر یہ اچانک ڈاکٹر صا حب کو زندگی نے شکست کیسے دے دی، انہوں نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ
شکستگی کے معا نی مری لغت میں نہیں
مَیں ٹوٹ جاؤں تو اس کو بھی زاویے لکھنا

ڈاکٹر صاحب زندگی سے شکست کھاگئے یہ دوسری بات کہ شکست کے معنی ان کی لغت میں نہیں تھے، اب جب کہ وہ ٹوٹ چکے تو ہمیں ان کے کہنے کے مطابق انہیں زاویے لکھنا ہے۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی ایک استاد، بہترین منتظم، شاعر، نثر نگار،تنقید نگار اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے انسان اور نفیس شخصیت کے مالک تھے۔ پنجاب کے معروف شہر تونسہ شریف ان کا آبائی شہر تھا، ملازمت کے سلسلے میں وہ پنجاب کے مختلف شہروں میں رہے، لیکچرر سے ترقی کرتے ہوئے پروفیسر، پھر ڈائیریکٹر کالجیز کے منصب پر فائز ہوئے، ریٹائرمنٹ کے بعد جامعات سے منسلک ہوئے، سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ تھے اور جامعہ کے ٹیچرز ہاسٹل کا کمرہ نمبر 2ان کا رہائش گاہ تھا اور جب میں 2010ء میں جامعہ سرگودھا سے وابستہ ہوا تو ان کے کمرہ کے سامنے کمرہ نمبر 5میری رہائش گاہ بنا۔ ابتدا میں تو اجنبی رہے، جلد ہی قربت ہوگئی اور وہ قربت بھی ایسی کہ یوں لگا کہ ہم برسوں کے دوست ہیں۔ادب میں ان کا مقام بہت بلند تھا، مجھے ان کی صحبت اور قربت نے ادب سے قریب کردیا، شخصیت نگاری تو میری فطرت میں بہت پہلے سے تھی ان کے ساتھ گزرے لمحات نے میری ادبی زندگی میں نیا رنگ پید ا کردیا، اس دوران میں نے ان کا خاکہ بھی تحریر کیا، اس مقصد کے لیے میں نے ان سے گفتگو کی بلکہ ان کا انٹر ویو لیا، انہیں کھوجنے، کرید نے، ان کے زندگی کے لیل و نہار کے بارے میں آگاہی لینے کی کوشش کی، ذاتی زندگی کے بارے میں ان کی زبانی کچھ معلوم کیا۔بہت سے باتیں ان کے خاکے میں لکھ چکا ہوں۔
میں نے لکھا تھا کہ ”پروفیسر ڈاکٹر طاہر تونسوی سے میری ملاقات کو ابھی مختصر وقت ہی ہوا تھا، ان کی شخصیت میں مجھے ایسی جادوئی کشش محسوس ہوئی کہ وہ میرے شعورکا حصہ بن گئے۔ڈاکٹر صاحب میرے پرانے واقف کار نہیں‘ ان کا شعبہ الگ‘میرا شعبہ الگ۔ ان سے دوستی کو سال بھی نہیں ہوا، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم برسوں پرانے وقف کار ہیں۔ہمارے مابین ملتان کی مقدس سر زمین قدر مشترک ہے۔ ان کی جنم بھومی’تونسہ شریف،‘میری جنم بھومی’میلسی،‘جن میں دو تین سوکلو میٹر کا ہی فاصلہ ہوگا۔میں دنیا میں ۵۲ مارچ ۸۴۹۱ء کو آیا‘ وہ یکم جنوری ۸۴۹۱ء کو وارد ہوئے،اس طرح وہ مجھ سے ڈھائی ماہ آگے ہیں۔ انہوں نے کراچی کے ماری پور کے ماڈل اسکول سے اپنی عملی زندگی کا آغازبہ حیثیت استاد کے کیا، میرا تعلق بھی مسرور بیس سے رہا، میَں نے سیکنڈری اسکول تک تعلیم اسی جگہ سے حاصل کی۔ وہ مکمل ادیب‘میَں ادیبوں کا چاہنے والاَ، وہ شاعر‘ میں شاعروں کے خاندان سے متعلق۔ وہ محقق، سوانح نگار اور خاکہ نگار‘ میں نے بھی اس موضوع پر تھوڑا بہت لکھا اور شخصیات کو اپنا موضوع بنا یا، سوانحی مضامین اور خاکے لکھے۔اور سب سے اہم بات جو قربت سے سامنے آئی کہ ہمارے مزاج میں بڑی حد تک مطابقت پائی جاتی ہے۔اسی مطابقت نے ہی ہمیں مختصر وقت میں قریب کردیا“۔

ڈاکٹر تونسوی کو یکم جنوری سے خاص نسبت تھی وہ یکم جنوری1948 ء کو اس دنیا میں آئے اور72 سال فانی دنیا میں بھر پور زندگی گزار کر یکم جنوری2020ء کو داعی اجل کو لبیک کہا۔ڈاکٹرطاہرتونسوی حساس اور درد مند انسان تھے، دوستوں کے دوست، خیال کرنے والے اور کام آنے والوں میں سے۔ ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم تونسہ میں حاصل کی، ایم اے اور پی ایچ ڈی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ڈاکٹر تونسوی کی علمی خدمات کوحکومت پا کستان نے سراہتے ہوئے 2009ء میں تمغہ امتیاز سے نوازا،مختلف ادبی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی آپ کو اعزازات سے نوازا گیا،2011ء میں ادارہ نیاز و نگار کی جانب سے آپ کو ’نشان نیاز‘(نیاز فتح پوری ایوارڈ) سے نوازا گیا۔ آپ کی تخلیقات کا اشاریہ رابعہ سرفراز نے، ڈاکٹر عامر سہیل نے ڈاکٹر طاہر تونسوی پر کتابیات، شہزاد بیگ نے’ڈاکٹر طاہر تونسوی: ایک مطالعہ‘کے عنوان سے کتاب، ڈاکٹر اسد فیض نے اعتبار حرف کے عنوان سے مجموعہ مرتب کیا، ڈاکٹر طاہر تونسوی کے تنقیدی مضامین کا انتخاب ’فن نعت کی نئی جہت‘ کے عنوان سے محمد حیات چغتائی نے مرتب کیا۔ڈاکٹر طاہر تونسوی کی علمی کاوشوں پر پاکستان اور پاکستان سے باہر کی مختلف جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی تحقیق ہوچکی ہے۔

ایک زمانے میں ڈاکٹر طاہر تونسوی ادبی معرکہ آرائیاں کر تے نظر آتے تھے،یہی وجہ ہے کہ اس دور کے لکھنے والوں نے جب بھی ڈاکٹر طاہر تونسو ی پر قلم اٹھا یاتو ان معرکوں کو بنیاد بنا یا،حالانکہ انہوں نے ہمیشہ اصولوں پر اختلاف کیا۔ لیکن جب میں ان سے ملا تو وہ ایک تو صلح جو، امن پسند، ہر ایک سے خوش ہوکرملنا،البتہ صاف گو، نڈر، غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنا اس کے مزاج کا حصہ ہمیشہ تھا۔سر گودھا جیسے شہر میں عالمی اردو کانفرنس کروا ڈالی‘2011ء میں منعقد ہونے والا نیاز، نگارو فرمان سیمینا ر کراچی میں منعقد ہوا، اس موقع پر طاہر تونسوی کراچی میں میرے مہمان تھے۔ڈاکٹر طاہر تونسوی طبعاًشاعر اور تخلیقی فن کار تھے، شعر کہنا ان کی جبلت اور فطرت میں شامل تھا۔ان کے ادبی سفر کا آغاز شاعری ہی سے ہوا، ابتدا میں استاد فیض تونسوی سے اصلاح لی،۔پہلا شعر13 سال کی عمر میں کہا‘جب وہ میٹرک میں تھے۔ دورانِ تعلیم ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر وحید قریشی اور خواجہ محمد زکریا جیسے اردو کے اعلیٰ پائے کے اساتذہ کی سر پرستی حاصل ہوئی۔ شاعری کے بجائے تحقیق و تنقید کو بنیاد بنایا، شاعری کو ثانوی حیثیت دی،شعر اور شاعر سے عقیدت طاہر تونسوی کے مزاج کا حصہ تھا۔ان کا شعری مجموعہ ’تو طے ہوا نا‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی تصانیف میں ’حیات اقبال‘،’اقبال اور پاکستانی ادب‘، ’اقبال اور مشاہیر‘،’اقبال اور سید سلیمان ندوی‘،’اقبال اور عظیم شخصیات‘،
’ا قبال شناسی اور نخلستان‘، ’اقبال شناسی اور النخیل‘،’اقبال شناسی اور نیرنگ خیال‘،’اقبال شناسی اور نیاز و نگار،’فیض کی تخلیقی شخصیت‘،’فیض احمد فیض:تنقیدی مطالعہ‘،’شاعر خوش نوا۔ فیض‘ؔ (بسلسلہ فیض صدی) اور’مطالعہ فیض کے ماخذات‘ (اشاریہ)، ’غالب تب اور اب‘(مسعود حسن رضوی کے مضامین)،’لطیف شناسی‘،’آئینہ خانہ شاہ لطیف‘،’خواجہ غلام فرید:شخصیت و فن‘،’فرمودات فرید‘،’مطالعہ فرید کے دس سال‘،’عکس فرید‘،’خواجہ محمد ابراہیم یکپاسی اور ان کا خاندان کے علاوہ سرائیکی ادب میں ان کی تصانیف میں ’چراغ اعوان دی ہیر‘،’سرائیکی ادب:ریت تے روایت‘،’سرائیکی وچ مزاحمتی شاعری‘،’خوش دل۔حیات تے کلام‘،’خیر شاہ‘، ’سرائیکی دے چونڑویں افسانے‘،’علامہ اقبال تے سرائیکی زبان و ادب‘ اور’سرائیکی کتابیات‘شامل ہیں۔ دیگر کتب میں ’اردو اور بہاالدین زکریہ یونیورسٹی‘،’صنف نازک کی شاعری‘،’صنف نازک کی کہانیاں‘،’نصاب تعلیم اور اکیسویں صدی‘،’مسعو د حسن رضوی‘ (کتابیات)، ’عرش صدیقی کے سات مسترد افسانے‘ قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر طاہر تونسوی نے ملازمت کا آغازکراچی کے ایک اسکول سے استاد کی حیثیت سے کیا۔ اردو میں ایم اے کرنے کے بعد 1974ء میں کالج لیکچرر ہوگئے۔ ابتدائی تعیناتی گورنمنٹ کالج، ڈیرہ غازی خان میں ہوئی، بعد ازاں ملتان، لاہور، کہروڑ پکا، کبیروالا،اور میانوالی کے مختلف کالجوں میں پڑھاتے رہے، ترقی پاکر اسسٹنٹ پروفیسر اور پروفیسر ہوئے،1987ء میں پرنسپل ہوگئے اور مختلف کالجوں میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔1993ء میں ڈائریکٹر کالجز، ملتان ہوگئے، بعد ازآں ملتان انٹر میڈیٹ بورڈ کے چیرمین ہوئے، فیصل آباد انٹر میڈیٹ و سیکنڈری بورڈ کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔مختلف علمی و تہذیبی اداروں سے وابستہ رہے،اسی دوران بہاء الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان میں بھی تدریسی فرائض انجام دیے۔گورنمنٹ صادق ایجر ٹن کالج بہاول پور کے پرنسپل کی حیثیت سے 31 دسمبر 2007ء کو ریٹائرہوئے اور22 جنوری2008ء کو سرگودھا یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے خدمات کا آغاز کیا،تین سال جامعہ سرگودھا میں خدمات انجام دینے کے بعد آپ نے فیصل آباد یونیورسٹی میں خدمات کا آغاز کیا، جہاں پر آپ نے صدر شعبہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

گندمی رنگ، غلافی آنکھیں، کشادہ پیشانی، کتابی چہرہ، درمیانہ قد، چوڑا سینہ، مضبوط جسم، چہرے پر مسکراہٹ، آنکھوں میں سوجھ بو جھ کی چمک، کلین شیو، سناہے جوانی میں نواب آف کالا باغ کی طرز کی مونچھیں ہو ا کرتی تھیں، سر پر مختصر بال جن میں چاندی نمایاں، سنجیدہ طرز گفتگو، معلومات کا خزانہ،ہر موضوع پر تفصیلی اور حوالائی گفتگو، گفتگو میں بر محل خوبصورت اشعار کا استعمال، دل میں اتر جانے والی مسکراہٹ، المختصر صورت شکل، وضع قطع،چہرے مہرے سب سے شرافت، تحمل، وضع داری اور معصومیت کا خوشگوار اظہار۔ اس قدر خوبصورت اور بے بہا خوبیوں کا مالک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی منزل پر جا سویا۔ شعری مجموعے ’تو طے ہو ا نا‘ سے ایک غزل۔
توطے ہوا نا کہ جب بھی لکھنا رتوں کے عذاب لکھنا
یہ دور اہل قلم پہ بھاری کہ مصلحت کی سبیل جاری
اجاڑ موسم میں تپتے صحرا کو آب لکھنا حُباب لکھنا
جو ہو سکے تو مرے حق میں فیصلے لکھنا
گناہ کو بھی ثواب کہنا ببول کو بھی گلاب لکھنا
شکستگی کے معا نی مری لغت میں نہیں
مَیں ٹوٹ جاؤں تو اس کو بھی زاویے لکھنا

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 293 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 659 Articles with 492564 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Very nice
By: Arif Jameel, Lahore on Jan, 14 2020
Reply Reply
0 Like
Language: