ایک باعمل اور سچا انسان ڈاکٹر سید ریاض احمد

(Aslam Lodhi, Lahore)

کسی بھی شخصیت کو جانچنے کے لیے ایک پیمانہ پیش نظر ہوتا ہے جس سے کسی انسان کے اندر چھپی ہوئی خامیاں اور خوبیاں تلاش کی جاتی ہیں۔ خدا کے فضل و کرم سے مجھے پچھلے 45 سالوں میں بے شمار ایسی شخصیات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا‘ جن کا نام لوگ بہت ادب سے لیتے تھے۔ رفاقت کے دوران جب ان شخصیات کے اندر مجھے جھانکنے کا موقعہ ملا تو ان کے باطن ‘ظاہر سے مختلف دکھائی دیئے۔ بہرکیف مجھے اپنی زندگی کے 41ویں سال ایک ایسے شخص کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا جو نہ صرف عہدے کے لحاظ سے بڑا تھا بلکہ اس کی شخصیت میں ایک درویش انسان چھپاہوا تھا۔ میں جوں جوں ان کے نزدیک ہوتا گیا وہ شخص مجھے علم و دانش‘ با وقار اور روشنی کا مینار ہی نظر آیا۔ اس شخصیت کا نام ڈاکٹر سید ریاض احمد صاحب ہے‘ وہ مانسہرہ کے نواحی قصبے موضوع داتا میں 1935ء میں پیدا ہوئے۔
ڈاکٹر صاحب نے ابتدائی تعلیم ایبٹ آباد اور پشاور کی دانش گاہوں سے حاصل کی‘ پھر پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات میں فرسٹ ڈویژن اور امتیازی پوزیشن حاصل کی‘ اس کے بعد انہوں نے ڈرہم یونیورسٹی‘ انگلستان سے 1968ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ متعدد یونیورسٹیوں میں درس و تدریس سے منسلک رہنے کے بعد وہ ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج لاہور میں ممبر کی حیثیت سے تقریباً9 سال خدمات انجام دیتے رہے۔ انہوں نے پاکستان اور بیرونی ممالک میں قومی اور بین الاقوامی اجتماعات میں تحقیقی مقالے اور رپورٹیں پیش کی ہیں۔
ڈاکٹر سید ریاض احمد پاکستان کے ممتاز ریسرچ سکالر‘ ماہر تعلیم اور بنکار ہیں‘ انہوں نے نہ صرف بینکنگ اور فنانس جیسی سنگلاخ زمین پر رنگا رنگ پھول کھلائے ہیں بلکہ ان میں معنوی اور صوری خوبصورتی اور رعنائی بھی پیدا کی ہے۔ انہوں نے اپنی عالمانہ تحقیق اور تجسس کو تعلیمات‘ سیاسیات اور پاکستانیات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ انگریزی اور اُردو ادب کے لیے ان کی نگارشات قابل قدر ہیں۔ انہوں نے مرزا غالب کے اشعار کو زبان انگریزی کے قالب میں ڈھال کر اہل مغرب کو بھی غالب شناسی کی دعوت دی ہے‘ اس کے علاوہ ان کی انگریزی نظموں کا مجموعہ ’’Dwindling Nomads‘‘ انگریزی شاعری میں ایک حسین اضافہ ہے۔
ان کی تصنیفات اسلام‘ سیاسیات‘ اقبالیات‘ عمرانیات‘ شاعری اور مالیات پر مشتمل ہیں۔ ان میں مولانا مودودی اور اسلامی ریاست (انگریزی) ‘اسلامی بینکنگ‘ چند اہم پہلو‘ شہر لاہور‘ بینکنگ اینڈ فنانس‘ 1987ء غالب کی شاعری کا انگریزی ترجمہ‘ ان کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے متعدد مقالے بینکنگ‘ انتظامیہ‘ قومیت‘ نظریہ پاکستان‘ قرارداد پاکستان‘ اقتصادیات‘ ثقافت اور اقبالیات پر تحریر کئے جو اندرون اور بیرون ملک تحقیقی رسائل میں شائع ہوئے۔
ڈاکٹر صاحب نے قومیت ’’ایک مطالعے‘‘ کے عنوان سے کتاب شائع کی ہے جس میں برصغیر پاک و ہند‘ عرب مشرق وسطی‘ مصر اور ترکی میں قومیت کی تولید اور ارتقاء پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ اس ضمن میں جمال الدین افغانی‘ سرسید احمد خان‘ قائداعظم محمد علی جناح‘ مولانا حسین احمد مدنی‘ علامہ محمد اقبال ‘ؒ شیخ محمد عبدہ ضیا پاشا‘ ضیا گو کالپ ساطع الحصری وغیرہ کی نگارشات اور تصورات کے زیر بحث لایا گیا ہے اور ان خطوں میں مسلم قومیت کے ارتقاء میں جو الگ الگ راہیں مرتب ہوئیں ان کی نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ ان کے مابین تاریخ کی قوتوں نے جو تنوع پیدا کیا ہے اس کی بھی شناخت کی ہے۔
وہ سید خاندان کی انتہائی محترم شخصیت ہیں اور ان سے تھوڑی سی وابستگی رکھنے والا شخص ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ طبیعت میں نرمی ان کی شخصیت کی نمایاں خوبی ہے۔ وہ اپنے ماتحتوں کی بار بار غلطیوں کو بھی ایسے درگزر کر جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو‘ بلکہ ہمیشہ ان کی یہ جستجو رہتی ہے کہ ان کا کوئی ساتھی ان کی وجہ سے پریشان نہ ہو۔ ڈاکٹر صاحب ادبی دنیا کے وہ نڈر جرنیل ہیں جو کسی بھی محاذ پر پیچھا ہٹنا نہیں جانتے وہ کسی عہدے سے مرعوب نہیں ہوتے بلکہ ہر انسان کی عزت خلوص دل سے کرتے ہیں۔ سادگی اتنی کہ انہوں نے بات کرتے ہوئے کبھی یہ خیال نہیں کیا کہ ان کے سامنے ایک معمولی ملازم بیٹھا ہے یا کوئی بڑا افسر۔
یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب بنک آف پنجاب میں آئے مجھے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ مجھے ایک آرٹیکل جو اس وقت کے چیئرمین ڈاکٹر محمدعارف کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔ کمپیوٹر پر کمپوز کرنے کے لیے دیا گیا‘ یہ عرض کرتا چلوں کہ یہاں آنے سے پہلے مجھے انگریزی ٹائپنگ میں مہارت حاصل نہیں تھی بلکہ کسی کی ہینڈرائٹنگ پڑھنا بھی میرے لیے ایک مسئلہ تھا اس لیے اس آرٹیکل کو ٹائپ کرنا میرے لیے مسئلہ بن گیا۔ جب مجھے اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا تھا اور نہ ہی میں کسی کو اپنی مدد کے لیے کہہ سکتا تھا کیونکہ یہ میری ملازمت کے ابتدائی دن تھے اور یہ بات میری نااہلی پر منتج ہوتی‘ جب ناامیدی کے عالم میں میں کمپوز کر رہاتھا تو اچانک لائبریری میں ڈاکٹر سید ریاض احمد تشریف لائے اور آتے ہی اپنی عادت کے مطابق انتہائی پیار سے میرا حال دریافت کیا اور پھر ہاتھ سے لکھا ہوا آرٹیکل اٹھا کر پڑھنے لگے۔ چند سطریں پڑھنے کے بعد مجھے پوچھا کہ یہ آرٹیکل تمہیں کس نے دیا ہے میں نے کہا آپکے پرائیویٹ سیکرٹری وڑائچ صاحب نے دیا ہے۔ جس پر انہوں نے کہا کہ یہ تحریر تمہیں سمجھ نہیں آئے گی۔ اس لیے چیئرمین صاحب کو دینے سے پہلے مجھے دکھا لینا۔چونکہ ڈاکٹر صاحب بھی ہمارے ہی ڈیپارٹمنٹ کے جنرل منیجر تھے اس لیے میں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ میرے ٹائپ شدہ مسودے کو دیکھ کر ان پر میری نااہلی عیاں ہوجائے لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ چنانچہ جیسے تیسے میں نے ٹائپ کرکے ڈرافٹ ڈاکٹر صاحب کے حوالے کر دیا اور باہر بیٹھ کر اس بات کا انتظار کرنے لگا کہ ابھی وہ مجھے بلائیں گے اور بے شمار اغلاط پر ڈانٹیں گے۔ میرا یہ انتظار گھنٹوں پر محیط ہوگیا اور بالآخر جب وہ مسودہ اپنے ہاتھ میں لے کر کمرے سے باہر آئے تو ان کے چہرے پر غصے کے آثار نہیں تھے۔ یہ بات میرے لیے بہت حیرت کا باعث تھی پھر بھی ایک انجانہ سا خوف مجھ پر طاری تھا۔ دوسرے ہی لمحے ڈاکٹر صاحب مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگے کہ یہ مسودہ لے جاؤاور غلطیاں ٹھیک کرکے مجھے ایک با رپھر دکھا دو۔ اتنی سی بات کہہ کر وہ واپس اپنے کمرے میں چلے گئے۔ اور میں دل ہی دل میں ان کو دعائیں دینے لگا۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ رویہ میری توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ اسی محبت اور شفقت نے مجھے انگریزی کی فیلڈ میں قدم جمانے کا موقع فراہم کیا۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں انگلش ٹائپنگ میں اعتماد حاصل کرتا چلا گیا۔ ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر پڑھنے اور ٹائپ کرنے کی صلاحیت بڑھنے لگی۔
پھر ایک دن ڈاکٹر صاحب اور مراتب علی شیخ صاحب لائبریری میں بیٹھے گفتگو میں مشغول تھے کہ مجھے عبدالمتین نے آ کر بتایا کہ ڈاکٹر صاحب مجھے لائبریری میں یاد فرما رہے ہیں۔ جیسے ہی میں لائبریری میں داخل ہوا تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ جلدی جلدی بی اے کرلو اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے پہلے وہ مجھے آفیسر گریڈ تھری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی زبان سے نکلنے والے یہ الفاظ میرے لیے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ اس لیے میں نے انہیں بتایا کہ جناب میری بھی کوشش یہی ہے۔ ان دنوں میں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں داخلہ فارم بھیج رکھا تھا۔ اوپن یونیورسٹی سے بی اے کرنے میں تین سال کا عرصہ درکار تھا ۔ کچھ دیر وہ مجھ سے انتہائی شفقت سے باتیں کرتے رہے پھر میں اجازت لے کر واپس اپنی سیٹ پر آگیا۔ بھلا آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں کون کسی کے بارے میں اتنا درد رکھتا ہے۔ یہ اعزاز صرف اور صرف ڈاکٹر سید ریاض احمد کو ہی حاصل ہے وہ اپنے ماتحت افراد سے اپنے بچوں کی طرح پیار کرتے اور ان کی بڑی سے بڑی کوتاہی سے بھی درگزر کرتے ہیں۔
میں نے اپنی زندگی میں ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جن کا دعویٰ تھا کہ وہ بہت غریب پرور ہیں لیکن عملی زندگی میں کسی غریب انسان سے ہاتھ ملانا بھی اپنی توہین سمجھتے تھے۔ اگر کوئی غریب شخص ان سے کوئی سوال کر بیٹھتا تو فوراً افسری موڈ میں آجاتے۔ ڈاکٹر سید ریاض احمد کا ظاہر اور باطن بالکل ایک جیسا تھا وہ غریب سے غریب انسان سے بھی انتہائی تپاک سے ملتے بلکہ اس کا مرتبہ اور مالی حالت دیکھے بغیر اس کی گفتگو پر مکمل توجہ دیتے۔ وہ دفتر میں انتہائی ملنسار تھے اپنے گھر میں اس سے بھی زیادہ اخلاق اور محبت سے پیش آتے ہیں ان کے گھر جانے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اپنے ہاں ہر آنے والے کو کچھ کھائے پلائے بغیر واپس نہیں جانے دیتے تھے بلکہ ایک دو عیدوں پر مجھے ان کے گھر جانے کا اتفا ق ہوا تویہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ وہ مجھے ایسے ملے جیسے ایک دوست دوسرے دوست کوملتا ہے۔ عمر اور رتبے کا فرق بھی فاصلہ پیدا نہ کرسکا۔ انہوں نے اپنا قیمتی وقت مجھے دیا اور کافی دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ڈاکٹر صاحب کی ذہانت‘ قابلیت اور اہلیت تو کسی تعارف کی محتاج نہیں اس لیے جب بھی میں ان سے گفتگو کرتا‘ یہ میرے لیے راہنمائی کاموجب بنتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نہ صرف سید خاندان کے چشم و چراغ ہیں بلکہ بریلوی مسلمانوں کے سب سے بزرگ ہستی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اﷲ علیہ سے ان کا شجرہ جا ملتاتھا۔ گفتگو میں بے باکی کے ساتھ ساتھ ہر وقت شائستگی ان کے دامن گیر رہتی ہے ۔ وہ صبح کا کچھ وقت اپنے کمرے میں گزارتے ہیں اور باقی وقت اپنے ڈویژن کے ہر رکن سے کام کے بارے میں جستجو میں صرف کرتے۔ ان کی موجودگی ہم سب کے لیے حوصلے کا باعث تھی۔ کیونکہ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ہمارے دلوں پر نقش ہوجاتا ہے اور عملی زندگی میں ہم اس سے بھرپور استفادہ کرتے وہ خود سے اختلاف کرنے والے کی قدر کرتے ہیں بلکہ اہل علم لوگوں کی قدر افزائی میں کسی سے پیچھے نہ ہوتے۔ ریسرچ اینڈ پبلی کیشنز میں ناصر علی اہل علم کے زمرے میں آتے تھے جو ہمیشہ ڈاکٹر صاحب کا سایہ بن کے ان کے ساتھ رہتے۔
ڈاکٹر صاحب نے لاہور چھوڑ کر اسلام آباد کو اپنا مستقبل مسکن بنا لیا ہے اور آج کل کوہاٹ کی پرسٹن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔ وہ ایک سچے اور باعمل انسان کی حیثیت سے اپنا مقام خود بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ کتابوں سے عشق کی حد تک پیار کرتے ہیں اور یہی کتابیں ان کی یادوں کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ وہ ایک صالح مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ محب وطن پاکستانی بھی تھے۔ ان کی سوچوں کا دھارا وطن کی محبت سے پھوٹتا ہے۔ بظاہر تو وہ سیدھے سادے سے انسان نظر آتے ہیں لیکن اگر طالب علم کی حیثیت سے انہیں سٹڈی کیا جائے تو اصولوں کی کسوٹی پر بہت بلندی پر دکھائی دیتے ہیں۔ بے شک ایسی ہی شخصیات ہوتی ہیں جن پر لکھنے والے بھی اپنا مقام پہلے سے بلندکر لیتے ہیں۔
بہرکیف جہاں ڈاکٹر سید ریاض احمد صاحب کی شخصیت نے مجھے بے حد متاثر کیا ہے وہاں مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقعہ بھی ملا ہے۔ میں ان کے شفقت بھرے سائے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا رہا۔اپنی سروس کے دوران ہر لمحے اور ہر ساعت میں مجھے ان کی سرپرستی اور دلی تعاون حاصل رہا۔ ہمیشہ سے یہ دلی تمنا رہی ہے کہ مجھ سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہوجائے جو ڈاکٹر کو بُرا محسوس ہو۔ جب بھی ان کی جدائی کے بارے میں سوچتا تو کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔ان کی جدائی میں گزرنے والے لمحات کتنے کربناک ہوں گے۔ یہ بات صرف میں ہی نہیں کہتا بلکہ اس ڈویژن میں کام کرنے والا ہر شخص یہی محسوس کرتا تھا لیکن جانے والے کو کون روک سکتا ہے۔
بہرکیف میری یہ دلی دعا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا بقیہ حصہ خوشیوں اور شادمانیوں میں گزرے‘ پریشانوں اور مصیبتوں کا سایہ بھی ان سے چھو کر نہ گزرے۔ ایک ناچیز شخص ان دعاؤں کے علاوہ دے بھی کیا سکتا ہے‘کیونکہ یہی دعائیں اس کا سرمایہ حیات ہوتی ہیں۔
اب جبکہ ڈاکٹر سید ریاض احمد کو بنک آف پنجاب سے گئے ہوئے دس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ وہ جب بھی بنک آتے ہیں مجھے تلاش کر کے ملتے ہیں۔ میری ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو سراہنا نہیں بھولتے۔ بنک سے جانے کے بعد عسکری بنک میں چلے گئے۔ پھر پرسٹن یونیورسٹی اسلام آباد میں تعینات ہوئے ان کی مستقل رہائش گاہ بھارہ کہو اسلام آباد میں ہے وہ کچھ عرصہ پرسٹن یونیورسٹی کوہاٹ میں وائس چانسلر کی حیثیت سے تعینات رہے ۔ پھر نہ جانے کب وہ بیمار ہوئے اور کوہاٹ یونیورسٹی کو خیر باد کہہ کر بھارہ کہو اسلام آباد اپنے گھر آگئے ۔ وہ کس دن دنیا سے رخصت ہوئے مجھے اس کا علم نہیں اور نہ ہی ان کے بیٹے سے کوئی رابطہ ہے لیکن آج بھی میری دعاؤں میں ڈاکٹر سید ریاض احمد شامل ہیں ۔دعا ہے کہ اﷲ تعالی انہیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 262 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 489 Articles with 216043 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: