عالم اسلام کے خلاف کافروں کی گھناؤنی سازشیں

(M P Khan, Buner)

تاریخ کے اوراق پر نظرڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ باطل طاقتیں ہمیشہ اسلام اوراہل اسلام کے خلاف گھناونی سازشوں میں ملوث رہی ہیں اوراپنے مذموم مقاصدکے حصول کے لئے وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتیں۔ہمارے سامنے بے شمارمثالیں موجودہیں، مگرافسوس دور جدیدکے مسلمان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دورمیں کفارکے بچھائے ہوئے جالوں میں بری طرح پھنس چکے ہیں اورانکے پاس فرصت ہی نہیں کہ تاریخ کے اوراق پر نظرڈال کراپنے ماضی کے کارناموں سے روشناس ہوجائے۔ اسلاف کی تاریخ پڑھنابہت ضروری ہے تاکہ ہمیں مختلف ادوار میں صلیبیوں، یہودیوں اورنصاریٰ کی سازشوں اورفتنوں کااندازہ ہوجائے۔جدیدمیڈیانے مسلمانوں کے ذہنوں میں ایسازہربھردیاہے کہ انہیں نفس پرستی سے فرصت ہی نہیں۔ میڈیاکے ذریعے اخلاق باختہ سرگرمیو ں میں ہمہ تن شریک ہماری نئی نسل ایمان اورروحانیت سے عاری ہوتی جارہی ہے۔ ہم اپنامذہب ، تہذیب اورروایات کو فراموش کرچکے ہیں اورنتیجتاً باطل قوتوں نے ہماری اس بے حسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے ذہنوں کوماؤف کردیاہے اورہماری نسلوں کو اپناغلام بنانااپنامقصدحیات سمجھتی ہیں۔

حال ہی میں ترکی نے اپنی کھوئی ہوئی عظمت کاسراغ لگایا اوراپنی نسل نو کو اسلاف کے کارناموں سے روشناس کرانے کے لئے طویل ڈرامہ ارطغرل بناناشروع کیا۔ ترکی مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی نشانی ہے۔یہاں مسلمانوں کاطویل دور حکومت یعنی خلافت عثمانیہ جوکہ تقریباً چارسوسال پر محیط تھا، کو صلیبیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی اوریوں اسلامی خلافت کایہ آخری چراغ1924میں باطول قوتوں کے پے درپے حملوں اورپیم سازشوں کے زدمیں آکردم توڑگیا۔ترک قوم لمبے عرصے تک اپنے اسلاف کی تاریخ سے بے خبررہی اورعصرنوکی رنگینوں میں ڈوبی ہوئی تھی اورحرام حلال کی کوئی تمیز نہ تھی ، مگرجب سے انکے اوپر اسلام پسند بادشاہ مسلط ہوا ،انکی زندگی بدل گئی۔ ترکی کے صدرطیب اردگان کی ہدایت پر ڈرامہ سیریل ارطغرل بنایاگیا، جس کے ذریعے عالم اسلام کو اسلاف کے کارناموں سے روشناس کرایاگیا۔اس ڈرامے کے ذریعے ہمیں معلوم ہواکہ ہمارے اسلاف نے اسلام کی سربلندی کے لئے کتنی قربانیاں دیں اوراس مقصدکے حصول کے لئے انہوں نے صلیبی طاقتوں کاکس قدرجرات کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اپنے تدبر اورحکمت عملی کی بدولت انہوں نے کفارکی تمام سازشیں ناکام بنادیں اوریوں ایک چھوٹے سے قبیلے نے کتنی بڑی بڑی طاقتوں کوشکست دیکراسلامی خلافت قائم کی، جوکئی سوسال قائم رہنے کے بعدبالآخر طاغوتی طاقتوں کے ہاتھوں اختتام کوپہنچی۔ مسلمانوں کے اس زوال کی بنیادی وجہ انکی بے اتفاقی اوراسلام سے روگردانی ہی ہے۔ دورجدیدکے مسلمان اپنے مذہب، تہذیب اوراقدارسے جس قدربیزارہوئے، اسی قدرناکامیاں اورذلتیں انکا مقدربن گئیں۔ غیرمسلم قوتوں نے انکی اس بے حسی اورتن آسانی کاخوب فائدہ اٹھایا اورطرح طرح کی چالیں چلیں۔مسلمانوں کوآپس میں لڑایاگیا۔انہیں فرقوں میں تقسیم کرکے بھائی کو بھائی کادشمن بنایاگیا۔ یادرہیں کہ یہ ساری کافروں کی بہت پرانی چالیں ہیں، جس کے ذریعے وہ اپنی فوج کو میدان جنگ میں نہیں اتارتے بلکہ مسلمانوں کوآپس میں لڑاکر، ان سے اپنے مذموم مقاصدحاصل کرتے ہیں۔اس سلسلے میں شیعہ سنی فسادات سب سے بہترین مثال ہے، جوایران، پاکستان، عراق اورشام میں ایکدوسرے کے خلاف خونریزجنگیں لڑرہے ہیں۔

دنیاکی تمام باطل قوتیں اکٹھی ہوگئیں ہیں اوراپنی تمام ترشیطانی طاقتیں اسلام کے خلاف اسلام کررہے ہیں۔ افسوس عالم اسلام میں کوئی ایک بھی ایسالیڈرنہیں ہے، جومسلمانوں کو انکاکھویاہوامقام یاددلائے اورانہیں متحد کرکے، کافروں کی سازشوں کاڈٹ کرمقابلہ کرسکے۔ طاغوتی طاقتوں کے فتنوں اورشرانگیزیوں سے مرعوب مسلمان قوم نے مصلحت کی چاراوڑھ لی اور مادی مفادکی خاطرمذہب کو پس پشت ڈالا۔نتیجتاً ہماری آنکھوں کے سامنے افغانستان ، عراق ، شام ، مصر، لیبیااورنہ جانے کتنی اسلامی طاقتوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔اب باطل قوتوں کی نظریں پاکستان، ترکی اورایران پرہیں، کیونکہ وہ خطے میں انہیں ممالک کو اپنے لئے خطرے کی گھنٹی سمجھتی ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کی آڑمیں بربادی کاجوکھیل کھیلاگیا، وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کیاکم ہے۔حالیہ ایران امریکہ تنازعہ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے،جس کے ذریعے امریکہ مسلمان ممالک میں اپنے مذموم مقاصدکاحصول کی راہ ہموار کرنا چاہتاہے۔خداکرے کہ مسلمانوں کاسویا ہواضمیرجاگ جائے اورانہیں عالم اسلام کے خلاف باطل کی مذموم سازشوں کاعلم ہوجائے۔ان شاء اﷲ ، وہ دن دورنہیں جب عالم اسلام ایک بارپھر اپناکھویاہوامقام حاصل کرنے کے لئے متحدہوجائے گا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 447 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MP Khan

Read More Articles by MP Khan: 91 Articles with 36938 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: