مصفعیٰ زیدی کیس قتل یا خودکشی

(Shahrukh Hussain Siddiqui, )

پہلے ہم امن کا پس منظر بیان کرتے ہیں۔ مصفطفیٰ زیدی 10 اکبوتر 1930کو الہٰ آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم انڈیا میں حاصل کی اور وہیں سے اپنی شاعری لکھنے کاآغاز کردیا تھا۔ 17 سال کی عمر میں انھوں اپنی شاعری کا پہلا مجموعہ انڈیا میں شائع کیا جسے زنجیریں کہا جاتا ہے۔ پھر جب یہ پاکستان میں دوبارہ شائع ہوا تو اسے روشنی کا نام دیا گیا۔ زیدی نے اس کے 5 مزید جلدوں والیوم لکھے۔ کوہ ندا کتاب اور مجموع آیات کی کتاب ان کی آخری اشاعت تھی جوان کے اس دنیا فانی سے رخصت ہونے کے بعد شاءع ہوءی۔ 1950 کی ابتدء میں پاکستان آءے۔ اپنا ماسٹر مکمل کیا۔ انھوں نے پانے سول سروس ایگزیم 1954 میں کامیابی حاصل کی ان کو پاکستان میں مختلف عہدوں سے نوازایک جس میں ڈپٹی کمشنر اور ڈپٹی سیکریٹری کے عہدے شامل ہیں۔

مصطفیٰ زیدی 12 اکتوبر 1970 میں اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے اور پاکستان نے اپنا ایک اہم سرمایہ کھو دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی اس دنیا فانی سے رخصتی ایک قتل تھا یا خودکشی؟ اس پر وہ کیس سامنے آئے ہیں یا تو شہناز گل نے انھیں زہر دیا یا پھر انھوں نے کسی مجبوری کسی بناء پر خودکشی کی کوئی نہیں جانتا کہ اس رات کو اصل میں ہوا کیا تھا۔
عمہ: ہر ایک زبان پر ہے دایب بے گناہی
مجھے خبر ہی نہیں مقتول ہوں یا قاتل ہوں
ابھی یہ بات مجھے زیب ہی نہیں دیتی
ابھی تو میں بھی صفہ مجرمہ میں شامل ہوں

ہم اس بنا ء پر اس کیس کو قتل کہ سکتے ہیں کہ جس وقت پر قتل ہوا شہناز گل ان کے اپارٹمنٹ میں موجود تھیں۔ اسی دن ان کا بھتیجا ان سے ملنے آیا تھا پر انھوں نے اس کو اپارٹمنٹ میں نہیں بلایا اور نیچے جاکر بات کری شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ شہناز گل وہاں موجود تھیں۔ اس کے بعد ان کے گھر والوں اور دوستوں نے بہت رابطہ کرنا چاہا مگر رابطہ نہ ہونے کی بناء پر ان لوگوں نے پولس کو رپورٹ کردی۔ اگلے دن یعنی 13 اکتوبر کو دوست وغیرہ پولس کے ہمراہ زیدی کے گھر پہنچے دروازہ نہ کھولنے پر پولس نے دروازہ توڑدیا۔ اندر جاکر دیکھا تو کمرے میں ان کی لاش موجود تھی۔ کمرے میں اے سی چل رہا تھا۔ ان کی ناک اور ان کے منہ پر خون جمع ہوا تھا۔ شرٹ کے بٹن کھلے اور ہاتھ میں فون سیٹ تھا۔ ساتھ ہی بیڈ پر کافور کی گولیاں بھی پڑی تھیں۔ اور شہناز گل بھی وہیں بے ہوش پڑی تھیں۔ شہناز گل کو جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ انھوں نے ہوش میں آ کر بیان دیا کہ زیدی نے مجھ سے کہا تھا اگر کل تم مجھ سے ملنے نہیں آئیں تو میں خودکشی کرلوں گا۔ اس لیے میں ان سے منے گئی تھی۔ مگر چوں کہ یہ اس قتل یا خود کشی سے پہلے مزید چار مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش کر چکے تھے۔

پہلے یہ کیس ڈرگ روڈ پولس نے ہینڈل کیا اس کے بعد اس کو منتقل کر دیا گیا کراچی پولس کے کراءم برانچ میں۔ مگر جب پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آئی تو اس میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ موت دم گھٹنے سے ہوئی ہے انھوں نے کوئی زہر نہیں لیا۔ اس کے بعد نومبر میں شہناز گل کو دو کیس میں گرفتار کرلیا گیا ایک تو زیدی قتل قتل کیس میں اور دوسرا مارشل لاء کہ وقت میں اسمگلنگ کیس میں۔ لیکن اب تک یہ بات کوءی ثابت نہیں کر پایا کہ زیدی قتل ہوءے تھے یہ انھوں نے خودکشی کی تھی۔
میں اپنے آرٹیکل کا اختتام مصطفیٰ زیدی کے اس شعر پر کرنا چاہوں گا۔

عمہ: میں کس کے ہاتھ پہ اپنا نام لہو تلاش کروں
تمام شہر ن پہنے ہوءے ہیں دستانے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 150 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahrukh Hussain Siddiqui
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: