آخری صفحہ

(Azra Faiz, Wah)

اس نے آئینے میں خود کو دیکھا جھریوں کے پیچھے چھپی خوبصورتی صرف وہ دیکھ سکتی تھی یا پھر اس کو جاننے والے پرانے لوگ۔ سفید بالوں کے بیچ میں چند کالے بال بہت اداس سے دکھ رہے تھے نجانے کیوں؟ کیا خوف تھا ان کو ؟ اس نے اپنے ہاتھوں سے بالوں کو ادھر ادھر کر کے کالے بال گننے کی کوشش کی بلکل اسی طرح جیسے سفید بال آنے پر گنتی تھی ۔۔اس کے چہرے پر وہی خوف تھا ۔۔۔فرق صرف اتنا تھا اس وقت سفید بال آرہے تھے جبکہ اب کالے بال جا رہے ہیں۔اچانک گنتی چھوڑ کر اس نے گنتی کرتے ہاتھوں کو دیکھا وقت کی مہندی نے جھریوں کے رنگ گہرے کر دئیے تھے ۔اس نے ساتھ پڑی کرسی کا سہارا لیا اور کڑ کڑ کرتے گھٹنوں پر ہاتھ رکھا اور کسی وقت کے ڈسے شاعر کی شاعری کے کچھ مصرے جو کسی بیڈ انٹرنیٹ کنیکشن کی طرح دماغ میں آرہے تھے ،دہرائے۔
وقت کہانی لکھ چکا ہے
تم لاکھ چھپاؤ چہرے کو
تم لاکھ بناؤ چہرے کو
تم جھوٹ کہو تو کیا حا صل
آئینہ تو انسان نہیں
یہ سب کچھ سچ بتلائے گا
وقت کہانی لکھ چکا ہے
وقت کہانی لکھ چکا ہے

اس نے اپنے چہرے پر لکھی بے مقصد کہانی کو پڑھا ۔۔ ،بچپن ۔۔جوانی۔۔بڑھاپا اور بس یہ تین صفحے ہی تو تھے ۔۔تو پھر یہ چوتھا صفحہ کس چیز کا ہے ۔۔کیا ؟ تو اس سب کا حاصل کیا تھا؟ ۔۔اس نے پہلے صفحے کو دماغ کی یاد پر کھولا ۔مگر یہ کیا تھا کھیل کود ۔بھاگنا دوڑنا ،اسکول،ہوم ورق ،سپارہ اور چند سورتیں زبانی یاد کرنا،کارٹون دیکھنا اور امی ابو کے ساتھ پارک جانا ،کھلونے اور عید پر مزہ کرنا ۔کلاس میں فرسٹ آنا۔بھائی کی ٹافیاں چرانا۔۔بس ختم بھی ہوگیا ۔۔یہ تو بہت جلدی ختم ہوگیا۔۔وہ پریشان ہوگئ جلدی سے دماغ میں موجود جوانی کے صفحے کو کھولا ۔۔عجیب مدہوش دن ،خزاں بھی بہار کی طرح ،تروتازہ چہرہ ،گھنے بال اور کالے بھی ،کھچی جلد والے ہاتھ ناخن پالش اور لمبے ناخن کا تاج پہنی انگلیاں ۔گنگناتی ہوا ۔اور پھر محبت ۔کسی کا انتظار ۔بے چینی ۔بے قراری ۔۔محبت کا کھونا اور گیتوں کا غزلوں میں بدلنا ۔یونیورسٹی کی کینٹین پہ پھر کسی اور محبت کا اظہار اور پھر محبت کا شادی میں بدلتے ہی سب کچھ بدل جانا ۔لڑنا ۔جھگڑنا ۔۔مجبوریاں ۔۔بچے اور ان کا مستقبل پھر ان کی شادیاں اورمصلحتیں۔۔سفید بال کا آنا اور جسم کا جلدی تھکنا ۔۔۔

اس نے تھکتے ہوئے سوچا اس دماغ کو بھی بہت جلدی تھی بڑھاپے کا صفحہ کھول دیا اور پتا بھی نہیں چلا جیسے جوانی کے ساتھ ساتھ ہی چھپتے چھپاتے بڑھاپے نے اچانک بال سفید کر دئیے ۔۔۔وہ تھک گئی تھی ۔۔اب بس ۔۔وہ دماغ کو روکنا چاہ رہی تھی مگر وہ کہاں رکنے والا تھا جلد ہی آخری صفحے کو لاکر رکھ دیا ۔۔۔یہ کیا ۔۔۔وہ گھبرا گئی ۔۔۔کالا صفحہ ۔۔کالے حروف ۔۔کیا پچھلے تینوں صفحے امتحان تھے ۔۔۔اوہ !تو کیا آخری صفحہ رزلٹ تھا ۔۔لیکن یہ کالا کیوں ہے ۔۔۔اس پہ کیا لکھا ہے ؟۔۔حروف کالے کیوں ہیں؟ میں کیا کروں اب؟۔۔ اس نے اپنی آنکھوں کو ملا ۔۔کہیں میری بنائی تو نہیں چلی گئی ؟۔۔۔یہ دماغ مجھے کیا دکھا رہا ہے؟ ۔۔۔اس کا دم گھٹنے لگا ۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ تینوں صفحے مٹادے اور پھر سے لکھنا شروع کرے ہاں پھر سے ۔۔مگر کیسے۔۔ پل دو پل ہی کی تو تھی یہ زندگی ۔۔۔مجھے کیا پتہ تھا رزلٹ اتنے پاس تھا؟

دادو آپ رو کیوں رہی ہیں ؟۔۔۔دادو کچھ کھو گیا کیا؟۔۔۔آپ تو ایسے رو رہی ہیں جیسے میری دوست فیل ہونے پر رورہی تھی ۔۔میں نے اسے چپ کروایا تھا اور فاٖئینل ایگزام میں پاس ہونے کے لیئے اسکی مدد کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا تب وہ چپ ہو گئی ۔۔۔دادو آ پ کی آنکھوں کو کیا ہوا ؟۔۔دادو آپ کی عینک لاؤں۔۔۔یا ڈائری ۔۔۔اس نے اپنی پوتی کو دیکھا ۔۔اچانک روشنی سی ہوگئی۔۔۔ہاں میں پھر سے شروع کر سکتی ہوں ۔۔کر سکتی ہوں پھر سے ۔۔۔آخری صفحے کی کالک مٹانے کے لیئے کچھ تو کروں ۔۔۔اس نے خود کو اپنی پوتی ٌ دعاٌ میں دیکھا اور اب وہ ایک لمحہ ضائیع نہیں کرنا چاہتی تھی ،،اس نے مسکرا کر کچھ سوچا ۔۔۔اور کہا دعا بیٹے جاؤ ۔۔۔قرآن پاک لے آؤ ۔۔تمہاری زندگی کے آخری صٰفحے کو خوبصورت بنانے کا طریقہ سمجھیں۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 279 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azra Faiz

Read More Articles by Azra Faiz: 37 Articles with 33086 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: