جھوٹ۔ذلت اور رسوائی بنے مقدر

(Rasheed Ahmed Naeem, Patoki)

سارہ عمر،الریاض سعودی عرب
جھوٹ آج کل ہمارے معاشرے کا ایک لازمی جز بن گیا ہے-جھوٹ یعنی غلط بیانی یا قصدا کوئی بات حقیقت کے خلاف بیان کرنا نہایت عام سی بات ہے-حالانکہ یہ گناہ کبیرہ اور بے حد ناپسندیدہ عمل ہے-

جھوٹ بولنے کو آج کل فیشن کہا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا-فیشن کی طرح یہ جھوٹ بھی شکلیں بدلتا رہتا ہے-کبھی چھٹی کے حصول کے لیے جھوٹ بولا جاتا ہے تو خاندان کے بزرگ افراد یا فوت شدگان کو دوبارہ فوت کر دیا جاتا ہے-کبھی سفر پر جانے کو چھٹی نہ ملے تو بچے کے اسپتال میں داخل ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے-کبھی قرضہ لینے کے لیے ان گنت جھوٹ بولے جاتے ہیں اور اسے واپس نہ لوٹانے کے لیے بھی بے پناہ چھوٹے بڑے جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے-صبح سے شام تک ہر شخص اپنے اپنے پیمانے پر جھوٹ کا بازار گرم کیے رکھے ہے-بچہ اسکول نہ جانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے، کام مکمل نہ ہونے پہ جھوٹ بولتا ہے، سزا سے بچنے کے لیے استاد اور والدین سے جھوٹ بولتا ہے-عورتیں اپنی جھوٹی عزت و وقار بنانے اور ایک دوسرے سے کپڑوں، زیور، فیشن میں سبقت لیجانے کے لیے جھوٹ بولنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں-خواتین نے صحیح عمر بتانے کو تو جرم تصور کر لیا ہے تبھی اکثر خواتین کا یہ جھوٹ شناختی کارڈ دیکھ کر ہی کھلتا ہے-مرد اپنی تنخواہ اور نوکری کے حوالے سے جھوٹ بولتے ہیں-دکان دار اپنی چیزیں مہنگی بیچنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں تو ڈاکٹر اپنے کمیشن کے لیے اضافی دوائیاں اور ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں غرضیکہ ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق جھوٹ بول رہا ہے مگر جھوٹ سے بالآخر زلت اور رسوائی ہی مقدر بنتی ہے-

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے-جتنا مرضی جھوٹ بول کر سچ کو چھپایا جائے سچ سامنے آ ہی جاتا ہے اور جھوٹ بولنے والے کے ہاتھ سوائے زلت اور رسوائی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا-جھوٹ عارضی و وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے مگر دائمی نفع کا باعث کبھی نہیں بن سکتا-

اسلام میں جھوٹ کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے تاکہ اس سے بچا جا سکے اور بات بات پہ جھوٹ بولنے سے گریز کیا جائے کیونکہ بظاہر چھوٹی سی برائی ہی بڑی برائیوں کی راہ ہموار کرتی ہے-
صحیح بخاری کی حدیث 6095 میں ارشاد ہوتا ہے
ترجمہ: ’’ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔‘‘
یعنی ہر وقت جھوٹ بولنے والا شخص منافق ہے اور منافق کے لیے سخت عذاب کی وعید ہے-
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے
''بیشک اﷲ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیا کرتا جو جھوٹا (اور) ناشکرا ہو۔''
اﷲ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت بھی نہیں عطا کرتا جس کی سرشت میں جھوٹ بولنا شامل ہے-
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے
''اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہاے پاس کوئی سی خبر لائے تو اس کی تحقیق کیا کرو کہیں کسی قوم پر بے خبری سے نہ جا پڑو پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو۔''
بغیر تحقیق کیے جھوٹی بات کہنا، الزام لگانا یا بہتان لگانا سخت گناہ ہے-ایک سچ کو چھپانے کے لیے ہزار جھوٹ بولے جاتے ہیں اور اگر یہی سچ بتا دیا جائے تو ان ہزار حیلے بہانوں سے جان بچ جاتی ہے-
ایک اور حدیث ہے کہ
'' جھوٹ گناہ (فجور) کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں، اور جھوٹ بولتے بولتے آدمی خدا کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے-''

جھوٹ اتنی زلت کا باعث ہے کہ آدمی اپنے رب کے پاس جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے-وہ اپنے خالق کے پاس بھی برے القاب سے جانا جاتا ہے-

حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ ایک شخض حاضر ہوا اور کہا ’’اﷲ کے پیارے نبیﷺ! اگرچہ مجھ میں بہت سی برائیاں ہیں۔ بہت سے گناہ کرتا ہوں، کوئی ایسی بات بتائیے کہ سارے گناہ چھوڑ دوں۔ آپﷺ نے فرمایا ’’تم جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔‘‘ اس شخص نے حضورؐ کی بات پر عمل کیا۔ شراب پینے لگا تو خیال آیا کہ حضورﷺ کی مجلس میں اس بابت سوال کیا گیا تو کیسے جھوٹ بولوں گا۔ کیونکہ میں نے سچ بولنے کی قسم کھائی ہے سچ بولوں گا تو شرمندگی ہو گی۔ لہٰذا اُس نے شراب پینا چھوڑ دی۔ اسی طرح ایک ایک کر کے باقی برائیوں سے بھی اُس کی جان چھوٹ گئی اور وہ سچا و پکا مسلمان بن گیا۔
سبحان اﷲ یعنی ایک جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے-جھوٹ نہ بولنے سے انسان کئی برائیوں سے بچ جاتا ہے-
ایک بار رسول اﷲ ﷺ سے دریافت کیا گیا
'' یارسول اﷲﷺ! کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
'' ہاں ہوسکتا ہے۔ ''پھر آپﷺ سے عرض کیا گیا،'' کیا مومن بخیل بھی ہوسکتا ہے؟''، آپﷺ نے فرمایا: ''ہاں ہوسکتا ہے!'' پھر آپﷺ سے عرض کیا گیا'' کیا مومن آدمی جھوٹا بھی ہوسکتا ہے؟ ''آپﷺ نے فرمایا'' نہیں۔''
یعنی مومن کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا-جھوٹ بولنا مومنین کی صفات میں سے نہیں-جھوٹ بولنے والا ہمیشہ نقصان ہی اٹھاتا ہے کیونکہ جھوٹ ایک معاشرتی برائی اور فساد کی جڑ ہے-جھوٹ بولنے والے کا نہ اعتبار قائم رہتا ہے نہ ہی اسکی بات کی صداقت کا کوئی یقین کرتا ہے-جھوٹا شخص کے مقدر میں زلت و رسوائی لکھ دی جاتی ہے چاہے وہ اپنی روش سے باز ہی کیوں نہ آ جائے کیونکہ شیشے میں دراڑ آ جائے تو جا نہیں سکتی اسی طرح اگر لوگوں کا انسان پہ سے اعتبار اٹھ جائے تو دوبارہ بحال نہیں ہو سکتا-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 80 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rasheed Ahmed Naeem

Read More Articles by Rasheed Ahmed Naeem: 21 Articles with 4631 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: