سود کیا ہے؟

(Muhammad Soban , Pakpattanshar)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

از قلم : مبشر رضا نوری

اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں پارہ 3 سورہ بقرہ کی آیت نمبر 275 کے ایک جز میں ارشاد فرماتا ہے""" واحل اللّٰہ البیع و حرم الربا""" اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے.

آج کل ہمارے درمیان سود بہت زیادہ عام ہو چکی ہے۔۔ سود ایک ایسی چیز ہے جو حرام اور گناہ کا کام ہے۔ سود کے لین دین میں جتنے لوگ شامل ہوں گے سب کے سب جہنمی ہیں۔

صحیح مسلم شریف میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے سود لینے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور یہ فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سود کا گناہ سترحصہ ہے ان میں سب سے کم درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔(سنن ابن ماجہ جلد 3 صفحہ 72)

سود کہتے کسے ہیں؟

ایک ہی جنس کے مال میں لین دین کرتے وقت کمی زیادتی کرنا۔۔۔

اس بات کو آپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ زید نے بکر کو 1000 روپے دیئے اور کہا کہ اس 1000 کے بدلے میں میں آپ سے 2000 لوں گا اب جو 1000 کی زیادتی ہے یہ سود ہے جو کہ حرام ہے۔
سود کھانے والوں کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ اپنی قبروں ایسے اٹھیں گے جس طرح وہ شخص اٹھتا ہے جس کو شیطان نے چھو کر پاگل کر دیا ہو۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا کہ بیع سود کی طرح ہے حالانکہ اللہ عزوجل نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ جس کو خدا کی طرف سے نصیحت پہنچ گئی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ پہلے کر چکا ہے اس کے لیے معاف ہے اور اس کا معاملہ اللہ عزوجل کے سپرد ہے اور جو پھر ایسا ہی کرے وہ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اللہ عزوجل سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور ناشکرے گنہگار کو اللہ عزوجل دوست نہیں رکھتا۔۔۔

اللہ عزوجل صدقات کو بڑھاتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کمائی میں سے اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں صدقہ کریں یقینا اگر ہم اللہ کی راہ میں صدقہ کریں گے تو ہمارا وہ مال ضائع نہیں ہوگا بلکہ آخرت میں ہمارے لئے ہی جمع ہو جائے گا اور اس کا ثواب ہمیں آخرت میں اللہ عزوجل ضرور عطا فرمائے گا۔
پتا چلا کہ اللہ تعالیٰ نے سود کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ سود حرام ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی سود سے بچئں اور ہمارے دوست احباب اور رشتہ دار وغیرہ اگر اس حرام کام میں مبتلا ہیں تو ہم انہیں بچانے کی کوشش کریں۔

پتا چلا کہ اللہ تبارک وتعالی نے سود کھانے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ سود خور ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ دیکھا آپ نے کہ دنیا میں سود کھانے والوں کا آخرت میں کیا حشر ہوتا ہے اور ان کو ایسی سزا ملتی ہے ۔ آج دنیا میں موجود ہو کر ہم سے دنیا کی آگ برداشت نہیں ہوتی تو غور فرمائیں کہ دوزخ کی آگ ہم سے کیسے برداشت ہوگی۔ سود کا جو کاروبار ہے عام طور پر یہ بڑے لوگوں میں ہوتا ہے کیونکہ جو بڑے لوگ ہیں ان کے کاروبار بھی بڑے ہوتے ہیں ذرا غور فرمائیں جو لوگ سود کا کاروبار کرتے ہیں انہیں سود کے پیسوں سے اپنے گھر کو چلاتے ہیں اور انہیں سود کے پیسوں سے اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں ذرا غور فرمائیے جو لوگ اپنے بچوں کی پرورش سود کے پیسوں سے کرتے ہیں ایسے لوگوں کی تو دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو جاتی ہیں۔

وہ بچے جن کی پرورش سود کے پیسوں سے ہوتی ہے قرآن اور نماز پڑھنا تو بہت دور کی بات ہے ہو سکتا ہے کہ انھیں درست طریقے سے کلمہ پڑھنا بھی نہ آئے۔ اور وہ بچے جن کو درست طریقے سے کلمہ پڑھنا نہیں آتا وہ والدین کی وفات کے بعد انہیں ایصال ثواب کیا کریں گے۔
معلوم ہوا کہ سود خور کا آخرت میں بہت برا انجام ہوتا ہے۔ اگر آپ میں سے کوئی اس حرام کام میں مبتلا ہے تو اللہ کے لیے اس حرام کام کو چھوڑ دے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں سود جیسی حرام اور لعنت کردہ چیز سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 444 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Soban

Read More Articles by Muhammad Soban : 9 Articles with 2253 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Please provide correct definition of sood (riba) in proper ways. It is not that simple. I have read a lot articles but no body properly defines it. Here the example of RS1000 given as loan and then take back Rs2000 is also not correct because of inflation. What if Rs1000 are returned after 10 years. After ten years 1000 rupees will lose their value and maybe equal to only 100 Rupees.
By: saeed, Ottawa on Jan, 24 2020
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ