مرحبا صد مرحبا صد مرحبا شاہین باغ، ہر گلی کوچہ ہوا شیدا ترا شاہین باغ

(Dr Salim Khan, India)
شاہین باغ میں مظاہرہ کرنے والی خواتین کی حمایت میں مشہور مصنفہ اروندھتی رائے نے وہاں موجود خواتین سے کہا کہ پورا ملک آپ کے ساتھ ہے، آپ اپنی لڑائی جاری رکھیں کیونکہ پوری دنیا میں شاہین باغ احتجاج کے چرچے ہو رہے ہیں لیکن بی جے پی کی رہنما میناکشی لیکھی سے یہ کامیابی دیکھی نہیں گئی اوروہ دھونس دھمکی پر اتر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہین باغ میں دیرینہ احتجاج کے باعث آمدو رفت میں کافی پریشانی ہو رہی ہے۔ لہذا مظاہرین کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ دہلی کا انتخاب قریب ہے جلد ہی دہلی کی لوگ لیکھی جیسے لوگوں کو گھر بھیج کر ان کی ہدایت پر عمل کریں گے۔ شاہین باغ کے مظاہرین پر جب اس طرح دھمکی کا کوئی اثر نہیں ہوا تویہ لوگ تحریک کو بدنام کرنے کے لیے گھٹیا ہتھکنڈوں پر اتر آئے اور اس پرروپیوں کے زور چلائی جانے والی تحریک کی تہمت لگا کر بدنام کرنے پر اتر گئے ۔

اس گھناونے مقصد کے حصول کی خاطر ایک جعلی ویڈیو بناکر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ مظاہرہ میں شامل ہونے والی خواتین کو 500 روپے روزانہ دیا جاتا ہے۔اس جھوٹ کے جواب میں رخسانہ علوی کہتی ہیں وہ اپنے گھر میں بچوں کو کوچنگ دے کر 30 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ کما رہی تھیں۔ ایسے میں کیا وہ اپنا کام چھوڑ کر محض 500 روپے کی خاطر تحریک میں شرکت کریں گی۔اس ایمان افروز بیان کے بعد اگر تہمت باز کا ضمیر زندہ ہو تو اسے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے ۔اس ویڈیو نے عزم و حوصلہ میں مزید اضافہ ہی کیا ہے دشمنوں کے خیمہ میں بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سچ تو یہ ہے سورج پر تھوکنے والوں کا تھوک خود ان کے منہ پر آتا ہے۔ ویسے تو اس ویڈیو کے جھوٹ کا پلندہ ہونے کے لیے اس کا بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ کے ٹوئٹر سے وائرل ہونا ہی کافی ہے۔ اب تو یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ بی آئی ٹی سیل نے یہ ویڈیو پانچ ہزار روپئے میں بنوائی تھی۔ یہ بیس روپیہ فی ٹوئٹر کے ٹٹ پونجیے سنگھ سیوک کیا جانیں کہ کسی عظیم مقصد کے جدو جہد کس چڑیا کا نام ہے۔ اس کذب گوئی کے جواب میں دھرنے پر بیٹھیں 71 سالہ سیما عالم نے کہا کہ ’’ہو سکتا ہے کہ 500 روپے لے کر کوئی کسی دھرنے میں چلا جائے، لیکن یہاں تو ہم سبھی پولس کی گولی کھانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ شہریت قانون کے خلاف چل رہی اس تحریک کو جاری رکھنے کے لیے ہم اپنی جان دینے کو تیار ہیں۔‘‘ بقول احمد مجتبیٰ صدیقی ؎
سب کے سب حیران ہیں ان آندھیوں کو دیکھ کر
احتجاجی دادیوں اور نانیوں کو دیکھ کر

شاہین باغ مظاہرے کے خلاف جب پولس، میڈیا اور سیاست کا دباو ناکام ہوگیا تو عدالت سے رجوع کیا گیا اور دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو ہدایت دے دی کہ وہ کالندی-کنج شاہین باغ روڈ پر ٹریفک کو کھولے اور اس مسئلہ سے قانون کے مطابق بروقت نمٹا جائے۔ جامعہ ملیہ میں ہاتھ آنے والی بدنامی کے بعد اس بار انتظامیہ کچھ محتاط ہے ۔ اس نے ہائی کورٹ کے حکم کے بعدبھی مظاہرین کو جبراً نہیں ہٹانے کے بجائے گفت وشنید کا راستہ اپنا رکھا ہےاور علاقہ کےعمائدین سے بات چیت کر رہی ہے۔امیت شاہ جیسے سفاک وزیرداخلہ کے تحت کام کرنے والے انتظامیہ کا یہ بدلا ہوا رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں دال آٹے کا بھاو معلوم ہوگیا ہے اور عقک ٹھکانے آگئی ہے۔ یہ وہی پولس ہے جس نے گجرات میں ہاردک پٹیل کی تحریک کو کچلنے کے لیے ان پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ قائم کردیا تھا اور پونہ میں مظاہرین پر اپنے غنڈوں سے حملہ کروا کر الٹا مظلومین پر وزیراعظم کو ہلاک کرنے کی سازش کا الزام لگا دیا تھا لیکن اب وہ محتاط ہوگئے ہیں ۔ پہلے تو انہوں نے جامعہ میں اپنی روایت کو جاری رکھتے ہوئے پولس اور غنڈوں کی مدد سے طلباء کو خوفزدہ کیا گیا ۔ اس میں ناکامی ہوئی تو اترپردیش میں قتل و غارتگری کا بازار گرم کردیا ۔ 19مظاہرین کو شہید کرنے کے بعد الٹا ان سے ہرجانہ وصول کرنے کی دھمکی دے دی ۔ اس کے باوجود مظاہرین کی حوصلہ شکنی میں ناکام رہے ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مغربی اترپردیش میں بی جے پی کے ذریعہ شہریت ترمیم قانون کی تفہیم کے لیے منعقد کی جانے والی تقریب سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کنی کاٹ رہے ہیں ۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میںجاری احتجاجی مظاہروں کے اثرات زائل کرنے کے لیے بی جے پی نے اتر پردیش میں۶ جلسوں کے انعقاد کا فیصلہ ان میں سے پہلی ریلی 22 جنوری کو میرٹھ میں ہونی ہے۔ اس ریلی میں وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ اور پارٹی کے پارٹی کے کارگزار صدر جے پی نڈا شرکت کرنے والے تھے لیکن اب صرف راج ناتھ سنگھ کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ یہ وہی راجناتھ سنگھ ہیں جن کو یوگی کی مدد سے حاشیے پر بھیج دیا گیا تھا لیکن مثل مشہور ہے ’ وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے‘ ۔ ویسے بی جے پی والوں کے لیے اس طرح کی رسوائی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان مظاہروں کی وجہ سے وزیر اعظم مودی ایک ماہ کے اندر دو بار آسام کا اپنا دورہ منسوخ کر چکے ہیں۔ کولکاتہ گئے تو وہاں لوگوں نے ان کا قافیہ تنگ کردیا ۔ یوگی اگر مظاہرین کے خلاف اپنی درندگی مظاہرہ نہیں کرتے تو بی جے پی پر یہ نوبت نہیں آتی کہ اپنی صوبائی و مرکزی حکومت کے باوجود وزیراعظم اور وزیر داخلہ کسی جلسۂ عام کو مخاطب کرنے کی بابت تذبذب کا شکار ہوجائیں ۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ شاہین باغ اترپردیش سے لگا ہوا ہے۔ یوگی اگر وہاں کے مظاہرین کو دہشت زدہ نہیں کرسکے تو ملک بھر میں انہیں کامیابی کیونکر مل سکتی ہے؟

مسلمانوں کو رام کرنے کی کوشش میں جب بی جے پی کی دال نہیں گلی تو اس نے آر ایس ایس کی تنظیم ’مسلم راشٹریہ‘ منچ کو میدان اتارا۔ اجمیر بلاسٹ کے ملزم بدنامِ زمانہ اندریش کمار کی سربراہی میں چلنے والی یہ تنظیم بڑے عرصے سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سعی کررہی ہے اور کچھ مفاد پرست نام نہاد مسلمانوں کو ساتھ لے کر اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی ہے۔ عام مسلمان اس کو نظر اندا زکررہا تھا لیکن جب اس نے شہریت قانون اور این آر سی کی حمایت میں’راشٹریہ علماء کانفرنس‘ کے بینر تلے ایک تقریب کا انعقاد کیا تو مسلمانوں کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا۔ تقریب کے شروع ہوتے ہی کم و بیش درجن بھر لوگ کھڑے ہوئے اور ’سنویدھان کے دشمن مردہ باد‘ (آئین کے دشمن مردہ باد) کا نعرہ بہ زور آواز بلند کرنے لگے۔ اس نعرہ بازی کی وجہ سے وہاں موجود آر ایس ایس کے کارکنان اور اسٹیج پر موجود نام نہاد علماء حضرات بھی دم بخود رہ گئے اور انہیں شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف بینر س کو دیکھ کر راہِ فرار اختیار کرنا پڑا۔

سنگھ پریوار کی پہلی کوشش تو یہ تھی کہ کسی طرح مسلمانوں کو بہلا پھسلا کر سی اے اے اور این آر سی کا حامی بنایا جائے لیکن ہوا یہ کہ وقت کے ساتھ ہندو عوام بھی اس کے خلاف ہوتے چلے گئے ۔ اب نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسے ہندووں کو سی اے اے کی افادیت سمجھانے ضرورت پڑ رہی ہے۔ اس معاملے میں چونکہ بی جے پی کامیاب نہیں ہوپارہی ہے اس لیے اب اس نے سادھو-سنتوں سے رجوع کیا ہے کہ عوام میں آگاہی لانے کا کام کریں۔ اس سیاسی مقصد کے حصول کی خاطربی جے پیکا سادھو سنتوں پر انحصار صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی ناکامی سے بہت فکر مندہے۔ ورنہ رام مندر کے مسئلہ پر وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) سے بے نیاز ہوجانے والی بی جے پی کا سادھو سنتوں کا سہارا لینا چہ معنی دارد؟ سی اے اے کی مہم اب سادھو سنتوں اور کتھا واچکوں (ہندو دھرم سے متعلق کہانی سنانے والے) کے ذریعہ آگے بڑھا ئی جائے گی ۔ سنتوں سےیومیہ پروچن (تبلیغ) کرایا جائے گا۔ ان لوگوں کو اپنے بھکتوں کے گھر گھر بھیجا جائےگا۔ ایک طرف مسلمانوں نے اپنے مذہبی رہنماوں کو اس تحریک سے دور رکھا اور دوسری جانب بی جے پی کا اپنے مذہبی رہنماوں کی مدد سے تحریک چلانے پر مجبور ہونا اس کی ناکامی کا بین ثبوت ہے۔ آج ملک کا ہر انصاف پسند شاہین باغ کی جیالی دختران ملت کے لیے دعا گو ہے ؎
ہے دعا احمد کی تابندہ رہے تیرا وقار
فتح و نصرت اب عطا کردے تجھے پروردگار
 
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 209 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 919 Articles with 302191 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: