میرے پاس تم ہو۔۔۔ممکنہ اختتام

(Syeda Khair-ul-Bariyah, Lahore)
خلیل الرحمان قمر ایک انتہائی معتبر نام۔۔۔جزبات کی ترجمانی کے بادشاہ۔۔۔ان کا حال ہی میں ایک ڈرامہ
اختتام پزیر ہوا ہے میرے پاس تم ہو

اس کے اختتام سے لوگوں کا دل دکھا تو میں نے سوچا کیوں نا افسوس کی فضا کو کم کرنے کے لیے آخری قسط کا ممکنہ منظر آپ کے سامنے پیش کیا جاۓ

اس کا مقصد ہر گز اس عمدہ تحریر کو نیچا دکھانا نہیں ہے بلکہ یہ صرف لوگوں کی آخری قسط سے کڑی بے چینی کو کم کرنے کے لیے ہے

سین 1

ساحل سمندر پر دانش اپنے دوست سے:

"ان سمندر کی لہروں کو دیکھ رہے ہو؟یہ آگے بڑھتی ہیں اور پھر پیچھے چلی جاتی ہیں۔ تمہیں پتا ہے ایسا کیوں ہے؟

دوست:"کیوں؟"
دانش:"کیونکہ وہ اپنے محور سے جدا نہیں ہو پاتی ہیں۔"
دوست:"دانش!سب ٹھیک ہے نا؟"
دانش:"آج مونٹی آیا تھا۔ مجھے میرے وجود کا احساس دلا کر گیا ہے۔ اب میرے اندر تھوڑا سا خوف ہے۔
دوست:"تھوڑا سا خوف یا مکمل خوف؟"
دانش:"مکمل خوف کے احساس کا خوف ہے کہ اگر میں نے اپنے وجود کو وہاں پایا جہاں اسے نہیں ہونا تھا تو میں جیت کے بھی سب ہار بیٹھوں گا۔"
کچھ دیر خاموشی کے بعد
دانش:"ان لہروں کے شور میں شور نہیں سکون ہے کیونکہ انہیں اپنے وجود اور محور کا پتا ہے۔ میں اپنے اندر کے شور میں اپنے وجود کو تلاش کرنے مہوش سے ملنے جاؤں گا۔"

سین 2
دانش مہوش سے ملنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ کانپتے ہاتھوں سے وہ perfume اٹھاتا ہے جو مہوش نے کبھی اسے دیا تھا۔
"اس خوشبو نے مجھے تم سے جوڑا تھا آج یہی مجھے تم سے توڑے گی"
رومی:"پاپا اتنے تیار ہو کر ہانیا ٹیچر سے ملنے جا رہے ہیں؟"
دانش:"نہیں!تمہاری ماما سے ملنے۔۔۔۔دعا کرنا۔۔۔۔اپنی تلاش میں جا رہا ہوں۔ یا خود کو پا لوں گا یا پا کے خوف سے خود کو کھو بیٹھوں گا"
سین 3
فلیٹ کے دروازے پہ دستک ہوتی ہے۔ مہوش دروازہ کھولتی ہے
مہوش:"جس گھر کو چھوڑ کے گئ تھی وہ گھر خرید لیا میں نے"
دانش(اندر داخل ہوتے اور ہنستے ہوۓ):"تم آج بھی جزبات کی خریدوفروخت کو مانتی ہو۔"
مہوش:"کیا مجھے معافی نہیں مل سکتی؟"
دانش گھر کو پرنم آنکھوں سے دیکھتے ہوۓ:
"اس گھر کے درودیوار بے وفائ کی داستان سناتے ہیں۔ یہ وہ دروازہ ہے جہاں سے شہوار احمد آیا تھا یہ وہ ہے جہاں سے تم گئ تھیں۔ اس گھر کی ہر جگہ مجھے تمہیں اپنی وفا کی یاد دلانے اور تمہارا میری وفا کو بے وفائی کا صلہ دینے کی یاد دلاتی ہے"
مہوش:"دانش۔۔۔"
دانش:"کسی وفادار کے پیر میں بے وفائی کی زنجیر ڈال کر اسے اپنا نہیں بنایا جا سکتا مہوش۔"
مہوش:"ہم محبت کو پھر سے۔۔۔۔"
دانش:"زخم دینے والا زخم کی گہرائی نہیں جانتا۔میں سہہ گیا,میں نے معاف کر دیا تو یہ نہیں کہ سب ٹھیک ہو گیا۔۔۔مہوش۔۔۔تمہیں پتا ہے کہ میں یہاں کیوں آیا ہوں؟اس لیے۔۔۔کہ میں جان سکوں کہ میں کہاں ہوں۔۔۔آج اس۔۔۔بے وفائ کی چھت تلے میرے اندر کی وفا مجھے ڈس رہی ہے۔۔۔مہوش۔۔میں نے زندگی سے بڑھ کر تمہیں زندگی مانا تھا تو یہ سچ ہے کہ اس محبت کے ٹوٹنے کا غم اس چلتی سانس کے ساتھ رہے گا۔۔۔لیکن اس ٹوٹی محبت پہ اپنی بے وفائی کا مرہم نہ لگاؤ۔ میں رومی کو دیکھ کے اپنی محبت کا بھرم محسوس کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔۔۔تمہاری بےوفائ کا شکنجہ اتنا مضبوط ہے کہ میں کسی وفادار کی وفا کو پا نہیں سکتا۔۔۔یہ میری محبت کرنے کی سزا ہے۔ اگر میری وفا کا پاس رکھتی ہو تو میرے پاس نہ رہو۔"
یہ کہ کے دانش مہوش کو روتا چھوڑ کے نکل جاتا ہے
سین4
دانش واپسی پہ ہانیا کے گھر جاتا ہے
ہانیا:"رومی نے بتایا تھا آپ مہوش سے ملنے گۓ تھے۔"
دانش:"خود سے ملنے گیا تھا۔"
ہانیا:"تو پھر مل لیا۔۔۔کیسا لگا مل کر؟"
دانش:"مجھے وہاں جا کر احساس ہوا کہ میرا زخم میری سوچ سے زیادہ ہے لیکن اندر کا خوف کہ میں خود کو کھو بیٹھوں گا جا رہا ہے۔۔۔میں محبت کھو چکا ہوں اور خود کو پانے کی جانب ہوں۔"
ہانیا:"پھر میں خود کو کہاں پاؤں؟"
دانش:"بے وفائی کے شکنجے نے وفاداروں سے دور کر دیا ہے۔"
دانش انگوٹھی واپس کرتے ہوۓ:
"محبت نے مجھے اس زندگی میں تھکا دیا ہے۔۔۔بے وفائ کا شکنجہ کھلنے میں کہیں سانسوں کی ڈور نہ ٹوٹ جاۓ۔کسی کی بے وفائی کی سزا کسی وفادار کو نہیں دے سکتا۔۔۔میری رہائ کا انتظار ہو سکا تو کر لیں یا خود کو آزاد کر لیں"

پھر دانش اسی ساحل سمندر پہ پہنچتا ہے۔ مہوش عبادت کرتی دکھائی دیتی ہے اور ہانیا جھولے پہ گم سم بیٹھی ہوتی ہے۔۔۔
اور پھر پیچھے گانا چلتا ہے۔۔۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 237 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda Khair-ul-Bariyah

Read More Articles by Syeda Khair-ul-Bariyah: 15 Articles with 5843 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: