خاموش محبت

(Mohammed Masood, Nottingham)
وقت گزر جاتا ہے , اچھا بھی برا بھی , اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گِرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔

خاموش دوست
A father is a good friend.

جوانی میں انسان باپ کو شک کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے , جیسے باپ کو ہمارے مسائل ,تکلیفوں یا ضرورتوں کا احساس ہی نہیں . یہ نئے دور کے تقاضوں کو نہیں سمجھتا ۔ کبھی کبھی ہم اپنے باپ کا موازنہ بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ اتنی محنت ہمارے باپ نے کی ہوتی , بچت کی ہوتی , کچھ بنایا ہوتا ۔ تو آج ہم بھی فلاں فلاں کی طرح عالیشان گھر , گاڑی میں گھوم رہے ہوتے ۔
کہاں ہو ؟ کب آؤ گے؟ زیادہ دیر نہ کرنا؟ ابھی تک آیا کیوں نہیں؟ اتنی دیر سے کیوں واپس آیا ؟ جیسے سوالات انتہائی فضول اور فالتو سے لگتے ہیں ۔
سویٹر تو پہنا ہے کچھ اور بھی پہن لو سردی بہت ہے ۔ انسان سوچتا ہے کہ اولڈ فیشن کی وجہ سے والد کو باہر کی دنیا کا اندازہ نہیں ۔ اکثر اولادیں اپنے باپ کو ایک ہی معیار پر پرکھتی ہیں ۔
گھر ۔
گاڑی ۔
پلاٹ۔
بینک بیلنس۔
کاروبار اور اپنی ناکامیوں کو باپ کے کھاتے میں ڈال کر خود سُرخرو ہو جاتے ہیں ۔
ہمارے پاس بھی کچھ ہوتا تو اچھے اسکول میں پڑھتے ۔ کاروبار کرتے ۔
اس میں شک نہیں اولاد کے لئے آئیڈیل بھی ان کا باپ ہی ہوتا ہے لیکن کچھ باتیں جوانی میں سمجھ نہیں آتیں یا ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اس ليے کہ ہمارے سامنے وقت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دنیا سے مقابلے کا۔ وقت سے پہلے سب کچھ پا لینا ۔ دوسروں سے زیادہ پا لینا ۔ اور وقت سے پہلے سب کامیاباں پا لینے کا بھوت سوار ہوتا ہے ۔ جلد سے جلد سب کچھ پانے کی جستجو میں ہم کچھ کھو بھی رہے ہوتے ہیں ۔ جس کا احساس بہت دیر سے ہوتا ہے ۔
بہت سی اولادیں ۔ وقتی محرومیوں کا پہلا ذمّہ دار اپنے باپ کو قرار دے کر ہر چیز سے بری الزمہ ہو جاتی ہیں ۔
وقت گزر جاتا ہے , اچھا بھی برا بھی , اور اتنی تیزی سے گزرتا ہے کہ انسان پلک جھپکتے ماضی کی کہانیوں کو اپنے ارد گِرد منڈلاتے دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔
جوانی ۔
پڑھائی ۔
نوکری ۔
شادی ۔
اولاد ۔
اور پھر وہی اسٹیج۔ وہی کردار۔ جو نِبھاتے ہوئے۔ ہر لمحہ ۔
اپنے باپ کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ آ کر۔
باپ کی ہر سوچ۔
احساس فکر ۔
پریشانی۔
شرمندگی اور اذیّت کو ہم پر کھول کے رکھ دیتا ہے ۔
باپ کی کبھی کبھی بلا وجہ خاموشی ۔
کبھی پرانے دوستوں میں بے وجہ قہقہے ۔
اچھے کپڑوں کو ناپسند کر کے پرانوں کو فخر سے پہننا ۔ کھانوں میں اپنی سادگی پر فخر ۔
کبھی کبھی سر جُھکائے اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مگن ہونے کی وجہ ۔
کبھی بغیر وجہ تھکاوٹ کے بہانے سرِ شام بتّی بجھا کر لیٹ جانا ۔
کبھی نظریں جھکائے ۔
کبھی انتہائی محویت سے ڈوب کر قران کی تلاوت کرنا ۔
سمجھ تو آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن بہت دیر بعد ۔
جب ہم خود راتوں کو جاگ جاگ کر ۔
دوسرے شہروں میں گئے بچوں پر آیت الکرسی کے دائرے پھونکتے ہیں ۔
جب ہم سردی میں وضو کرتے ہوئے اچانک سوچتے ہیں ۔ پًوچھ ہی لیں۔ بیٹا آپ کے ہاں گرم پانی آتا ہے ؟
جب قہر کی گرمی میں رُوم کولر کی خنک ہوا بدن کو چُھوتی ہے تو پہلا احساس جو دل و دماغ میں ہلچل سی مچاتا ہے۔ وہ کہیں اولاد گرمی میں تو نہیں بیٹھی ۔
جوان اولاد کے مستقبل ۔
شادیوں کی فکر ۔
ہزار تانے بانے جوڑتا باپ ۔
تھک ہار کر اللّه اور اس کی پاک کلام میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔تب یاد آتا ہے ۔
ہمارا باپ بھی ایک ایک حرف ۔
ایک ایک آیت پر رُک رْک کر بچوں کی
سلامتی ۔
خوشی ۔
بہتر مستقبل کی دعائیں ہی کرتا ہو گا
ہر نماز کے بعد ۔
اُٹھے کپکپاتے ہاتھ ۔
اپنی دعاؤں کو بھول جاتے ہونگے ۔
ہماری طرح ہمارا باپ بھی ایک ایک بچے کو نمناک آنکھوں سے اللّه کی پناہ میں دیتا ہو گا ۔
سرِ شام کبھی کبھی ۔
کمرے کی بتّی بُجھا کر۔ اس فکر کی آگ میں جلتا ہو گا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے بہت کم کیا ۔
اولاد کو باپ بہت دیر سے یاد آتا ہے ۔
اتنی دیر سے کہ
ہم اسے چْھونے ۔
محسوس کرنے ۔
اسکی ہر تلخی ۔
اذیت ۔
فکر کا ازالہ کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں ۔
یہ ایک عجیب احساس ہے۔ جو وقت کے بعد اپنی اصل شکل میں ہمیں بے چین ضرور کرتا ہے ۔
لیکن یہ حقیقتیں جن پر بر وقت عیاں ہو جائیں وہی خوش قسمت اولادیں ہیں ۔
اولاد ہوتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں
باپ کا چھونا ۔
باپ کا پیار کرنا ۔
باپ کا دل سے لگانا ۔
یہ تو بچپن کی باتیں ہیں ۔
باپ بن کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ۔
پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ۔
ہمیں چھاتی سے لگانے کو بازو کھولے ہونگے ؟
پتہ نہیں باپ نے کتنی دفعہ دل ہی دل میں ۔
پیار کے لئے اس کے ہونٹ تڑپے ہونگے ؟
اور ہماری بے باک جوانیوں نے اسے یہ موقع نہیں دیا ہو گا
ہم جیسے درمیانے طبقے کے سفید پوش لوگوں کی
ہر خواہش ۔
ہر دعا ۔
ہر تمنا ۔
ہمارے دل سے نکلی ہوئی دعا ۔
اولاد سے شروع ہو کر۔ اولاد پر ہی ۔
ختم ہو جاتی ہے ۔

لیکن کم ہی باپ ہوں گے جو یہ احساس اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں دلا سکے ہوں ۔
یہ ایک چُھپا ۔
میٹھا میٹھا درد ہے جو باپ اپنے ساتھ لے جاتا ہے ۔
اولاد کے ليے بہت کچھ کر کے بھی کچھ نہ کر سکنے کی ایک خلش ۔
آخری وقت تک ایک باپ کو بے چین رکھتی ہے ۔
اور یہ سب بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے ۔
جب ہم باپ بنتے ہیں ۔ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں ۔
تو باپ کے دل کا حال جیسے قدرت ہمارے دلوں میں منتقل کر دیتی ہے ۔
اولاد اگر باپ کے دل میں اپنے لئے محبت کو کھلی آنکھوں سے وقت پر دیکھ لے ۔
تو شاید اسے یقین ہو جائے کہ دنیا میں باپ سے زیادہ اولاد کا کوئی دوست نہیں ہوتا ۔ 🤔

فی ایمان اللہ
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 253 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammed Masood

Read More Articles by Mohammed Masood: 56 Articles with 84692 views »
محمد مسعود اپنی دکھ سوکھ کی کہانی سنا رہا ہے

.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: