پاکستانی سیاست میں موجود افراتفری۔۔۔سبب کیا

(A R Tariq, )

پاکستانی سیاست پر آج کل نااُمیدی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ہرطرف حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ’’دھڑن تختہ‘‘کی باتیں زور وشور سے جاری ہیں۔چند ایک چوٹی کے سیاستدان کہہ رہے ہیں کہ حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔بیشتر بے صبرے سیاستدان باقاعدہ بے قرار ہوئے گورنمنٹ کے جانے کے دن بھی گنوانے لگے ہیں۔کچھ مذہبی سیاستدان بھی ہاتھوں میں تسبیح پکڑے حکومت اب گئی کاورد کیے اِس متعلق مختلف پشین گوئیاں کرتے حکومت کی کمزور صورتحال پر شاداں و فرحاں دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت کی اہم تحادی جماعت بی این پی کی لڑکھڑاتی صورتحال اور ایم کیو ایم کے ایک رکن کی کابینہ سے اچانک علیحدگی نے تو اُن کے تن مردہ میں ایک جان سی ڈالے اُن کی مردہ سیاست میں ایک نئی تحریک اور تازہ رُوح پھونک دی ہے ۔ حکومت کی کمزور پوزیشن اور یار مناؤ کوششوں نے اُن کے ہاسیں چھڑادئیے ہیں اور اُن کے لیے چنددن کاہنسی کا سامان بنادیاہے کہ جس کا چرچا آج ہر سو نظر آتا ہے۔ملک کی دو بڑی پارٹیاں اپنے ماضی سے بے خبر ہوئے ،حال میں کیا ہوا،کیسے پھنسے اور کیسے چھوٹے سے بے نیاز ہوئے اب سب بھولے یا شاید سب یاد کیے اپنی اِس ندامت وشرمندگی کی تلخی کو مٹانے کے لیے سب جانتے ہوئے بھی کہ کچھ ہوابھی نہیں اور جشن منانے بیٹھی ہوئی ہے۔خود کوکسی نہ کسی طرح اپنی تمام تر کرپشن پر منت ترلوں کے بعد چھوٹ جانے کے بعداب قوم کوبھی اِس اپنی مصیبت میں مبتلاکرناچاہتی ہیں۔چاہتی ہیں کہ وہ تو فضول میں ناچ ہی رہے ہیں ۔قوم بھی اُن کو حال وبے حال ہوئے ناچتا دیکھ کر اُن کی طرح اُن جیساناچے ،اُن کی طرح BEHAVE کرے۔مہنگائی ،بے رُوزگاری میں پسی ہوئی عوام اِن کے چھوٹ جانے پر شادمیانے بجائے۔آخرکیوں؟اِنہوں نے قوم کے لیے ایسا کیا کیا ہے کہ قوم اِن کے لیے ناچے،خوشیاں منائے ،جشن کا سماں باندھے۔قوم کو اِس حال تک پہنچانے والے یہ خون چوس درندے عوام سے کیسے اُمید باندھتے ہیں کہ عوام اِن کو ویلکم کرے اور اِن کے کہے بولے پر چلے۔آخراِنہوں نے عوام کو ایسا دیاہی کیاہے جو اب اِس گئی گزری حالت میں بھی اپنے اقتدار کے لیے عوام سے اُمیدیں باندھے اُس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔اپنے اقتدار کے دنوں میں عوام کا خون چوسنے والے ،پاکستانیوں کو اِس حال تک پہنچانے والے،بے انتہا ء مقروض کرنے والے،سوددرسود قوم کو اغیار کے جالوں میں پھنسانے والے،چالیس سال مسلسل قوم کو لوٹنے والے،اپنے لیے سب کچھ بنانے والے،قوم کے لیے کچھ نہ کرنے والے،اپنی اُولادوں کے لیے بیرون ملک کے اعلیٰ سکول،کالج،یونیورسٹیاں منتخب کرنے والے،پاکستانی بچوں سے ٹاٹ سکول بھی چھین لینے والے اور سب کچھ چھین کر ملک وملت کویتیم ،لاوارث،بے آسرا،دیوالیہ کرنے والے اب کس منہ سے قوم کے حقوق و فرائض کی باتیں کررہے ہیں۔قوم کو تعمیروترقی کانام لیے اب کون سابھاشن دینے والے ہیں۔قوم کے سامنے اپنی کس بے گناہی کا رُونا رُوناچاہتے ہیں۔مفاہمت کے ذریعے سے ہربار ہرکیس و معاملہ سے جان چھڑالینے والے اب قوم سے کون سی گھڑی ہوئی کہانیاں بیان کرنے والے ہیں۔اپنے پرہوئی کون سی زیادتیاں،ناانصافیاں قوم کو یاد کروانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔آخر قوم کو بتانا کیا چاہ رہے ہیں۔وہ کون سی فلم ،کہانی ،تھیٹر،ڈرامہ اسکرپٹ باقی رہ گیا ہے جو اب جاکربھی مظلوم و محکوم قوم کو بتانا ضروری رہ گیا ہے اور یہ کہ آخر بائیس کروڑ عوام سے زیادہ اِن ہی کی کہانیاں ہی اِتنی طویل اور لمبی کیوں ہوتی ہیں کہ اِن کی نا ختم ہونے والی کرپشن کی طرح ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ہیں۔عوام کو آخر کیا عذاب آن پڑاہے کہ اُنہیں اِن کی کہانیاں ہی ہربار سننے کو ملتی ہیں۔اَن کے کے دکھڑے توکوئی نہیں سنتا۔اِن کی مہنگائی ،بے رُوزگاری سے ماری حالت پرتو کوئی ترس نہیں کھاتا۔اِن کے حقوق وفرائض پرتو کوئی بات نہیں کرتا۔عوام کیا چاہتی، کوئی بھی جاننا نہیں چاہتا۔ہر طرف اپنی ہی پڑی ہوئی ہے ۔اقتدار سے لے کر نیچے تک۔آپ نے اپنے اقتدار میں عوام کے لیے ایسا کیا ہی کیا ہے جو بیان کرنے کے قابل ہے۔ایسا کیا تیر ماراہے کہ جس کا بلندبانگ چرچا کیا جائے۔ملک میں ایسی کیا دودھ اورشہد کی نہریں بہادیں ہیں کہ جسے زیرموضوع لیاجائے۔عوام کے لیے کوئی مخلص نہ تھا۔سب کو اپنی ہی پڑی اپنی ہی تجوریاں بھرنے کی فکرتھی۔غریب کون ہے اور کہاں ہے ۔کسی نے بھی اِس جانب توجہ نہ دی۔ افسوس آپ میں سے کوئی بھی عوام سے مخلص نہ تھا۔اپنے لیے ہر جگہ ہر محفل مختلف نوع کے درجنوں اقسام کے لذیزکھانے اور قوم کے لیے سڑتے تنور اور لمبی لائنیں۔اپنے لیے ڈالروں میں تنخواہیں اور اپنے تحت بسنے والوں کے لیے کھچی کھچی مزدوری۔ اپنے لیے بڑی بڑی گاڑیاں،پروٹوکول اور جی حضوری کا سب سامان اور غریب کے لیے جینے کابھی حق بھی نہ رہنے دیا۔آپ کے دور میں سب فیکٹریوں میں تنخواہ گورنمنٹ اسکیل کے مطابق،آپ کی فیکٹریوں میں کتنی تھی ،بتانا پسند کریں گے۔بات کرتے ہیں مہنگائی ،بے روزگاری اور عوام کے حقوق و فرائض کی ۔ڈوب کے مر جاؤ،اگر قوم کے لیے حقیقی طور پر کچھ کیا ہوتا تو آج آپ کا حال یہ نہ ہوتاجوساری قوم نے دیکھا اور جانا۔قوم کے لیے حقیقی مسیحائی کی ہوتی تو آج لندن کی سڑکوں اور ہسپتالوں کے کمروں میں قید تنہائی نہ کاٹ رہے ہوتے۔قوم کے اصلی رہبر ورہنماء ہوتے تو یوں بے سمت ،بے راہ ہوئے اپنے دیس سے دور ہوئے نہ پھرتے۔قوم کو اُٹھاتے۔کرپشن کی داستانیں نہ چھوڑتے۔یوں اہل وعیال سمیت نہ بھاگتے بلکہ اِسی ملک میں رہتے۔ قوم کے بچوں کا خیال اپنے بچوں کی طرح اگر رکھاہوتا تو آج آپ کے بچوں کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ ہم اِس دیس کے باسی نہیں۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس دیس میں پیدا ہوئے ،جس میں بڑھے پھولے،جس کی آزاد فضاؤں میں جوان ہوئے ،اُسی سے انکاری ہوگئے۔یہ کچھ بھی نہیں ہے۔آپ کے سیاہ کارناموں کی داستان ،آپ پر ایک تاریخی دھبہ اور جرم عظیم ہے جو آپ کو آپ کی مت ماری حالت میں آپ کی اُولاد کی جانب سے تحفے میں ملا۔آپ کو بہتر اور اچھا کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے۔قوم کیاکرے۔قوم تو آپ کے چھپے ہوئے سیاہ کارنامے سامنے آنے پر اب تک ہلکان ہوئی پڑی ہے کہ کن کو رہنماء جانا ،کن پر اعتبار کیا،افسوس کررہی ہے۔یہ جو آپ کے اردگرد کچھ مٹھی بھر لوگ آپ کو نظر آتے ہیں آپ کے ہی چمچے کڑچھے ہیں۔ ظالم اور پیٹ بھرے ہوئے،ہوبہو آپ جیسے۔جن کی نیا آپ کی لٹیا ڈوب جانے سے اِن کابھی سب کچھ بہاکر لے گئی ہے۔یہ آپ کو نہیں رو رہے۔انہیں اپنا غم ہلکان کیے پریشان کیے ہوئے ہے۔اِن کو صدمہ یہ نہیں کہ آپ چلے گئے ،۔اِن کو غم یہ ہے کہ اِن کے پاس کچھ نہیں رہایہ کہ سب کاموں سے ہاتھ دھوئے اب کسی کام کے نہیں رہے۔یہ جو لوگ ایک بار پھر حکومت جانے کی خوشخبریاں دے رہے ہیں اور کچھ پھر سے حکومت مخالف مظاہروں اور دھرنوں کی بات کر رہے ہیں۔اِن سے صرف اتناہی کہنا ہے کہ تم اپنا پورا زور بھی لگالو تو حکومت کہیں جانے والی نہیں۔روتی پیٹتی ،لڑکھڑاتی،ہچکولے کھاتی ،ڈوبتی ہوئی حالت میں بھی اپنے پانچ سال پورے کر کے ہی جائے گی۔اِس لیے کہ عوام سمجھتی ہے کہ اگر عمران خان اُنہیں تمام ترکوششوں سے کچھ نہیں دے پایاتو نوازشریف حکومت نے کون سا اُن کو کچھ دے دیاتھا۔عوام کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اُنہیں حکومت سے کیا ملنے والا ہے یہ تو ایک پراسس ہے جو ایک ملک کوچلانے کے لیے ضروری ہوتا ہے سوچل رہا ہے اِس سے ایک عام آدمی کو کیا لینا دینا۔اُن کی قسمت میں تو نواز زرداری دور میں بھی ’’دیہاڑی دپا‘‘کرنا لکھاتھا اب عمران حکومت میں بھی ’’دیہاڑی دپا‘‘ہی کرنا اور یہ کہ اگر ملک میں پہلے سے موجود قیمتی وسائل،معدنیات،دھاتیں اُس کی قسمت نہیں سنوار سکی تو اب کے آنے والا گیم چینجر منصوبہ’’ سی پیک ‘‘کون سا اِن کو چار چاند لگانے والا۔غریب کی قسمت میں رُلنا لکھا ہے سو وہ رُل رہاہے۔غریب کے لیے یہ چیزیں کوئی معنی نہیں رکھتی کہ نوازو زرداری آئے یا عمران۔اُنہیں تو فائدہ کسی سے نہیں ہوا نہ ہورہا۔یہ جو ملک میں سیاسی افراتفری مچی ہوئی ہے ۔سیاسی طوطے بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں اورمہنگائی ،بے روزگاری پر واویلا مچارہے ہیں۔یہ غریب کے لیے ایسا نہیں کررہے ۔غریب کے لیے ایک سال کے سارے ماہ ودن ایک جیسے ہوتے ہیں مایوسیوں اور پریشانیوں سے گھرے ہوئے۔وہ اﷲ اﷲ کرکے سارے دنوں سے توفیق اﷲ سے نمٹ لیتے ہیں۔اصل مسئلہ تو اُن لوگوں کا ہے جو کچھ بھی نہیں کرتے،نہ کام کے نہ کاج کے ،دشمن اناج کے ۔اپنی مفت کی افسریاں کھوجانے پر ہرسو صف ماتم بچھائے پہلے سے مایوس اور مختلف اندیشوں میں گھری ہوئی بے یقین سی عوام میں عجیب طرح کی ہلچل مچائے مافیا کا روپ دھارے اُنہیں آوازار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ملک عزیزمیں موجود سارے شوروغل کا باعث یہی ننگ ملک وملت لوگ ہیں جواپنا سکون تو برباد کیے ہی ہوئے ہیں قوم کا سکھ چین بھی چھیننے کے درپے ہیں۔
؁َ
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 88 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A R Tariq

Read More Articles by A R Tariq: 47 Articles with 9877 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: