چاند کا بوڑھا

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر عائشہ یاسین
آج سے صدیوں پہلے کا ذکر ہے کہ جاپان میں کسی جگہ لومڑ، بندر اور خرگوش رہتے تھے۔ ان کی آپس میں بہت گہری دوستی تھی۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا تو باقی دو اس کو کھانے کے لیے کچھ دیتے۔ اسی طرح وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے۔

ایک دن چاند پر رہنے والے بوڑھے نے زمین پر دیکھا۔ اس کی نظر ان تینوں پر پڑی۔ وہ بہت خوش ہوا اور دل ہی دل میں کہنے لگا۔ کتنے اچھے ہوتے ہیں وہ لوگ جو پیار اور محبت سے زندگی گزارتے ہیں۔ یہ تینوں بہت گہرے دوست ہیں لیکن یہ دیکھا جائے کہ ان میں سب سے زیادہ رحمدل کون ہے؟ ان کا امتحان لینا چاہیے۔

یہ سوچ کر دوسرے دن وہ فقیر کا بھیس بدل کر اس جگہ پہنچا جہاں بندر، لومڑ اور خرگوش رہتے تھے۔ اس نے کہا،’’میں تین دن سے بھوکا ہوں۔ اﷲ کے لیے مجھے کچھ کھانے کو دے دو۔‘‘

خرگوش، بندر اور لومڑ ایک ساتھ بولے ’’بابا! آپ یہاں بیٹھیں، ہم آپ کے لیے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔‘‘
تھوڑی دیر بعد بندر بہت سارے پھل اور لومڑ دریا سے ایک بڑی سی مچھلی شکار کر کے لے آیالیکن خرگوش بے چارے کو ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی جو وہ بوڑھے فقیر کے لیے کچھ کھانے کو لا دے۔ خرگوش نے بندر سے کہا،’’بندر بھیا! میرے لیے کچھ لکڑیاں تو اکھٹی کردو۔ بندر نے بہت ساری لکڑیاں لادی۔ پھر اس نے لومڑ سے کہا،’’بھیا آپ ذرا ان کو آگ تو لگا دو۔ ‘‘ لومڑ نے لکڑیوں کو آگ لگا دی۔
خرگوش نے روتے ہوئے چاند کے بوڑھے فقیر سے کہا،’’بابا! میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔ بندر اور بھیا لومڑ آپ کے لیے کچھ لائے لیکن میں آپ کے لیے کچھ نہ لا سکا۔ اس لیے میں اپنے آپ کو آگ میں ڈال رہا ہوں۔ جب خوب اچھی طرح پک جاؤں تو نکال کر کھا لینا۔ ‘‘ یہ کہہ کر خر گوش آگ کی طرف دوڑا لیکن چاند کے بوڑھے نے اسے پکڑ لیا اور ان تینوں سے کہنے لگا:

’’پیارے دوستو! میں تمہارا امتحان لینے آیا تھا۔ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ تم تینوں امتحان میں کامیاب ہوگئے لیکن تم میں سب سے زیادہ رحمدل اور مہربان ننھا خرگوش نکلا۔ اس لیے میں اسے اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔‘‘

یہ کہہ کر بوڑھا خرگوش کو چاند پر لے گیا۔ اگر آج بھی آپ چمکتے پورے چاند کو غور سے دیکھیں گے تو آپ کو ایک خرگوش نظر آئے گا جو صدیوں پہلے چاند کے بوڑھے کے ساتھ گیا تھا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 314 Print Article Print
 PREVIOUS
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1148 Articles with 389180 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: