شاہ ہست حسینؓ

(Sultan Shaheen, )

ہر لب پہ تذکرہ امام حسین کا
کیاشان مرتبہ ہے امام حسین کا
جناب محمد امین ساجد سعیدی جنہوں نے گزشتہ سال اپنے نعتیہ کلام مدینہ یا د آتا ہے پر قومی صدارتی سیرت ایوارڈ حاصل کیا ۔ اب انہوں نے اپنی نئی کتاب شاہ ہست حسین سے دنیا کو سرفراز کیا ہے۔ اس پر خراج تحسین کے مستحق ہیں انہوں نے ایک نئے زاویے ، نئے انداز ، نئے اسلوب اور شاعری کے ایک انتہائی منفرد پہلو سے اپنی تخلیق پیش کی ہے ۔128 صفحات پر مشتمل اس کتاب کے ابتدائی سترہ صفحات پر نامور دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں نے جناب محمد امین ساجد سعیدی کے علمی، فنی، ادبی، روحانی محاسن اور شاعرانہ انداز کااجمالی جائزہ لیتے ہوئے انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس پر علمی جائزہ پیش کرنے والے پانچوں نامور قلم کاروں کے نام میں ریاض نام مشترک ہے۔ جیسا کہ جناب پروفیسر ریاض احمد قادری فیصل آباد ،جناب پروفیسر ریاض احمد شیخ لاہور، جناب ڈاکٹر ریاض مجید فیصل آباد، جناب سید ریاض حسین زیدی صدارتی سیرت ایوارڈ یافتہ ساہیوال اور جناب ریاض ندیم نیازی سبی ۔ اب اس کا پس منظر یا معرفت و حقیقت صاحب کتاب ہی بہتر جانتے ہوں گے ۔ جناب سید حامد سعید کاظمی نے اپنے ایک مکتوب کے ذریعہ صاحب کتا ب کو مبارکباد دی ہے۔ جناب محمد امین ساجد سعیدی نے اپنی کتاب کا آغازدس اشعار کی حمد سے کیا ہے۔شعر ملاحظہ ہو۔
ہر سو تیرا نور تجلی مرے اﷲ
کتنا ہے حسیں عرش معلی مرے اﷲ
اس کے بعد اکتیس اشعار پر مشتمل مدحت سرور کونین ﷺ پیش کی ہے ۔
شاہ ہست حسین میں کل بیالیس منقبتیں اور پنجابی زبان میں بھی کلام پیش کیا گیاہے علاوہ ازیں شاعر نے اس میں سات منقبتیں امام علی المرتضی رضی اﷲ عنہ کی شان میں بیان کی ہیں ایک آٹھ اشعار کی منقبت سیدۃ النساء حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنھا کی شان میں اور ایک منقبت حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ کی شان میں پیش کی ہیں۔ محرم کے مہینے کی مناسبت سے بھی کلام پیش کیا ہے باقی انتالیس منقبتیں امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کے حضور نذرانہ کی ہیں۔ اس کتاب کی یہ خاصیت ہے کہ اس کی ہر منقبت ، ہر شعر بلکہ ہر لفظ شاعر نے اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔اور ایک دل فریفتہ چمنستان سخن وجود میں لاکر بارگاہ حسینیت میں قبولیت کا شرف حاصل کیا ہے۔ شعر ملاحظہ ہو۔
توقیر اس کی بڑھ گئی سارے جہان میں
جو دل سے ہو گیا ہے امام حسین کا
جناب محمد امین ساجد سعیدی تو خوش قسمت ہیں ہی جنہیں یزداں نے شان خانوادہء رسول ﷺ کے اوصاف جمیلہ کی روشنی قلم و قرطاس کے ذریعہ اہل دنیا پر اجاگر کرنے کا امین بنایا۔ لیکن یہ خاکسار خود کو بھی خوش قسمت سمجھتا ہے۔ جسے اس گراں قدر تخلیق پر حاشیہ آرائی کی سعادت نصیب ہوئی۔ میری کم علمی اور کم مائیگی کے باوجود اﷲ تعالی نے مجھ پر کرم کیا کہ میں شاہ ہست حسین پر اپنے دلی جذبات، عقیدت اور محبت کے پھول پیش کر سکوں۔ اس کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں اس روح پرور سوغات کے شایان شان حق ادا نہیں کر پایا۔ البتہ جس جس خوش قسمت نے شاہ ہست حسین کے دربار میں شرف باریابی حاصل کر لیا۔ ان کے ساتھ اس عاجز کی نسبت ، چاہت اور تعلق کا کمال ہوسکتا ہے جس کی بدولت اس قابل ٹھہرا۔ اس عالم آب و گل میں اذن باریابی کے حامل سچے عاشق اہل بیت جناب محمد امین ساجد سعیدی کے ساتھ مجھے اکثر نشست و برخاست کے مواقع میسر آئے۔ یوں تو صاحب کتاب کا سار ا کلام ہی باکمال شاعری اور جذبات کا مرقع ہے۔ایک ایک شعر میں ہی ہست و نیست کے راز پوشیدہ نظر آتے ہیں ۔ شعر ملاحظہ ہو۔
حسین کا جو بھی ہوگیا
حسین اس کا ہی ہو گیا۔
کچھ مزید اشعار ملاحظہ کریں۔
حسین حق کا اصول ٹھہرا
حسین خون رسول ٹھہرا
حسین جگر بتول ٹھہرا
حسین جنت کا پھول ٹھہرا
حسین صبر رضا کا پیکر
حسین جرائت کا ہے سمندر
حسین کی دھوم ہر گلی ہے
حسین جلوہ نما علی ہے
کلام کی روانی، خوبصورت لفظوں کا چناو اور اسلوب نگارش نہایت شاندار ہے۔ قاری جب پڑھنا شروع کرتا ہے تو یوں لگتا ہے زبان دودھ اور شہد کی مٹھاس سے لبریز ہوگئی ہے۔ اور روانی ایسی کہ من کے سوتے جاگ اٹھیں کتاب بند کرنے کو من ہی نہ کرے۔ چیدہ چیدہ اشعار دیکھئے ۔
کیا پوچھتے ہو ہم سے فضیلت حسین کی
اﷲ جانتا ہے حقیقت حسین کی
جنت کا در کھلے گا اسی شخص کے لئے
دل میں رکھے گا جو بھی مودت حسین کی
ایک اور جگہ لکھتے ہیں۔
شہزادہ ء رسول کو میرا سلام ہو
جان دل بتول کو میرا سلام ہو
سر دے دیا یزید کی بیعت نہ کی قبول
شبیر بااصول کو میرا سلام ہو۔
جناب محمد امین ساجد سعیدی کی نعتوں کے مجموعے مدینہ یاد آتا ہے کی طرح اس کتاب شاہ ہست حسین کا سرورق بھی نہائت حسین اور جاذب نظر ہے کلام کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ بلکہ ان کے ایک ایک شعر پر سیر حاصل مضمون باندھا جاسکتا ہے۔ صاحب کتاب نے شاعری کا منفرد انداز اپنا کر جہان سخن میں ایک ہلچل پیدا کردی ہے۔
دل روح جسم اور مری جان یاحسین
قدموں میں آپ کے سبھی قربان یا حسین
جناب محمد امین ساجد سعیدی جہان حاضر کو اپنی عظیم تخلیق شاہ ہست حسین پیش کرکے سرخرو ہوگئے۔ اﷲ تعالیٰ ان کی اس ترقیء سخن کومزیدروحانی کمالات سے سرفراز فرمائے۔
جناب محمد امین ساجد سعیدی کی خانوادہء رسول سے عقیدت و محبت کو سلام ہے۔ آپ کی یہ مکمل کتاب اتنی دل نشیں، روح پرور اور جمالات و کمالات سے مزین ہے کہ ساری کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی تشنگی برقرار رہتی ہے اور بے قراریء دل مقام قرار کے حصول کے لئے اپنا سفر جاری رکھنے پر مستعد رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کتاب ختم ہو جاتی ہے۔ ماشاء اﷲ کیا تخلیق اور کلام ہے خوبصورت پھولوں کا سجایا ہوا ایک گلدستہ ہے ۔ شاعر کے اشعار بولتے اور لفظ کلام کرتے جسم و جاں میں معطر فضا پیدا کرتے ہوئے ایک احساس دلفریب اور مقام بندگی سے آشنا کرتے ہیں۔ شاعر رمز شناسا کو اس ارفع و اعلی تخلیق پر مبارکباد پیش کرتاہوں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 205 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sultan Shaheen

Read More Articles by Sultan Shaheen: 10 Articles with 3781 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: