منظورپشتین کی گرفتاری اوراشرف غنی کی پریشانی

(Umer Farooq, )

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کی گرفتاری پرواویلامچاہواہے ،حیران کن امریہ ہے کہ اس گرفتاری پرافغان صدراشرف غنی کے پیٹ میں بھی مروڑاٹھاہے اورانہوں نے تمام ترسفارتی آداب کوبالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کے خلاف بیان داغ دیا اشرف غنی نے کہاکہ میں منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کی خبر سے بہت پریشان ہوں۔ میں اس حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کیے جانے والے اظہار تشویش میں برابر کا شریک ہوں اور ان کی جلد رہائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔

اشرف غنی ایک آزادملک کے قانون کے مطابق اپنے ہی شہری کے خلاف کاروائی پرپریشان ہے مگراس کواپنے ملک کی فکرنہیں جہاں لاکھوں پشتونوں کوبغیرکسی جرم کے شہیدکردیاگیا لاکھوں افراد کومعذوراوربے گھرکردیاگیا بغیرکسی قانون اورقاعدے کے رات کی تاریکی میں امریکی ڈرون حملوں میں معصوم بچوں ،خواتین اوربوڑھوں کونشانہ بنایاگیا امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے اشرف غنی ،حامدکرزئی جیسے کٹھ پتلیوں کوبتائے بغیرافغانستان میں سینکڑوں آپریشن کیے ،غیرقانونی ٹارچرسیل قائم کیے ،پشتونوں کو بدنام زمانہ گوانتاناموبے جیسے عقوبت خانوں میں ڈال کران سے جانوروں سے بھی بدترسلوک کیا ،اس وقت بھی ہزاروں افغان امریکہ کے ٹارچرسیلوں میں ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں مگراشرف غنی کی غیرت نہیں جاگی اشرف غنی کبھی پریشان نہیں ہوا۔ آخرکیوں ؟

اس کیوں کاجواب ہمیں ان سوالات سے ملتاہے جوپاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے گزشتہ سال 29 اپریل کو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اور اس کے رہنماؤں سے کیے تھے۔ میجر جنرل آصف غفور نے پی ٹی ایم کے رہنماؤں سے پوچھا تھاکہ افغان انٹیلی جنس ادارے این ڈی ایس اور بھارتی ایجنسی را کی جانب سے پی ٹی ایم کو کتنی فنڈنگ دی گئی اور کیوں دی گئی؟پی ٹی ایم کے لوگ بیرون ملک دوروں پر پاکستان مخالف لوگوں سے کیوں ملتے ہیں؟پہلے آپ آپریشن کی حمایت کرتے تھے، بعد میں مخالفت کیوں؟پی ٹی ایم اور ٹی ٹی پی کا بیانیہ ایک جیسا کیوں؟آپ لوگوں کو فوج سے لڑنے کا کہتے ہیں، ٹی ٹی پی آپ کے حق میں بیان کیوں دیتی ہے؟لر و بر کا کیا مقصد ہے؟ آپ پاکستان کا حصہ ہیں یا افغانستان کا؟ ایس پی طاہر داوڑ افغانستان میں شہید ہوئے، حکومت پاکستان افغان حکومت سے بات چیت کر رہی تھی تو آپ کس حیثیت میں (افغان حکومت)سے بات کررہے تھے کہ لاش حکومتی نمائندوں کو نہ دی جائے، آپ نے کس حیثیت میں کہا کہ ان کے قبیلے کو میت دی جائے؟پی ٹی ایم نے ان سوالات کے تاحال جوابات نہیں دیئے ہیں یہ صرف سوالات ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے سازشوں کے وہ جال ہیں جوملک کے خلاف بچھائے گئے ہیں ہرسوال بتارہاہے کہ پی ٹی ایم کامشن کیاہے اوروہ کس کی ایماء پریہ ساراکھیل کھیل رہی ہے اور اشرف غنی کی پریشانی بھی ان سازشوں کوعیاں کررہی ہے ۔

بات صرف اشرف غنی کی ہی نہیں بلکہ ملک اوربیرون ملک ایک لابی چیخ وپکارکررہی ہے جس سے واضح ہورہاہے کہ ان کاایجنڈہ پختونوں کے حقوق کاتحفظ نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے خلاف مذموم سازشیں کرناہے اس لابی کے ساتھ موم بتی مافیابھی شامل ہے جوایک گرفتاری پرسیخ پاہے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ملک ایک آئین کے تابع ہے جس کے تحت پورانظام چل رہاہے اس کے ساتھ ساتھ ملک کی عدلیہ آزادہے اس عدلیہ نے تاریخی فیصلے کیے ہیں جوعدلیہ ملک کے وزیراعظم کوکھڑ ے کھڑے نااہل کرسکتی ہے جوعدلیہ ملک کے سب سے طاقتورادارے کے سربراہ کی ایکسٹینشن روک سکتی ہے،جوعدلیہ سابق آمرکوپھانسی کی سزادے سکتی ہے اوررجوجج پرویزمشرف کی لاش کوڈی چوک میں لٹکانے کاحکم دے سکتے ہیں ایسی عدلیہ کے ہوتے ہوئے یہ کس طرح سمجھ لیاجائے کہ منظورپشتین کے ساتھ ناانصافی ہوگی ؟

جہاں تک منظورپشتین پرالزامات کاتعلق ہے توپولیس کے مطابق 18 جنوری کو ڈیرہ اسمعیل خان میں سٹی پولیس تھانے میں پی ٹی ایم کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 506 (مجرمانہ دھمکیوں کے لیے سزا)، 153 اے(مختلف گروہوں کے درمیان نفرت کا فروغ)، 120 بی(مجرمانہ سازش کی سزا)، 124 (بغاوت) اور 123 اے (ملک کے قیام کی مذمت اور اس کے وقار کو تباہ کرنے کی حمایت) کے تحت درج کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق 18 جنوری کو ڈیرہ اسمعیل خان میں منظور پشتین اور دیگر پی ٹی ایم رہنماؤں نے ایک جلسے میں شرکت کی جہاں پی ٹی ایم سربراہ نے مبینہ طور پر کہا کہ 1973 کا آئین بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔

عجیب بات ہے کہ پی ٹی ایم کے لوگ ایک طرف آئین کونہ ماننے کی بات کرتے ہیں تودوسری طرف اس کے دوایم این اے اسی آئین کی پاسداری کاحلف اٹھاکراسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں یہ منافقت کب تک چلے گی ؟منظورپشتین پاکستانی شہری ہے مگرمظاہرے افغانستان میں ہورہے ہیں منظورکی گرفتاری پاکستان کے قانون کے مطابق ہوئی ہے مگرجرمنی ،فرانس اورامریکہ میں بیٹھے افغانیوں کوتکلیف ہورہی ہے ، ،امریکہ نے سینکڑوں ڈرون حملوں میں قبائلی عوام کوشہیدکیا مگرمجال ہے کہ یہ نام نہادلیڈراس وقت باہرنکلے ہوں بلکہ جب تحریک نفاذشریعت محمدکے سربراہ صوفی محمدکوآئین کونہ ماننے پرگرفتارکیاگیا تواس موم بتی مافیانے خوشی کے شادیانے بجائے ،لال مسجدکے مولاناعبدالعزیزکوآئین نہ ماننے پرنشانہ بنایاگیا تواسی سیکولرزمافیانے اس وقت مطالبہ کیاکہ ان مذہبی شدت پسندوں کومکمل بیخ کنی کی جائے، پختونوں کے حقوق کی تحفظ کانعرہ لگانے والے وہ اس وقت کہاں تھے جب قبائلی علاقوں کے لوگوں کے گلے کٹ رہے تھے اور ان کے سروں سے فٹ بال کھیلا جارہا تھا۔ ؟

دہشت گردی کے پیچھے وردی کازہرآلود نعرہ لگاکرمعصوم پشتونوں کے ذہنوں کوخراب کرنے والوں کویادرکھناچاہیے کہ قبائلی علاقوں میں پاک فوج نے ایک طویل جنگ لڑی ہے وہاں پشتون نہیں صرف دہشت گردمارے گئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران پاک فوج کے ہزارں نوجوان شہیدہوئے جن میں کراچی کا جوان بھی تھا، سیالکوٹ کا تھا، لیاری، کشمیر، بلوچستان کا بھی تھا،ریاست کسی بھی غیرملکی ایجنڈے اورایجنٹ کے ہاتھوں اپنی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دے گی ۔

ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی ایم کوغیرملکی فنڈنگ واضح شواہدموجود ہیں 22 مارچ 2018 کو این ڈی ایس نے انہیں احتجاج جاری رکھنے کے لیے بھاری رقم فراہم کی ،اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں سب سے پہلے دھرنے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' نے پی ٹی ایم کو معاوضہ فراہم کیا،8 اپریل 2018 کو قندھار میں قائم بھارتی قونصل خانے میں منظور پشتین کا ایک رشتے دارگیا،اوروہاں سے ہدیہ وصول کرکے پاکستان پہنچایا؟ 8 مئی 2018 کو جلال آباد میں قائم بھارتی قونصل خانے نے طورخم میں احتجاجی ریلی کے لیے رقم فراہم کی مگر پی ٹی ایم نے یہ کبھی بھی نہیں بتایاکہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور کہاں سے آرہاہے ۔؟

بدقسمتی سے نیشنل ایکشن پلان اور اکیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے صرف دینی مدارس اورمذہبی جماعتوں کو نشانے پہ رکھا گیا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ مغرب سے مفادات حاصل کرنے والا یہ طبقہ اپنے میڈیائی اور سماجی ومالیاتی اثر ورسوخ کی بنا پر اس جنگ کو اسلام اوردینی اداروں کے خلاف مرکوزومؤثر کرنے پر مصر ہے جس کی وجہ سے پی ٹی ایم جیسی تنظیموں کوموقع ملاکہ وہ اپنامذموم ایجنڈہ آگے بڑھائیں ضرورت اس امرکی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کادائرہ کارآئین پاکستان اورریاست پاکستان کے نہ ماننے والوں تک پھیلایاجائے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 218 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 58 Articles with 11496 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: