سامراجی کتاب کا سبق

(Ahtesham ul Haq Shami, )

ہمارا ریاستی نظریہ اور حکومتی نظام سب سے اوّل درجہ کا ہے، تعلیمی نظام ہمارا سب سے بہتر ہے، ہمارے ادارے دنیا بھر میں نمبر ون ہیں ، ہم دنیا میں سب سے زیادہ عقلمند اور دانا قوم ہیں ۔ اپنے چار موسموں کا بھی خوب چرچا کرتے ہیں گویا اپنی ہی بنائی دنیا میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہیں لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ ہمارا کوئی بھی نظریہ سچائی پر مبنی نہیں اور اس کا پرچار بنیادی تعلیمی نصاب سے شروع ہوتا ہے کیونکہ ہمارے تعلیمی اداروں اور معاشرے میں سوال کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ جو ہمت کر کے سچ بول لیتا ہے تو وہ غدار اور ملک دشمن ٹہرتا ہے اور جیل اس کا مقدر ٹہرتی ہے۔ ہمارے اصل حکمران ملک کے آئین پر عمل درآمد کرنے کو اپنی خود کشی کرنے کے مترادف قرار دیتے ہیں کیونکہ ریاست کے شہریوں کے لیئے آئین میں درج حقوق دینے سے ان کے مفادات متاثر ہوتے ہیں اور ان کی اجارہ داری ختم ہوتی ہے ۔ اس لیئے قوم کو خود فریبی میں رکھنے کے لیئے اہتمام کیئے جاتے ہیں کبھی مذہب اور کبھی دشمن کا خوف کا استعمال کیا جاتا ہے عوام کے سامنے جواب دہی سے بچنے کے لیئے یہ دو آزمودہ نسخے ہیں جو ابھی تک کامیابی سے استعمال ہو رہے ہیں ۔ جبکہ باز پرس کرنے کی صورت میں غداری اور ملک دشمنی کے فتوے تو ویسے ہی ہمہ وقت تیار پڑے رہتے ہیں ۔

ستر برسوں میں جس نے بھی بنیادی حقوق مانگے اسے مذکورہ سرٹیفیکیٹ اور تمغے دیے گئے مگر حقوق کبھی نہیں مل سکے ۔ اسی باعث ملکِ خداداد بھی دو لخت ہوا لیکن ہم پھر بھی آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھنے پر ہرگز تیار نہیں ۔ کیونکہ اس قوم کو شائد اپنے حقوق کی بات کرنے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا سمجھایا گیا ہے ۔ شائد قوم کو بھی تختہ مشق بننے کے لیئے ہمہ وقت دستیاب رہنا سکھایا گیا ہے ۔

کبھی روٹی کپڑا ور مکان،کبھی صدارتی نظام،کبھی نوّے دن بعد ملک میں شریعت کا نفاذ ،کبھی سب سے پہلے پاکستان کا سات نکاتی ایجنڈا،کبھی ڈاکٹرائن، کبھی نیا پاکستان اور نیو ریاستِ مدینہ لیکن اس کے باوجود قوم پھر بھی مذید تجربات کی چکی میں پسنے کو تیار ہے ۔ انگریز سامراج خود تو چلا گیا لیکن اس قوم کو اپنے نامزد کردہ پیادوں کی غلامی میں دے گیا،اس لیئے قوم کو ابھی حکمتِ عملی کے نام پر غلامی میں رہنے کے فائدے گنوائے جا رہے ہیں اور قوم بھی لبیک کہ رہی ہے شاید کہ غلامی میں رہنے کا بھی اپنا مزہ ہوتا ہے ۔

ہم اس جدید اور ترقی یافتہ دنیا میں بھی پرانے زمانے کے بادشاہوں ، نوابوں اور جاگیرداروں کی طرح اپنی تاریخ خود سے لکھوانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جیسا کہ ہم ابھی تک لکھواتے آئے ہیں ۔ کہتے ہیں قدم بڑھاو ہم تمہارے ساتھ ہیں ، لیکن معلوم نہیں کہ ہمارا مخاطب کون ہوتا ہے؟ کیونکہ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں لیکن اس تلخ حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ ہم قوم بننا ہی نہیں چاہتے،قوم بن گئے تو پھر ہم اپنے مالک خود ہوں گے کوئی دوسرا نہیں؟ ۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف ستّر سالوں میں بھی کبھی کوئی ہجوم قوم بنا ہے؟ ۔ قوم بننے کے لیئے تو صدیاں درکار ہوتی ہیں ۔ اسی لیئے قوم کا سارا زور اور توانائیاں گفتار کے غازی بننے پر لگائی گئی ہے، کردار سنوارنے پر نہیں ۔

ہم کنوئیں کے مینڈک کی مانند اپنی الگ سی دنیا میں جی رہے ہیں شائد ہ میں فریب یا دھوکے میں جینا یا پسند کرنا سکھایا یا بتایا ہی نہیں گی یا پھرہمارے زہنوں میں یہ بھر دیا گیا ہے حقائق تسلیم کر لینے سے ہماری خود ساختہ بہادری ختم ہو جائے گی ۔ ہم کبھی سچ نہیں بولیں گے کیونکہ اس کے بعد تو کافی مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ہمیں مسائل میں رہ کر جینے کا عادی کر دیا گیا ہے ،ہم سچ اس لیئے بھی کبھی نہیں بولیں گے کیونکہ ہمارے نزدیک دھوکہ دینے اور جھوٹ بولنے میں حکمت اور دانائی پوشیدہ ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایوبی دورِ حکومت میں بانیِ پاکستان پر تحقیق کرنے کی لگائی جانے والی پابندی آج بھی برقرار ہے ۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار سوال کا جواب نہ دینے یا حکم عدولی کی ابتدا ء سرکاری طور پر آذادی کے فوری بعد اس وقت شروع ہوئی جب ملک کے پہلے سامراجی سپہ سالار نے بانیِ پاکستان کی حکم عدولی کی ۔

گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف جنرل گریسی کو کشمیر کی جانب پیش قدمی کا حکم دیا مگر جنرل گریسی نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا، جس پر قبائلی لشکر کی کشمیر آمد کے بعد مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کا اعلان کردیا جسے بنیاد بنا کر بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اُتار دیں اور آج تک ہماری شہ رگ پر بھارت کا قبضہ برقرار ہے ۔ لیکن سرکاری تاریخ دان اس واقع کو محض ایک کہانی کہتے ہیں کیونکہ جیسا پہلے کہا کہ ہ میں آئینہ دیکھا نہیں سکھایا گیا ۔

ستّر برسوں میں اس قوم کو یہی سبق تو سکھایا گیا ہے کہ سامراج کی دی ہوئی کتاب میں جنتا بتایا گیا ہے اسی پر اکتفا کیا جائے اور سوچوں کو لامحدود کرنے کی کوشیش نہ کی جائیں کہ اسی میں ملکی سلامتی پوشیدہ ہے ۔ پوشیدہ اور پردوں میں چھپائے گئے حقائق کو منظرِ عام پر آنے سے روکنے اور اٹھتی سوچوں کی کو ورکنے کے لیئے سامراجی پیادوں کے زریعے بھاری سرمایہ کاری بھی کی گئی جو ابھی بھی جاری ہے اور ان سوچوں اور خیالات کی آبیاری پر کامیاب سرمایہ کاری کی گئی جس باعث قوم حقائق اور سچائیوں سے دور ہوتی چلی گئی شائد کہ قوم کے مزاج میں ہی حقائق سے دور رہنا رچا بسا دیا ہے ۔
مذہبی،سیاسی ،ثقافتی اور معاشرتی نظریات کے اس قدر ٹکڑے اور حصے کر دیئے گئے کہ اب ایک عام آدمی ذہنی طور پر کنفیوز اور بے یقینی کی اذیت ناک کیفیت سے دوچار ہو کر رہ گیا ہے ۔ کون کتنا اچھا مسلمان ہے،کس کا سیاسی نظریہ زیادہ بہتر ہے،ہماری اپنی ثقافت کیا ہے اور معاشرے کے ایک فرد کے طور پر ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ہم سب اس سے لاعلم ہیں ۔ یہ اس کیفیت کا نام ہے جسے عام الفاظ میں غلامانہ معاشرہ کہا جاتا ہے،ظاہر ہے جب ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت ملک کے کل بجٹ میں سے محض دو فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے، جس باعث شرعِ خواندگی چالیس فیصد سے بھی کم ہو تو وہاں کیا امید کی جا سکتی ہے کہ معاشرے کے اکثریتی افراد کسی ایک مضبوط اور حقیقی نظریئے کے گرد جمع ہو سکیں ۔

آج بھی ملکِ خداداد میں قومی مذہبی اور معاشرتی نظریات کی بڑی تقسیم کی وہی وجہ ہے جس کا بیج برسوں پہلے بویا گیا اور فصل ابھی تک کاٹی جا رہی ہے ۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو گی کہ آئین کی بالا دستی ،سول سمریمیسی کی بات کرنے والے پر عرصہِ حیات ہی تنگ کر دیا جائے اور آئین کی دھجیاں اڑانے والے کو سلامیاں دی جائیں ۔ اداروں کو ان کی حدود مین رہ کر کام کرنے والے کو غدار کہ دیا جائے اور اداروں کو متنازع بنانے والے پھر بھی محبِ وطن ٹہریں ۔

دنیا کے سامنے دھونس اور دھاندلی کے زریعے اقتدار میں آنے والے کو بھر پور تحفظ فراہم کیا جائے اور اس ناجائز عمل پر آواز اٹھانے والوں کو جیلوں میں دال دیا جائے ۔ اس ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے بوڑھے ایٹمی سائنسدان کو گھر میں نظر بند کر دیا جائے،ایٹمی دھماکے کرنے والے کو جلا وطن کر دیا جائے اور دشمن ملک کے وزیرِا عظم سے ملنے کے لیئے ترلے اور اسے بار بار خطوط لکھے جائیں ۔ کشمیر پر معزت خواہانہ رویہ اختیار کرنے والا محب ِ وطن ٹہرے اور اقوامِ متحدہ میں دنیا بھر کے سامنے برہان وانی شہید کو ہیرو کہنے والے کو مودی کے یار ہونے ہونے کا طعنہ ملے ۔ پارلیمننٹ کو مظبوط کرنے کے لیئے بطور صدر اپنے صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو سوپنے والا جیلیں کاٹے اور پارلیمنٹ پر لعنتیں بھیجنے ملک کو لاک ڈاون کرنے عوام کو سول نافرمانی پر اکسانے،چین کے سربراہ کو ملک میں آنے سے روکنے اور سرکاری اداروں پر حملے کروانے والے کو پارلیمنٹ اور ملک کا خیر سمجھا جائے ۔ لیکن سوال اٹھانے والے کو ریاست کا دشمن گردانا جاتا ہے کیونکہ سامراج کی بتائی ہوئی کتاب میں جو یہی سبق لکھا ہے ۔ خواہ سوال کرنے والا کوئی بھی ہو؟۔

تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے جس جس نے بھی سامراجی کتاب میں بتائے گئے سبق سے روگردانی کرتے ہوئے سوال اٹھائے وہ نشانِ عبرت ہی بنا ہے ۔ خواہ وہ حسین شہید سہر وردی ہوں ، لیاقت علی خان ہوں ، زلفقار علی بھٹو ، ِ محمد خان جونیجو،ِ بے نظیر بھٹو، یوسف رضا گیلانی ہوں ، اکبر بگٹی ہوں ،شاہد خاقان عباسی ہوں یا نواز شریف ہوں ۔ اپنے حقوق کے لیئے سوال اٹھانے والوں کو اب بھی ریاست کے مخالف سمجھا جاتا ہے خواہ وہ علی وزیر ہو،منظور پشتین ہو،محسن داوڑ ہو ،محمود خان اچکزئی ہو،حاصل بزنجو ہو یا رضا ربانی ،اختر مینگل یا عثمان کاکڑ ہوں ۔

یاد رکھئے گاجب تک سامراجی کتاب کو بند نہیں کیا جائے گا اور سوال پوچھنے پر پابندی نہیں ختم ہو گی، اس ملک کے عوام مختلف نظاموں کے لیئے تختہِ مشق بنے رہیں گے اور سامراج کے مفادات کی تکمیل اس کے پیادوں کے زریعے پوری ہوتی رہے گی ۔ (احتشام الحق شامی)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 186 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ahtesham ul Haq Shami

Read More Articles by Ahtesham ul Haq Shami: 2 Articles with 362 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: