بالآخر میں کار خریدنے نکلا

(Amir jan haqqani, Gilgit)

گزشتہ سات سال سے تقریباً روز یہ جملہ مجھے سننے کو ملتا ہے" صاحب! اب کوئی چھوٹی سے کار ہی خرید لو، موٹر سائیکل اب آپ کے پروفائل سے میچ نہیں کرتا.
آپ یقین کریں میں ہنس کر ٹال دیتا ہوں مگر اندر سے کٹ کر رہ جاتا.
یہ میرا پروفائل ہے اس میں تیرا کیا کام ہے. میں خود جانتا ہوں اپنا پروفائل.خیر!
اللہ اللہ کرکے بالآخر ہم نے موٹر کار خریدنے کا عزم صمیم کرلیا. اب یہ سوال پیدا ہوا کہ کونسی کار خریدی جائے. دو دن کے ورک سے گاڑیوں کے اتنے نام اور ماڈل سامنے آئے کہ مجھے سخت پریشانی ہونے لگی،
ایک ہی شکل و صورت رکھنے والی گاڑیاں ماڈل اور ساخت و سن میں بڑا فرق دکھائی دینے لگی.
کسی کی مارکیٹ ویلیو ہے تو کسی کی مارکیٹ زیرو..
پھر ڈیزل کی گاڑیاں اچھی کنڈیشن میں بھی ہوں تو ان کی قیمت بھی کم اور مارکیٹ ویلیو بھی زیرو . پٹرول والی کمزور گاڑی بھی زیادہ قیمت اور مارکیٹ ویلیو رکھتی ہے.
گاڑیوں کے نام، ماڈل، ساخت، از قسم تیل، مینول، آٹومیٹک غرض یہ سب میرے لیے نیا تھا. جس آدمی نے زندگی بھر کتابوں، مصنفین اور کالم نگاروں کے نام اور عنوان یاد کیے ہوں اسے کیوں کر گاڑیوں کے نام یاد ہونگے.اور انکی تفصیلات.
چونکہ کار خریدنے کا خمار دماغ میں موجزن تھا تو اس کے لیے رقم بھی چاہیے. جتنا مشکل گاڑی کی تلاش اور اس کی سمجھ کی تھی اس سے کئی گناہ زیادہ اس کار کے لیے رقم کی تھی. اب کوئی انسان آپ کا پروفائل اچھا ہے کہہ کر مفت گاڑی تو حوالہ نہیں کرے گا. معاملات میں پروفائل نہیں دیکھے جاتے بلکہ پیسہ چلتا ہے یا رشوت والا عہدہ. دونوں سے میں خالی تھا. بھلا ایک آدمی دو چار تحریریں لکھتا ہے کہہ کر کیوں کوئی بات سیدھا منہ کرے. یہ میرے لیے حیرت کی بات قطعا نہیں کہ مجھ سے بہت کم پروفائل والے ملازم کیوں دو چار گاڑیوں کے مالک ہیں.
بھیا ان کا عہدہ اور کام کا اسٹائل ہی اتنا پرکشش ہے کہ وہ بڑے مکان بھی بنا سکتے ہیں، اچھی گاڑی بھی رکھ سکتے ہیں. بعض دفعہ تو انہیں گفٹ میں بھی گاڑی مل سکتی. ایک فائل سرکانے اور فیلڈ کی اچھی رپورٹ پیش کرنے سے جن کو کروڈوں کا فائدہ ہوتا ہے وہ لاکھوں کا ھدیہ کیوں نہ کریں ان کو. میرے تین گھنٹے کا لیکچر کی زیادہ ویلیو یہ ہے کہ میرے طلبہ احترام کی نگاہ سے سلام کریں. اچھا لیکچر ڈیلیور کیا ہے کہہ کر کوئی کار گفٹ تو نہیں کرے گا.
بہر صورت گاڑی لینے کا ارادہ نہیں تھا. اب جب ارادہ کرلیا ہے تو، لے کر ہی دم لیں گے. مگر کیسے اس کے لیے یکسوئی سے پلاننگ کرنی ہوگی.فی الحال ارادہ کافی ہے. تو
احباب کیا کہتے ہیں؟

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 212 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 306 Articles with 149992 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: