تاثرات... ’’تم لوٹ کر آؤ گی یقین ہے مجھے‘‘

(Hameeda Gul Muhammad, )

تمہاری رہائی تک لڑنا ہے مجھے اے عافیہ ... میری لڑائی ان زمینی خداوں سے ہے ، میں نے جب جب ظلم دیکھا آواز بلند کی ،ان کے خلاف ڈھال کی طرح کھڑی رہی، لوگوں کی نفرتیں برداشت کی ،تنقید کا سامنا کیا یہاں تک کہ میرے عزیز دوستوں اور عزیزوقارب نے برا بھلا کہہ کر تعلق تک ختم کر دیا اور کہا کہ مسیحا بننے کا بڑا شوق ہے تو ضرور بنو مگر تمہاری وجہ سے ہم لوگ مشکل میں آجائیں گے بہتر ہے کنارہ کشی اختیار کر لو۔ہمّت ٹوٹی مگر آنسوں نے ساتھ نہیں چھوڑا وہ آنکھوں سے نکل کر رخسار تک آئے تو محسوس ہوا کہ ان کی زندگی بس یہی تک محدود ہے اس کے بعد انہیں فنا ہو جانا ہے مجھے ان آنسوؤں نے بھی ہمت دی کہ مجھے ہمت نہیں ہارنی اور ان کی طرح مختصر سفر طے کر کے ختم نہیں ہونا بس پھر کیا تھا دوبارہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوگئی اور 2015 سے لے کر اب تک مسلسل ظلم و جبر کے خلاف لڑ رہی ہوں۔ ہمت ساتھ چھوڑتی ہیں مگر کچھ مخلص دوست مجھے پھر سے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں اور میں اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں لگ جاتی ہو۔

خیر تو بات چلی عافیہ صدیقی سے...سیاسی حکمرانوں ڈکٹیٹرشپ کے ہاتھوں قوم کی بیٹی غیر لوگوں کے ہاتھوں میں دے دی گئی۔ منصوبہ تو ڈاکٹر عبدالقدیر کو بھی پاکستان سے رخصت کرکے امریکہ مردہ باد کے حوالے کرنے کا تھا مگر رب نے میرے ہیرو کو محفوظ رکھا ڈاکٹر صاحب کی زندگی بھی اجیرن بنی ہوئی ہے مگر کوئی خوشی کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب ہماری نظروں کے سامنے ہے اور غم اس بات کا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ دشمن کے نرغے میں۔ ایک فلمی گیت جس کے بول... ’’اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں‘‘ اس شعر کا مطلب صحیح طور پر آج سمجھ آگیا ہے جو سچ کہتا ہے وہ نامعلوم جگہ پر ،ہمیشہ کے لئے نامعلوم ہو جاتا ہے۔عالمی یوم ایجوکیشن کے موقع پر عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کراچی یونیورسٹی سے این ای ڈی یونیورسٹی تک تعلیم سب کے لئے اور تعلیم کو عام کرو کے حوالے سے ’’ایجوکیشن واک‘‘ کا اہتمام کیا ۔ اس دن گوناگوں مصروفیات ہونے کے باوجود اس واک میں شرکت کا اعزاز حاصل کیا کیونکہ معاملہ تعلیم کا تھا جس کو کوئی حکومت اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں ہے اور شاید ماہر تعلیم ڈاکٹر عافیہ کا جرم بھی یہی ہے کہ وہ اپنے قوم کے بچوں کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتی ہے ۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم سے مطالبہ ہے کہ آپ نے جو وعدہ کیا تھا کہ...قوم کی بیٹی آئے گی...عافیہ بہن کو ہم لائیں گے ... کا وعدہ پورا کیا جائے اور جلد از جلد عافیہ کو پاکستان کی سرزمین پر لایا جائے۔ اس ریلی کی خاص بات اس میں کوئی اعلی عہدیدار یا ملک کی معروف شخصیات موجود نہیں تھیں، صرف عام پاکستانی، یونیورسٹی کے طلباوطالبات اور خاص کر کراچی یونیورسٹی کے سامنے رہنے والے خانہ بدوش اور گداگروں کے بچے فہرست تھے۔ ’’ایجوکیشن واک‘‘ میں شریک مختلف سماجی، تعلیمی اور حقوق انسانی و نسواں کی تنظیموں کے رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور شرکاء سمیت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔معاخس کیڈٹ اسکول کے بچوں نے ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کا مطالبہ اپنی پریڈ کے ذریعے خوبصورت انداز میں کیا۔مگر اس دوران مجھے اس واک میں ایک چیز سخت نا گوار گزری اور وہ واقعہ ایک کیمرامین کے ذریعے پیش آیا جب اسلامی کیڈٹ سکول کے بچے پریڈ کے لئے آئے اسی دوران گداگروں کے بچے بھی ان کے ساتھ واک میں آگے بڑھ رہے تھے اسی دوران کیمرہ مین نے بچوں کو دھتکار کر ان کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کردیا محض اس لیے کہ کیڈٹ سکول کے بچوں کی تصاویر اور ویڈیو بنائی جا سکے۔ مگر یہ بچے بھی عافیہ کی رہائی کے لیے مطالبہ کر رہے تھے ان بچوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے سے بہتر ہے ان کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی۔ان بچوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ واک میں کیوں موجود ہیں ؟؟؟یہ واک کس کیلئے نکالی گئی ہے اور اس واک کو نکالنے کا کیا مطلب ہے ؟؟؟؟اور ہم اس میں کیوں موجود ہیں ؟؟؟اس کے باوجود ریلی میں خوشی خوشی بینر اٹھائے ریلی کے شرکاء کے ساتھ شریک رہے۔ خیر اﷲ سب کو ہدایت دے اور انسانیت کو سمجھنے کی توفیق بھی۔عافیہ آپ ہمارا قیمتی اثاثہ ہو اﷲ پاک اس مشکل میں آپ کو صبر و تحمل سے کام لینے کی ہمت عطا کرے اور آپ کے گھر والوں کواور ہمت عطا فرمائے۔دلی دعا اور گزارش ہے کہ یااﷲ عافیہ کو جلد رہا کرکے پاکستانی سرزمین پر بھیج دیں ۔ تاکہ ہم اپنی بہن سے جلد از جلد مل سکیں اوروہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے لیے تعلیمی خدمات سرانجام دے سکے...اور خانہ بدوشوں اور گداگروں کے بچے بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔عافیہ بہن آپ کی فیملی جن مسائل سے گزررہی ہے اس کا اندازہ صرف آپ کی فیملی ہی کر سکتی ہے!!! تم لوٹ کر آؤ گی یقین ہے مجھے عافیہ ...وہ دن دور نہیں جب تم ہوگی سنگ ہمارے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 141 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hameeda Gul Muhammad
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: