سب جانے پہچانے ہیں / مصنف شکور پٹھان

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

خاکہ نویسی در حقیقت دریا کو قطرے میں بند کرنے کا ایک مشکل فن ہے۔ ’سب جانے پہچانے ہیں‘، شکور پٹھان کی کتاب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے خوبصورت خاکوں کا مرقع ہے۔قلم و قرطاس سے شکور پٹھان کا رشتہ نیا نہیں، پیش نظر خاکوں کا مجموعہ ان کا دوسرا مجموعہ ہے۔پہلا مجموعہ ”میرے شہر میں“، اور ایک سفر نامہ ”بہتی ہے گنگا جہاں“ شائع ہوچکے ہیں۔ اب ان کے قلم سے ”سب جانے پہچانے“ منظر عام پر آرہا ہے۔ خاکہ نگار کا اسلوب سیدھا سادہ اور عام فہم ہے، مشکل الفاظ استعمال نہیں کرتے۔ادبی خاکے ان صاحبا ب علم و ادب کے بارے میں ہیں جو شاعری کے افق پر کسی تعارف کے محتاج نہیں، مذہبی شخصیات میں سید ابو الا علیٰ مودودی اور ڈاکٹر اسرار احمد کے خاکے ان کے مجموعہ کے اہم خاکے ہیں۔

سیاسی اکابرین میں مولانا محمد علی جوہر اور علامہ عنایت اللہ مشرقی اور راجہ صاحب محمود آباد، بہادر یار جنگ کے علاوہ بلبل ہند کے عنوا ن سے سروجنی نائیڈو کا خاکہ بھی مجمودہ کا حصہ ہے۔مختصر یہ کہ شکور پٹھان جو کچھ لکھ رہے ہیں بہت عمدہ اور کارآمد انداز میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی خاکہ نگار سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی یادداشتیں بہت مضبوط، ان کی نگارہ حقائق اور سیاسی و تاریخی واقعات پر گہری ہے۔ وہ پاکستان سے باہر بیٹھ کر وہ تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کا یہ عمل اور جذبہ قابل ستائش ہے۔

شکور صاحب اپنی یاد داشتیں بھی قلم بند کر رہے ہیں ان کی یادداشتوں کی ابتدائی اقساط پڑھ کر مجھے خوشگوا ر حیرت اور خوشی ہوئی یعنی کہ ہم دونوں نے ایک ہی اسکول سے تعلیم کا آغاز کیا اور ہم لیاری کی بستی بہارکالونی کے باسی ہیں۔ جن جگہوں سے انہوں نے اپنی وابستگی کا ذکر کیا ہے جیسے لیاری ندی، مسان روڈ، بہار کالونی کی جامع مسجد، آگرہ تاج کالونی، غازی محمد بن قاسم اسکول، کوئلہ گودام وغیرہ۔ میا گھر حنیف منزل والی سٹرک پر خوجہ جماعت خانہ کے برابر والا گھر تھا جس میں میرے بچپن کی ابتداء ہوئی۔ شکور پٹھان کی یادداشتیں مجھے اپنی ہی یادداشتیں محسوس ہوئیں،یہ بھی کماہ ہے سوشل میڈیا اور فیس بک کا انہیں پڑھ کر میں اپنے ماضی میں کھو گیا سب چیزیں نظروں کے سامنے فلم کی مدنند چلتی پھرتی دکھائی دیں۔ اللہ انہیں خوش رکھے۔
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
صدر۔ ہماری ویب رایٹرز کلب؛ سرپرست: سلسلہ ادبی فورم
(6نومبر2019ء)


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 305 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 686 Articles with 519113 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: