خَا مُشِی کا شور۔ افسانے/تہمینہ راؤ (آسٹریلیا)

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

ادبی جریدے کے چیف ایڈیٹر مرتضیٰ شریف سے میں نے حامی بھر لی کی تہمینہ راؤ کے افسانوں کے مجموعے ”خَا مُشِی کا شور“پر لکھ دونگا اور وہ کتاب بھی مَیں اپنے گھر لے آیا۔ کئی دن یہ میرے کمپیوٹر ٹیبل پر خاموش پڑی رہی، جب بھی میں کمپیوٹر کھولتا یہ ٹک ٹک مجھے دیکھتی اور اشارہ کرتی کہ تم نے مجھ پر لکھنے کا وعدہ کیا ہوا ہے، میں دیگر کاموں میں مصروف ہوجاتا، وقت گزرتا گیا، پھر یہ بھی ہوا کہ میں نے اسے اپنی کتابوں کی الماری کی زینت بنادیا، پر اس نے اف تک نہ کی، مرتضیٰ شریف جب بھی یاد دیہانی کراتے میں ہوں ہاں کردیا کرتا۔وقت گزرتا گیا، دو دن ہوئے فیس بک پر ایک پوسٹ نظر سے گزری، لکھا تھا حالیہ دنوں میں آپ نے کونسی کتا ب پڑھی جس کی کوئی ایک بات جو آپ کو اچھی لگی ہو اسے شیئر کریں۔اچانک مجھے خیال آیا کہ میں نے تہمینہ راؤکے افسانوں کا مجموعہ پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ یہ اندازہ لگانے کے لیے کہ اس پر لکھنے کے لیے کتنا وقت لگے گا نیز اس میں کیا کچھ ہے، کتنے افسانے ہیں،کتاب کے ورق الٹے تو پہلا صفحہ ابتدائیہ ہی تھا جو سامنے آیا اس کی تیسری سطر نے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا اور میں نے اس ابتدائیہ کا پہلا پیراگراف مکمل پڑھا۔ تہمینہ کی اس بات نے مجھے بے حد متاثر کیا اس نے لکھا تھا ”زندگی نے انتہائی رویوں کو سہہ لینے کے بعد اک بات سمجھائی اور وہ یہ کہ کہہ دینا ضروری ہے ہاں کہہ دینا ہی شاید ضروری ہے وگرنہ وہ باتیں جنہیں ہم اپنی دانست میں نگل رہے ہوتے ہیں اصل میں وہ ہمیں نگل رہی ہوتی ہیں“۔ حقیقت یہی ہے لمحہ موجود میں یہی باتیں اسٹریس کا باعث بن رہی ہیں، ہمارے اندر مختلف قسم کی بیماریوں کا باعث ہورہی ہیں، بہ ظاہر کچھ نہیں ہوتا لیکن ایک ٹینشن اندر ہی اندر انسان کو کھائے چلی جاتی ہے۔پھر میں نے اس کتاب پر اظہار خیال کو تمام کاموں پر سبقت دی، دوسری وجہ اس کتاب کی تخلیق کار کا تعلق آسٹریلیا سے ہونا بھی ہے۔ آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں مقیم میرے ایک مہر باں دوست ادیب، اقبال پر نباتات کے حوالے سے تحقیقی کام سرانجام دینے والے فضل رضوی بھی ہیں جنہوں نے تہمینہ راؤ کے اس مجموعے پر اپنے خیالات کااظہار کیا ہے۔ان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ”تہمینہ راؤ نے معاشرتی و سماجی موضوعات پر قلم اٹھایا ہے ان کی افسانچہ نگاری میں بنیادی طور پر جو فکر کارفرما ہے وہ بلاشبہ انسانیت نواز احساسات اور جذبات سے بھر پور ہے۔ اَن کے افسانوں میں کہیں حرص و ہوس، بے ایمانی، ظلم و ستم اور جوڑ توڑ کی صورتحال پر کاٹ دار تبصرہ ملتا ہے جو کہیں عائلی مسائل ان کی کہانی کا حسہ بنتے ہیں“۔
مَیں تہمینہ سے واقف نہیں تھا، ویسے بھی وہ پاکستانی تو ہیں لیکن آسٹریلیا ان کا وطن ثانی ہے وہ سڈنی کی باسی ہے، میری تائے میں تخلیق کار ادیب و شاعر جغرا فیائی حدودسے بالا تر ہوتا ہے، وہ صرف اور صرف ادب کا سفیر ہی ہوتا ہے، میں بھی ایک قلم کار ہوں، قلم و قرطاس سے رشتہ جوڑے نصف صدی ہونے کا آئی، یہی تعلق کافی ہے کسی بھی تخلیق کار کی تخلیق پر اظہار خیال کے لیے۔ تہمینہ شاعرہ بھی ہے، بیرون ملک رہتے ہوئے انہوں نے پاکستان میں خواتین شاعرات میں اپنی پہچان بنائی، ان کے شاعری کے مجموعے ”مجھے یاد کرنا“ نے انہیں ایک پہچان دی،اب وہ نثر کی ایک اہم صنف افسانہ نگاری میں داخل ہوچکی ہیں، ’خَا مُشِی کا شور‘ ان کے افسانچوں اور کہانیوں کا پہلامجموعہ ہے۔ تہمینہ کا کہنا ہے کہ”اس کتاب کی اشاعت کا مقصد ان لوگوں کی رہنمائی ہے کہ جو سفر ِ زندگی کا آغاز کرنے کو ہیں“۔ مصنفہ کا یہ کہنا کتاب میں موجود مواد کی نشاندھی کررہا ہے۔ ’خَا مُشِی کا شور‘افسانچے زیادہ اور افسانے کم ہیں، یعنی مصنفہ اختصار پسند ہیں، مقصد کی بات مختصر الفاظ میں کہنے کی بھر پور صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔غیر ضروری طوالت سے گریز کرتی ہیں۔ ان افسانچوں کو مختصر کہانیاں بھی کہا جا سکتا ہے۔ تہمینہ کی کہانیوں کے موضوعات معاشرہ کے عام حالات، مسائل اور مشکلات ہیں۔

موجودہ عہد میں افسانہ ادب کی دیگر اصناف میں زیادہ پسند کی جانے والی صنف شمارہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ادب کی بعض اصناف میں تغیر وتبدیلی آئی لیکن مختصر کہانی اور مختصر افسانے سے قاری کی دلچسپی برقرار رہی بلکہ اس نے زیادہ مقبولیت حاصل کی۔وقت اور حالات نے افسانہ نگار کو مختصر کہانی اور افسانہ لکھنے اور قاری کو اختصار سے مطالعہ کی لذت سیمٹنے کا عادی بنا دیا ہے۔ ادب وہی ہے جو زمانے کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھے، قاری کی سوچ اور خواہش کی تکمیل کرے اور ایسا ہی ہوا افسانہ نگاروں نے مختصر افسانہ نگاری پر توجہ دی اور وہ ایسے افسانوں میں روزمرہ کے مسائل، خوشی و غمی کاا ظہار طویل تحریر کے بجائے مختصر افسانے کے ذریعہ کرنے لگے اور وہ مقبول بھی ہوئے۔اردو افسانہ نگاروں ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے اردو ادب کی اس صنف میں اپنا اپنا حصہ خوبصورتی سے ڈالا۔ جدید افسانہ نگاروں کی فہرست میں تہمینہ راؤ بھی شامل ہونے کا اعزاز پاچکی ہیں۔کہانی، افسانہ، ناول، رپوتاژ اور شاعری وہی کرسکتا ہے کہ جوعلم و ادب سے دلچسپی رکھتا ہو، اپنے اندر حساسیت لیے ہوئے ہو، کسی کے دکھ اور درد میں اپنے اندر کسک محسوس کرتا ہو، سچائی کوبیان کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، اس کی آنکھیں جو دیکھیں اسے اپنی سوچ کے کینوس میں محفوظ کر لے، الفاظ کا ذخیرہ، جملوں کی ترتیبی کا ھنر جانتا ہو۔تہمینہ راؤ کے افسانوں اور کہانیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر جو تہمینہ موجود ہے وہ ان تمام ترخوبیوں اور معاشرے کے اتار چڑھاؤ سے بخوبی آگاہ ہے۔تہمینہ راؤکی افسانہ نگاری کی منفرد خصوصیت اختصار، سادہ اور عام فہم الفاظ، نیز ادبی چاشنی لیے ہوئے جملے ہیں۔ ان کی زبان آسان اور سادہ، لہجے میں پختگی، الفاظ کا چناؤ اور استعمال عمدہ اور بر وقت، افسانوں کا پلاٹ مصنوعی نہیں بلکہ ان کی کہانیاں انسانی زندگی کے ارد گرد ہونے والے واقعات، حادثات، رسم و رواج کے گرد گھومتی ہیں جب کہ ان کے کردار معاشرہ میں موجود عام کردار ہیں جو ہمیں اپنے ارد گرد دکھائی دیتے ہیں۔ عام لوگ ان کرداروں پر غور ہی نہیں کرتے لیکن ایک افسانہ نگار عقاب کی نظر رکھتا ہے وہ ان کرداروں کو اپنے افسانوں میں خوبصورتی سے پیش کرتاہے، یہی خصوصیت تہمینہ کی افسانہ نگار ی میں دکھائی دیتی ہیں۔افسانچوں پرمشتمل یہ ایک عمدہ کتاب ہے اور اردو افسانہ نگاری میں اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔
تہمینہ کی ایک غزل کے دو اشعار ۔
زندگی کی کتاب لکھوں گی
درد کے سارے باب لکھوں گی
دشمنوں سے جو میرے رہتے ہیں
میں وہ وہ سارے حسا ب لکھوں گی
(11فروری2020)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 265 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 686 Articles with 519534 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: