چلہ گاہ کہ پناہ گاہ۔

(Prof Muhammad Khursheed Akhter, Islamabad)

ھمارے ھاں مذہب کی آڑ میں سیاست ،مفاد اور ھمدردی حاصل کرنا ایک روایت ھے جب فاروق احمد لغاری صدرِ پاکستان تھے تو ایوان صدر سے ان کی تہجد گزاری کی خبریں زبان زدِ عام تھیں اور وہ پارسائی اور دانشور انہ تقاریر کا طلسم اس وقت ٹوٹا جب محترمہ بینظیر بھٹو کو اپنے ھی فاروق بھائی نے معزول کر دیا مگر مکافات عمل دیکھیے لغاری صاحب جو بے نظیر بھٹو کی گاڑی کے پیچھے لٹکا کرتے تھے کہاں پینچے جب میاں نواز شریف کے ھاتھوں رسوا ھو کر ملت پارٹی کے اسٹیج پر اکیلے نظر آئے مشرف دور ایک چھوٹا سا اتحاد نیشنل ایلینس بنایا گیا تو فاروق لغاری صاحب کی شخصیت اور کھل کر میرے سامنے آئی بس توبہ کر لی ایسے رنگ چڑھانے والے لوگوں سے،گزشتہ دنوں اسحاق ڈار صاحب کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کیا گیا تو ان کا بھی ایک مذھبی اور صوفیانہ رنگ جو صرف داتا کے نام پر لیتا تھا ،کی تصویر گھومنے لگی ھمارے شعور اور جمہوریت کا یہ عالم ہے کہ میاں شریف صاحب نے بھی اسی طرح سیاست،کاروبار اور مذھب کے گھر میں حصے بنانے ھوتے تھے نواز سیاست،شہباز کاروبار،عباس بے چارہ مذھب اور اسی لبادے میں امیر المومنین بننے کی بھی کوششیں کی گئی۔اب اسحاق ڈار صاحب کو ھی دیکھیں پاکستانی معیشت کہانی کا اگر جائزہ لیا جائے تو جو سب سے بڑا مجرم نظر آنے گا وہ اسحاق ڈار ہوں گے۔یہ بات میں نہیں کہہ رہا بلکہ تمام ماہر اقتصادیات اس بات سے متفق ھیں البتہ وہ بیلنس شیٹ کے ماہر تھے جو ایک اچھے اکاؤنٹنٹ کی خاصیت ھوتی ھے۔

میاں صاحب کے ہر دور میں اتنے قرضے لیے گئے کہ وہ کور کرنے مشکل ھو چکے ھیں ایک فارمولا تھا جو اسحاق ڈار نے بنا کر رکھا ھوتا تھا کہ قرض لے کر بڑے پراجیکٹ شروع کریں،خود بھی کمائیں اور عوام کو بھی سبسڈی کے نام پر سیاسی رشوت دیں حالانکہ مسلم لیگ ن کو جو وقت اور موقع ملا تھا کہ وہ معیشت کو بنیادوں سے اٹھا سکتے تھے۔جب موٹر وے بنائی گئی تھی یہ کہا جا رہا تھا اس سے صنعتوں کا انقلاب آئے گا لیکن اس کے برعکس قابل کاشت زمینوں پر رئیل اسٹیٹ اور ھوٹل مافیا نے ملک کی زراعت بھی چھین لی اور ماحول بھی فوگ اور سوگ ھی رہ گیا ھے۔بات اسحاق ڈار صاحب کی ھورہی تھی ،میاں صاحب کے پاس وہی بڑا دماغ تھا جو نئی نسل کا مستقبل گروی رکھ کر معیشت چلا رہا تھا مافیا آج اسی کی یاد میں رو رہا ہے اور کیا پتا پھر وہی آ جائے۔لیکن حقائق یہی ھیں دوسرا بات ھو رھی تھی سیاست کو مذھب کی آڑ میں استعمال کرنا اسحاق ڈار نے ھجویری ٹرسٹ بنا کر یہ بھی کیا مال بھی ،ثواب بھی اور دوسروں کی نظر میں نیک بھی،ان کا گھر پناہ گاہ کے بعد حکم امتناعی تک پہنچ گیا اس لیے زیادہ بات مناسب نہیں لیکن مذھب اور سیاست کے اس لبادے نے لوگوں کے جذبات سے بہت کھیلا ھے۔اس وقت ملک میں مہنگائی اور جس عدم تعاون کا عروج ھے یہ اسی زوال کو ڈھونڈ رہا ہے۔مذھبی اور فکری جماعتوں کا کام تھا کہ وہ اس وقت معاشرے کی تربیت اور سماجی بہبود کا شعور اور تعلیم کا اہتمام کرتے تاکہ ذخیرہ اندوزی،ناپ تول میں کمی اور ناجائز منافع خوری ختم ھوتی مگر وہ بھی مذھب کی آڑ میں سیاست کے میدان میں برسر پیکار ہیں اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی بجائے مذھب سے تاویلیں تلاش کرتے ہیں ،عمران خان نہ فلاسفر ھے،نہ دانشور اور نہ ھی مبلغ و مفکر وہ ایک دیانتدار اور درد دل رکھنے والا ایسا واحد لیڈر ھے جو ھمت نہیں ھارتا ،کامی آدمی ھے جو مسلسل محنت اور راستہ نکالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔نہ جھوٹ بول سکتا ہے کھلے دل لگی لپٹی کے بغیر بات کر دیتا ہے۔اگرچہ فیک نیوز،باہمی عدم تعاون اور کوئی قومی منصوبہ رجسٹر کرانے جیسی ناکامیوں کا سامنا ھے مگر ملک کی خستہ حال معیشت اور سیاسی نظام میں جکڑے ھوئے حالات سے لڑ تو رہا ہے مگر ہر گھر میں ایک بادشاہ بیٹھا ہے جس کا کوئی بھی اچھا نتیجہ برآمد ھونے کے لیے وقت اور سرجری کی ضرورت ہے۔اسحاق ڈار کو جو مواقع ملے تھے وہ اب کہاں! البتہ مذھب کی آڑ میں سیاست کرنے والوں کو لوگ خوب جان چکے وہ چائے چلے کریں یا رنگ چڑھائیں بہت جلد ڈار صاحب کی طرح اتر جائے گا اور چلہ گاہ پناہ گاہ بن سکتی ھے

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 77 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Muhammad Khursheed Akhter

Read More Articles by Prof Muhammad Khursheed Akhter: 68 Articles with 15915 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: