خلافت ِ عثمانیہ کے بانی غازی ارطغرل

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

 تحریک ِ انصاف کی حکومت کا ارادہ تھا کہ ترک حکومت سے اظہار ِ یکجہتی کے لئے غازی ارطغرل نامی ڈرامہ قومی زبان میں ڈب کر ہم وطنوں کو دکھایاجائے لیکن نہ جانے کیوں یہ منصوبہ ختم کردیاگیا ایساہوجاتا تو اس کے کئی فائدے تھے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوناتھاکہ اس سے مسلمانوں کی نشاط ِ ثا نیہ کو اجاگرکرنے کا موقعہ مل جاتا اہل ِ وطن کا لہوبھی ذوق ِ یقیں سے گرم ہوتا یہ ڈرامہ بھی وہی جذبات ابھارسکتاتھا جو کبھی نسیم حجازی کے تاریخی ناول پڑھ کر دلوں میں جوش و جذبہ ٹھاٹھیں مارتاہوا محسوس ہوتاتھا۔تاریخی اعتبارسے ارتغلؒ غازی خلافت عثمانیہ کے بانی ہے جی ہاں وہی خلافت ِ عثمانیہ جس کی بحالی کے لئے قیام ِ پاکستان سے بیشتر تحریک ِ خلافت چلائی گئی تھی خلافت ِ عثمانیہ کئی برِ اعظموں پر محیط تھی انگریزوں نے ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو کمزورکرنے کیلئے خلافت ِ عثمانیہ کو ختم کرنے میں کلیدی کرداراداکیا اس میں’’ اپنوں‘‘کاکردار بھی بڑابھیانک اور خوفناک ہے تاریخی اعتبارسے خلفاء راشدین کے بعدحضرت امیرمعاویہ ؓ کا دور سب سے مستحکم رہا ا ن کے ٹھوس اور انقلابی اقدامات نے ایک جدید ریاست کے تصورکو اجاگر کیا دنیا میں پہلا بحری بیڑہ بھی حضرت امیرمعاویہ ؓکے دور ِ حکومت میں بنایا گیافتوحات کے لحاظ سے بھی ان کا دور اسلامی تاریخ کا سنہری دور کہا جا سکتاہے ان کے بعد خلافت بادشاہت میں تبدیل ہو گئی موروثی بنیادوں پر خلیفہ کا چناؤ کیا جانے لگاخلیفہ کسی کو جوابدہ نہیں تھا بنو امیہ کے 90سالہ دور ِ حکومت میں حضرت عمرؒبن عبدالعزیز نے خلفاء راشدین کی یاد تازہ کردی انہیں اسی بنیادپر پانچواں خلیفہ ٔ راشد کہا جاتاہے بنو امیہ کی خلافت کے بعد بنو عباس نے500سال تک حکومت کی عباسی دور کے آخری دنوں میں خلافت برائے نام رہ گئی متعدد ممالک اور شہروں میں شاہی خاندان کے امراء اور طاقتور جرنیلوں نے اپنی اپنی حکومت کااعلان کررکھا تھا جو اپنے آپ کو عباسی خلیفہ کا تابع فرمان قرارد یتے لیکن اس کے باوجودمساجدمیں خطبہ خلیفہ کے نام کا ہی پڑھا جاتا تھاجب ہلاکو خان نے بغدادپر حملہ کرکے ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا بیشتر عباسی خاندان کے افراد شہیدہوگئے اس طرح پانچ صدیوں پر محیط عباسی خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا یہ عملی طورپر خلافت کا خاتمہ ثابت ہوا۔۔اس کے کچھ عرصہ بعد مصر کے بادشاہ ہیرس نے واحد زندہ بچ جانے والے ایک عباسی شہزادے کو مستنصرباﷲ کا لقب دے کر قاہرہ کا خلیفہ بنا دیا مگرسولہویں صدی عیسوی میں مصر کا آخری خلیفہ ترکی کے فر مانروا سلطان سلیم اول کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگیا کہا جاتاہے خلافت ِ عثمانیہ 1924 ء تک ایک طاقتور مسلم سٹیٹ تھی ۔۔ خلافت ِ عثمانیہ کو آخر کار جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک نے ختم کردیا اس نے خلیفہ عبدالمجید کو برطرف کرکے ترکی میں ایک جمہوری حکومت بنانے کااعلان کیا بہرحال ارتغلؒ غازی کی پیدائش 1191 ء میں ہوئی اور وہ اپنی وفات 1280 ء حکمران رہے کچھ کتابوں میں آپؒ کی وفات 1281 ء درج ہے ارتغلؒ غازی کے تین بیٹے گندوز, ساؤچی اور عثمان تھے خلافت کی بنیاد ارتغل غازی ؒرکھ کر گئے تھے تیسرے بیٹے عثمان نے 1291 ارتغلؒ غازی یعنی اپنے والد ارتغلؒ کی وفات کے 10 سال بعد باقاعدہ خلافت کااعلان گیا اور عثمان کے نام سے ہی خلافت کا نام خلافت عثمانیہ رکھا گیا اسی خلافت نے 1291 ء سے لے کر 1924 ء تک , 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا اس خلافت میں آج کے شام ،عراق، اردن،ایران، مصر،لیبیا،سوڈان کے ممالک شامل تھے جبکہ آ ج کا سعودی عرب،قطر،کویت،عمان اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل علاقے حجاز کہلاتے تھے یہ بھی خلافت ِ عثمانیہ کا حصہ تھے خلافت ِ عثمانیہ نے مسجد نبوی ﷺ،گنبد خضریٰ اور مسجد حرام کی جدید تعمیر . سیدنا امیر حمزہؓ کا مزار ، مکہ مکرمہ تک ایک عظیم الشان نہر ، آقائے دوجہاں صلی اﷲ علیہ وسلم کے مزار پرانوار کے گرد سیسہ پلائی دیوار ،مکہ مکرمہ تک ٹرین منصوبہ جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیئے ۔ خلافت ِ عثمانیہ میں ایک جدید اسلامی مملکت کا تصور پیش کیا گیا جس کے حکمرانوں نے اپنی خداداد صلاحیتیوں سے دنیا بھرمیں اپنی قابلیت اور مفتوحات کا لوہا منوایا ارتغل غازی کا خاندان وسطہ ایشیا سے یہاں آیا تھا اور انکے جدِ امجد اوغوز خان khan Oghuzکے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے جن میں سے ایک یہ قائی قبیلہ Kayi تھا جس سے ارتغل غازی تعلق رکھتا تھا آپکے والد کا نام سلیمان شاہ تھا, ارتغل غازی کے تین اور بھائی تھے, صارم, ذوالجان اور گلدارو ,آپکی والدہ کا نام حائمہ تھا آپکا قبیلہ سب سے پہلے وسطہ ایشیا sia A Central سے ایران پھر ایران سے اناطولیہ Anatolia آئے تھے منگولوں کی یلغار سے نمٹنے کیلئے……. جہاں سلطان علاو الدین جو سلجوک Seljuk سلطنت کے سلطان تھے اور یہ سلجوک ترک سلطنت سلطان الپ ارسلان Arslan Alap Sultan نے قائم کی تھی 1071 میں byzantine کو battle of Manzikert میں عبرت ناک شکست دے کے اور سلطان الپ ارسلان تاریخ کی بہت بڑی شخصیت تھی اور اسی سلطنت کا آگے جاکے سلطان علاؤ الدین بنے تھے…..

اسی سلطان علاوالدین کے سائے تلے یہ 12 قبیلے اوغوز خان khan Oghuzرہتے تھے, اور اس قائی قبیلے کے چیف ارتغل بنے اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد, سب سے پہلے اہلت Ahlat آئے تھے پھر اہلت سے حلب Aleppo گئے تھے 1232 جہاں سلطان صلاح ؒالدین ایوبی کے پوتے الغزیز کی حکومت تھی, سب سے پہلے ارتغل نے العزیز کو اس کے محل میں موجود غداروں سے نجات دلائی پھر اس سے دوستی کی پھر سلطان علاو الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کی…… جس سے آپکو تین بیٹے ہوئے جنہوں نے ایوبیوں اور سلجوقیوں کی دوستی کروائی, صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا جو حلب کے قریب تھا, اسکے بعد ارتغل سلطان علاو الدین کے بہت قریب ہوگیا اس کے بعد منگولوں کی یلغار قریب ہوئی تو ارتغل غازی نے منگول کے ایک ایم لیڈر نویان کو شکست دی ,نویان منگول بادشاہ اوکتائی خان کا hand Right تھا ,اوکتائی خان چنگیز خان کا بیٹا تھا اور اس اوکتائی کا بیٹا ہلاکو خان تھا جس نے بغداد کو اس قدر روندا تھا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھیں دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا اسی نویان کو شکست ارتغل نے دی تھی اور پھر ارتغل غازی اپنے قبیلے کو لیکے سوغت Sogut آئے بلکل قسطنطنیہ Contantinople کے قریب, اور پہلے وہاں بازنطین Byazantine کے ایک اہم قلعے کو فتح کیا اور یہیں تمام ترک قبیلوں کو اکٹھا کیا اور سلطان علاو الدین کے بعد آپ کے بیٹے غیاث الدین سلطان بن گئے انکی بیٹی کے ساتھ ہی عثمان کی شادی ہوئی ایک جنگ میں سلطان غیاث الدین شہید ہو گئے تو عثمان غازی سلطان بن گئے اور انکی نسل سے جاکے سلطان محمد فاؒتح تھے جس نے 1453 میں جاکے قسطنطنیہ فتح کیا تھا اور اسی پے حضور صلیٰ اﷲ علیہ والہ وسلم کی غیبی خبر پوری ہوئی تاریخ میں ارتغل غازی جیسے جنگجو بہت کم ملتے ہیں لیکن ہماری نسل انکو جانتی نہیں بہت بہادر جنگجو تھے آپ… ہر واریئر جنگجو اسلام میں گذرا اس پہ جس نے کچھ نہ کچھ اسلام کے لئے کیا اس کا ایک روحانی پہلو ضرور ہے, اسکے پیچھے ایک روحانی شخصت ضرور ہوتی ہے جسکی ڈیوٹی اﷲ پاک نے لگائی ہوتی ہے تاریخ اٹھا لیں اسلام کے آغاز سے لے کر اب تک آج بھی اگر کوئی اسلام اور امت مسلمہ کے لئے کوئی ڈیوٹی کر رہا ہے تو اسکا روحانی پہلو بھی ضرور ہوگا اس جنگجو ارتغل غازی کے پیچھے ایک روحانی شخصیت شیخ محی الدینؒ ابن العربی تھے ( آپ درجنوں کتب کے مصنف ہیں اس کے ساتھ آپ نے قرآن پاک کی مایہ ناز تفسیر بھی لکھی علم کی دنیا کے بادشاہ جانے جاتے تھے اور تصوف میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے) جو اندلس سے ارتغل غازی کی روحانی مدد کو پہنچے تھے امام ابن العربی کی دعا اور مددنے ارتغل غازی کو دو مرتبہ موت کے منہ سے نکالا اور ہروقت ارتغل کی روحانی مدد کرتے رہتے تھے اﷲ پاک ارتغل غازی کا رتبہ بلند فرمائے اور ہزاروں رحمتیں ان پر نازل ہوں خداکرے دنیا پر پھر خلافت کا دور دورہ ہوجائے تاکہ مسلمانوں کی نشاط ِثانیہ بحال ہوسکے آمین
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 111 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 116 Articles with 26671 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: