سرینگر کے میڈیا پر نئی پابندیاں

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے میڈیا پر بھی نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں ۔ صحافیوں کی گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑ کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ آزاد صحافیوں کو دفاتر اور گھروں سے حراست میں لے کر ٹارچر سنٹرز پر پابند سلاسل بنایا جا رہا ہے۔ ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ تفتیش کے نام پر انہیں بلا وجہ ہراساں کیا جا رہا ہے۔ آزادی پسندوں یہاں تک کہ بھارت نواز سیاستدانوں کی گرفتاریوں کے بعد سچ پر پردہ ڈالنے کے نئے حربے آزمائے جا رہے ہیں۔سرینگر میں کشمیر پریس کلب نے گزشتہ روز ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس میں میڈیا کی آزادی سلب کرنے پر غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے بعد ایک بیان جاری کیا گیا۔ جس میں کہا گیاکہ 5 اگست 2019سے جب بھارت نے جموں و کشمیر کو اپنی سیاسی خودمختاری سے محروم کردیا ہے ،قابض حکومت ''صحافیوں اور میڈیا کو آزادانہ طور پر کام کرنے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ پریس کلب کے ایک اجلاس میں، جس میں 270 سے زیادہ صحافی ہیں، نے کہا، ''چھ ماہ کا انٹرنیٹ بندش کافی نہ تھی، اب صحافیوں کو ڈرانے کے لئے سیکیورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ جسمانیتشدد، دھمکیاں اور صحافیوں کو فورسز کیمپوں میں طلب کیا جا رہا ہے‘‘۔ سری نگر میں کشمیر پولیس کیٹاسک فورس کے اہم مرکز، کارگومیں بھارتی نیوز میگزین آؤٹ لک کے لئے کام کرنے والے نصیر احمد گنائی اور مقامی نیوز ایجنسی سی این ایس کے نامہ نگارہارون نبی سے پوچھ گچھ کے دو دن بعد یہ اجلاس طلب کیا ۔دونوں صحافیوں نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کاایک بیان شائع کیا تھا جس میں 9 فروری اور 11 فروری کو ہڑتال کا مطالبہ کیا گیا تھا،حریت پسند محمد افضلگورو کو بھارت کی پارلیمنٹ پر حملے میں مبینہ کردار کے الزام میں بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی،فرنٹ کے بانی مقبول بٹ کو 1984 میں پھانسی دی گئی۔گرفتار کئے گئے دونوں کشمیری صحافیوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ انہیں یہ بیان کیسے حاصل ہوا ،جو تمام صحافیوں اور نیوز ایجنسیوں کو ای میل کیا گیا تھا۔پریس کلب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''فورسز کا کشمیر میں صحافیوں کو ہراساں کرنا اور ان سے پوچھ گچھ کرنا خوفناک حالات کی عکاسی کرتا ہے،جس میں میڈیا کام کررہا ہے،'' ۔بیان میں صحافیوں عرفان امین ملک کی مثال کا حوالہ دیا گیا ہے کہ کس طرح 14 اگست، 2019 کو پولیس اہلکاروں نے انہیں اپنے گھر سے اٹھایا اور راتوں رات تھانے میں حراست میں لیا گیا ، پیرزادہ عاشقکی پولیس کے ذریعہ پوچھ گچھ کی گئی اور ان کی میڈیا رپورٹس کے ذرائع ظاہر کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا۔ زبیر ڈار اور مزمل مٹو کو نومبر میں ایک مزار پر نماز پڑھتے ہوئے مارا پیٹاگیا۔ اذان جاوید اور انیس زرگر کو طلباء کے احتجاج کو کوریج کرتے ہوئے پولیس نے مار پیٹ کی۔ 30 نومبر کو بشارت مسعود (انڈین ایکسپریس) اور حکیم عرفان (اکنامک ٹائمز) کو کارگو سنٹر طلب کیا گیا اور ''پولیس نے ان کی رپورٹس پر انکوائری کی۔دونوں کو 23 دسمبر کو ہندواڑہ میں روکا گیا۔ پولیس ایک کہانی پر تحقیق کرتے ہوئے ایس پی کے دفتر لے گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ ''لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔''حکومت کشمیریوں صحافیوں پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ آزادی پسندوں کے حامی ہیں۔ ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

25 جنوری تک، فون پر کم رفتار انٹرنیٹ کو بحال کیا گیا۔ صرف حکومت سے منظور شدہ ویب سائٹوں تک ہی رسائی حاصل کی جا سکتی تھی، صحافیوں کو اس سرکاری سہولت سے کام کرنے پر مجبور کیا گیا جس میں 11 کمپیوٹر موجود تھے۔ روزانہ اوسطا 250 سے 300 صحافی اس سنٹر کا دورہ کرتے تھے۔صحافیوں کی رپورٹس کی سکرینگ کی جاتی تھی۔ انہیں سنسر کیا جاتا تھا۔تمام صحافیوں کو ایک ہی چھت تلے کام کرنے اور ان کو انٹرنیٹ تک رسائی کے چند منٹدیئے جاتے تھے۔

قابض حکومت یہ یقینی بنارہی ہے کہ کشمیر کی آواز کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ صحافیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ آپ احتجاج نہیں کرسکتے کیونکہ دفعہ 144کے تحت عوامی مقام پر چار سے زیادہ افراد کی جمع ہونا ایک مجرمانہ جرم ہے۔ انٹرنیٹ کی محدود بحالی نے صحافیوں کا کام کٹھن بنا دیا ہے۔ مقبوضہ وادی میں مقامی خبر رساں اداروں کے لئے کام کرنے والے رپورٹرز سے یہ عہد کرنے کو کہا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا ویب سائٹ تک رسائی حاصل نہیں کریں گے ۔ایک صحافی، جو انگریزی روزنامے کے لئے کام کرتے ہیں، کا کہنا ہے ، ’’میں نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے۔ میں نے اپنے باس سے کہا کہ میں آفس انٹرنیٹ ککی جگہ اس کا استعمال نہیں کروں گا کیونکہ یہ کام بہت ہی ذلت آمیز ہے‘‘۔صحافی نے کہا کہ قابض حکام نے صحافیوں پر دباؤڈالنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے متعدد طریقوں کا استعمال کیا ہے، انہوں نے دو اخبارات، گریٹر کشمیر اور کشمیر ریڈر کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا، جو چار اگست2019 کولاک ڈاؤن، مواصلات اور سیکیورٹی بندش نافذ کرنے سے کئی ماہ قبل تمام سرکاری اشتہارات سے محروم کر دیئے گئے۔ کشمیر ریڈر کو ابھی تک اشتہارات جاری نہیں کیے گئے ہیں، اس کی اشاعت پر 2016 میں تین ماہ کے لئے پابندی عائد تھی۔مقبوضہ کشمیریوں کو بھی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طور پر رپورٹ کرنے کا حق ہے، کشمیر پریس کلب کا خیال ہے کہ صحافیوں پر پابندیوں اور پولیس کی جانب سے نیوز ایجنسیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے تا کہ صرف ان اطلاعات کو عام کیا جاسکے جن میں بھارتی حکومتکے حق میں بیان ہوں۔ بھارتی حکومت پریس پر پابندی لگا کر اپنے آئین کی بھی نفی کر رہی ہے جس میں بظاہر بیان اور اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ بھارتی حکومت اور اس کی کٹھ پتلی گورنر انتظامیہ کشمیر میں میڈیا کو مسئلے کے ایک حصے کے طور پر دیکھ رہی ہے اور ہر غلط کام کے لئے صحافیوں پر الزام عائدکئے جا رہے ہیں سرینگر میں پریس کلب کے صحافی ان واقعات کا حوالہ دے رہے ہیں جب 5 اگست کو دہلی نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد صحافیوں کو ہراساں کیا ، انہیں فورسز کیمپوں میں طلب کیا گیا اور ان کی نقل و حرکت محدود کر دی۔بھارتی فورسز کشمیریوں صحافیوں کی رپورٹس پر انہیں تشدد کا ناشنہ بنا رہے ہیں اور ان سے ان کی رپورٹس کے زرائع بتانے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔بھارت کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم دنیا سے چھپانے کے لئے میڈیا کو خوفزدہ کر رہا ہے۔دہلی حکومت چاہتی ہے کہ بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف بلند ہونے والی کشمیریوں کی آواز دنیا تک نہ پہنچے۔ آزاد میڈیا کے لئے کام کرنے والے عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندیوں کا نوٹسلیں۔ قابض بھارتی حکام کو صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور انہیں ہراساں کرنیسے روکنے کے لئیاقدامات کریں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 240 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 498 Articles with 163878 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: