اِنشا‘سہ ماہی ادبی جریدہ شمارہ 103_104،جولائی تا دسمبر 2019ء

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

اِنشا‘سہ ماہی ادبی جریدہ
شمارہ 103_104،جولائی تا دسمبر 2019ء
اس وقت میرے پیش نظر سہ ماہی ادبی جریدہ ”انشا“ شمارہ 103_104،جولائی تا دسمبر 2019ء ہے جو حیدر آباد سندھ سے شائع ہورہا ہے۔ انشا کے مدیر پروفیسر صفدر علی انشا نے یہ شمارہ گزشتہ دنوں ڈاکٹر تنویر انور خان کے افسانوں کے پانچ مجموعوں کی تقریب اجراء کے موقع پر عنایت فرمایا، یہ تقریب کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ رسالے کے تقسیم کار شہزاد سلطانی سبب بنے میرا تعارف پروفیسر صفدر علی انشا سے کرانے کا۔ شہزاد سلطانی سے بھی چند دن قبل ہی تعارف ہوا جس میں انہوں نے ادبی جریدے انشا اور اس کے مدیر کے بارے میں بتایا۔

ادب کی ترقی و ترویج میں ادبی رسائل و جرائد کی اہمیت کلیدی ہے۔ ادبی رسائل کی اشاعت سے بہت پہلے ادبی موضوعات پر لکھنے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔ ابتدائی ادوار میں اخبارات ہی ادبی تحریروں کی اشاعت کا واحد ذریعہ تھے، یہ اخبارات روزنامہ یا ہفتہ وار ہوا کرتے تھے۔اردو کا پہلا ادبی جریدہ جس کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے ”گل دستہ“ تھا جسے مولوی کریم الدین پانی پتی نے جاری کیا، انہوں نے ہی بعد میں ”گل رعنا“ بھی نکالا۔ پہلی جنگ آزادی 1857ء کے بعد چند ادبی جرائد کا ذکر ملتا ہے ان میں اودھ اخبار، اودھ پنچ، تہذیب الا خلاق، انجمن وغیرہ۔ بیسویں صدی شروع ہونے کے بعد اردو ادب کی جانب توجہ مرکوز ہوئی، لکھنے والوں میں اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ اس زمانے کے معروف ادیبوں نے ادبی رسائل کی اشاعت میں دلچسپی لینا شروع کردی تھی۔ چنانچہ بے شمار رسائل و جرائد جنہیں ادبی رسائل کہا جاسکتا ہے شائع ہونا شروع ہوئے، بعض بعض کی شہرت تو بہت زیادہ ہوگئی۔ ان جرائد میں مخزن، زمانہ، اردوئے معلیٰ، زبان، الہلال، عصمت، ہمدرد، الفاظ، علی گڑھ میگزین، ہمایوں، اردو، نگار، ادبی دنیا، نیرنگ خیال، عالمگیر، ساقی، شاعر، ادب لطیف، شاہکار، سب رس، آج کل، کتاب، افکار، نیادورشامل تھے۔

قیا م پاکستان کے بعد ہندوستان کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہوگئی، بے شمار جرائد بند ہوگئے، پاکستان جس علاقے پر مشتمل تھا یہاں سے بہت کم رسائل شائع ہورہے تھے، جو نکلا کرتے تھے وہ بھی اپنی اشاعت برقرار نہ رکھ سکے۔ جیسے جیسے پاکستان استحکام کی جانب بڑھا، ادیبوں اور شاعروں نے ادبی رسائل کی اشاعت کی جانب توجہ دینا شروع کی۔ ان ادبی جرائد میں چٹان، نقوش، قومی زبان، سنگ میل، اردو ادب، ماہ نو، نئی قدریں، انشاء، مہر نیم روز، لیل و نہار، صحیفہ، داستان، شعور، نصرت، سات رنگ، قلم کار، اسلوب، فنون، سیپ، اوراق، تخلیق، الفاظ، قرطاس، تلاش، آج، بادبان، مکالمہ، چہار سو، اردو نامہ، الحمرا، دنیائے ادب، ارتقا شامل تھے۔ ان میں سے اب متعدد اپنی اشاعت جاری نہ رکھ سکے۔

پیش نظر انشا کا شمارہ ادب کی متعدد اصناف کا احاطہ کرتا ہے۔ اداریے کا عنوان ہے’’پاکستان میں ادب زوال پزیر ہے“۔ مدیر کے کہنے کے مطابق یہ دعویٰ نہیں بلکہ مفروضہ ہے مگر دعوے سے قریب تر ہے‘۔ مدیر کا خیال ہے کہ فی زمانہ حقیقی ادب تخلیق نہیں پا رہا بلکہ مشاعروں کا اہتمام زیادہ کیا جارہا ہے اور اس میں بھی شاعری کا معیار وہ نہیں جو ہونا چاہیے۔ کسی حد تک مدیر کی اس بات سے اتفاق بھی کیا جاسکتا ہے۔ راقم نے ایک مضمون ”ادب زوال پزیر نہیں“ کے عنوان سے لکھا تھا جو روز نامہ جنگ میں شائع ہوا تھا۔ میرا نقطہ نظر مدیر سے مختلف تھا، میری سوچ کچھ یہ تھی کہ ادب کو کبھی بھی زوال نہیں ہوسکتا، ہر دور کے حالات اور عوامل کے اعتبار سے شاعر، ادیب اور دانش ور اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق ادب تخلیق کرتے ہیں۔البتہ تنقید برداشت کرنے کا مادہ لوگوں میں ناپید ہوگیا ہے۔ پھر تنقید برائے تنقید ہو یا اس وجہ سے ہو کہ تخلیق کار کیونکہ نومولود ہے، حالانکہ نئے لکھنے والے کی تخلیق کا معیار ویسا ہی ہوگا۔ اگر اسے حدف تنقید بنایا جائے گا تو اس کی حوصلہ شکنی ہوگی، سارے ادیب ایک دم اعلیٰ درجہ کے ادیب نہیں بنے، وقت اور مشق نے انہیں اعلیٰ مقام پر پہنچایا ہے۔ تحریر نثر کی ہو یانظم اگر وہ جاندار ہوگی، اس میں اثر ہوگا، سننے اور پڑھنے والے پر اثر انداز ہوگی، شاعر ترنم کا سہارا لے یا خوش الحانی کا وہ مقبولیت حاصل کرلے گا، ایسی بے شمار مثالیں ہیں، حبیب جالب کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
پیش نثر شمارہ میں فیروز ناطق خسرو کی حمد اور واحد رازی کی نعت کے بعد مضامین کا سلسلہ ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی کا مضمون ”سوقِ عُکاظ“ ہے سوق عربی میں بازار کو کہا جاتا ہے، یہ تحریرمکہ میں نخلہ اور طائف کے درمیان چند فاصلے پر ہر سال لگنے والے بازار یا میلہ کے بارے میں ہے، تجارت کے ساتھ ساتھ شعر ی نشست بھی اس میلے میں ہوا کرتی تھیں۔ مضمون کی بنیاد اس میلے میں ادب کے حوالے سے منعقد ہونے والے ادبی پروگرام ہیں، جن کی تفصیل مصنف نے بیان کی ہے۔ محمد عامل عثمانی کا کئی سال پرانہ مختار مسعود کا انٹر ویو ہے، یہ انٹر ویو اس سے قبل کئی جگہ شائع ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر شمع افروز جو استاد ہیں شعبہ اردو جامعہ کراچی کی ان کے دو طویل مضامین ”افسر ماہ پوری کی نعت شناسی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ“ اور ”قیوم نظر کی نعت گوئی کا فکری و فنی مطالعہ“نعت گوئی پر عمدہ اور تحقیقی اہمیت کے حامل ہیں۔قیوم نظر کی نعت کا ایک شعر۔
میں درِ مصطفیٰ ؑ پہ پہنچا ہوں...........اپنی قسمت پہ ناز کرتا ہوں

شفیع ہمدم نے ملک مقبول احمد کی کتاب ”برسبیل گفتگو“کا جائزہ لیا ہے۔ ظہیر خان صاحب نے ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کی چھبیسویں کتاب ”یوں نہیں یوں“ کی تقریب اجراء کو چھبیسویں واردات قرار دیتے ہوئے اس کا حال بیان کیا ہے۔ رقیہ غزل کا تعلق لاہور سے ہے انہوں نے ”لمحہ موجود کا شاعر۔ ماجد جہانگیر مرزا“ کے عنوان سے مرزا جی کی شاعری پر اظہار خیال کیا ہے۔ ماجد جہانگیر کے دو اشعار۔
یہ عشق کے مقام کی ادنی مثال ہے
دنیا کو اپنے ہاتھ پہ دنیا دکھاؤں گا
ماجد درود پاک کی کثرت سے ایک دن
رستے پکاریں گے مجھے منزل میں پاؤں گا

مضامین کے بعد نظم کے تحت انور فرہاد، آصف جمالی، ممتاز زلفی مصطفیٰ کی نظمیں شمارہ کا حصہ ہیں۔ ظفر محمد قریشی کا افسانہ ”اک احساس کہ تمنا کہیں جسے“، نجیب عمر کا ”حیرتُُ، نگہت یاسمین کا ”یہ کہانی پھر سہی“اچھے افسانے ہیں۔ حصہ غزلیات میں ناصر زیدی، جان کاشمیری، رحمان خاور، نسیم سحر، عرفان ستار، کرامت بخاری، خواجہ رحمت اللہ جری، جمال نقوی، افتخار اشعر، صائم جی، عشرت معین سیما، جمال احمد انجم، راؤ ااکرم جاوید، مونا نجمی، نعمان احمد ہاشمی اور وجاہت انور کے غزلیات سے یہ شمارہ مزین ہے۔ غفور اسد کا انشائیہ ”شگفتہ شگفتہ(نکین عید کا نکین فسانہ)، سید عارف مصفےٰ کا ”ہیں میرے بھی غمخوار کیسے کیسے“، دلچسپ اور پر مزاح ہیں۔ یاد نگاری کے تحت ابن عظیم فاطمی نے معرود شاعر، استاد کاوش عمرمرحوم پر عمدہ مضمون ”کاوش عمر ہم میں نہیں رہے“ لکھا۔ کاوش عمر کا شعر ۔
کسی موج نے ڈبویا کسی موج نے ابھارا
اسی کشمکش میں آخر مجھے مل گیا کنارہ

ابن عظیم فاطمی لکھتے ہیں کہ انہیں اشعار میں ہم معنی الفاظ کو خوبصورت ترتیب کے ساتھ موتی کی طرح پرونے کا ملکہ حاصل تھا جو ان کی قادر الکلا می کا مُنہ بولتا ثبوت ہے۔یہاں جو شعر درج کیے وہ دیکھئے۔
سُرمئی، زرد، کچنار، دھانی فضا، تقرئی چمپئی، زعفرانی فضا
احمریں، لالہ گوں، ارخوانی فضا، افسوں کناں ہے ترے شہر میں
وعظ، ناصح، شیک، عالم، فاجل، پیر، فقیہ
سیدھی راہ نہ جانے کوئی سب گمراہ قبیلے ہیں
تبسم، قہقہہ، شوخی، شرارت، بانکپن خمزہ
مری آنکھوں سے کب تیرا کوئی منظر گیا جانا

شعبہ کتاب و رسائل پر تبصرے میں شفیق احمد شفیق نے کئی کتابوں اور ایک جریدہ پر عمدہ تبصرہ کیا ہے۔ شجاع الدین غوری کی کتاب ”مزے مزے کے مشاعرے“، رسالہ ادب لطیف، غالب نمبر۔ پروفیسر حفظ نسیم الدین کی کتاب ”الیکشن سے الیکشن تک“ اور مہ جبیں قیصر کی کتاب ”تجزیاتی مضامین“ شامل ہیں۔ شمارہ کے اختتام ”ارشادات“ کے تحت انشا سے جڑے احباب کے رائے یا خطوط ہیں جو مختلف احباب نے مدیر کو لکھے۔ ان میں کرامت بخاری، عشرت علی خان، فاروق حسین قادری، ملک محبوب الرسول قادری شامل ہیں۔مجموعی طور پر انشا کا یہ شمارہ معلوماتی اورادب کی مختلف اصناف پر عمدہ معلومات فراہم کرتا ہے۔ لمحہ موجود میں رسالہ خاص طور پر ادبی جریدہ شائع کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ پروفیسر صفدر علی انشا ادب کے میدان میں جہاد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں حمت اور حوصلہ عطا فرمائے اور وہ اس علمی و ادبی خدمات کو جاری رکھیں۔
(16فروری2020ء)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 179 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 686 Articles with 519033 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: