بے کار آدمی

(Abdul Razzaq, Karachi)
عام زندگی میں شوہر کی دن بھر کی روداد

فجر کی آذان پر آنکھ نہ کھل سکی، آلارم بھی کافی دیر شور مچاتا رہا، پڑوس کے مرغے کو بھی غصہ آرہا تھا اور وہ بھی ایڑی چوڑی کا زور لگا کر نیند سے بیدار کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ لیکن لاحاصل! آخر کار زوجہ محترمہ نے جھنجھوڑ کر جگایا کہ نماز نہیں پڑھنی کیا؟ھڑبڑا کر اٹھے، باتھ روم گئے تو پانی نہیں، مالک مکان (جو گراؤنڈ فلور پر ہی رہتے ہیں اور موٹر چلانا انکی ذمہ داری ہے) کو دل ہی دل میں جو کچھ کہہ سکے، بھڑاس نکال لی۔ بمشکل وضو کیا۔نماز پڑھی اور پھرزوجہ محترمہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگیں اور ہم پھر بستر پر۔ کیونکہ ابھی دفتر جانے میں کچھ وقت تھا۔دوبارہ پھر آنکھ کھلی تو پھر وہی ہنگامہ کہ کیا دفتر نہیں جاناہے؟دل تو نہیں چاہتا لیکن گھر میں اگر سکون ملے تو بندہ دفتر کی چھٹی بھی کر لے۔بادل نخواستہ اٹھے، تیا ر ہوئے، ناشتہ کیا،اور دفترکا رخ، یہ روزانہ کا معمول ہے۔دفتر سے واپس آنے کے بعد شام کو عوام کی خدمت اور اپنی روزی میں اضافہ اور برکت کے لئے ایک کلینک کا انتظام اللہ نے کیا ہوا ہے۔جس کی انتظامی ذمہ داریاں ہمارے ہی ذمہ ہیں۔ اور زوجہ بھی وہاں ہاتھ بٹاتی ہیں۔

گھروالے یہ سمجھتے ہیں کہ دفتر کوئی بہت آرام و سکون کی جگہ ہے۔ لیکن یہ تو ہم ہی جانتے ہیں کہ کتنی عزت و وقار ہے دفتر میں۔ایک دہائی ہو گئی ہے دفتر میں کام کرتے ہوئے لیکن مجال ہے کہ چائے ایک طرح کے ذائقے کی مل جائے۔ہرنیا دن، نیا ذائقہ؟۔ کراچی کے ٹینکر کا گدلا پانی ڈسپینسر کی بوتل میں بھر کر سب ملازمین پیتے ہیں۔ ابھی تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا کہ توہین کس کی ہو رہی ہے؟ اشرف الخلوقات کی، ڈسپینسر کی یا ٹینکر کی (واضح رہے کہ یہ ایک پرائیویٹ نوکری کی بات ہو رہی ہے، لیکن عملا نظام سرکاری معلوم ہوتا ہے، کام کو ٹالنے کا رواج عام ہے)۔

دفتراور سیاست لازم و ملزوم ہیں، ہر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگا ہوا ہوتا ہے۔ بات اپنی ہو رہی تھی اور بیچ میں یہ دفتری معاملات آگئے لیکن دنیا میں رہنا ہے تو دنیا کے ساتھ رہنا ہے، اس لیئے کچھ تذکرہ اپنے ارد گرد والوں کا بھی ضروری ہو جاتا ہے اور گھر سے زیادہ وقت دفتر میں ہی گذرتا ہے۔بتانا یہ تھا کہ دفتر میں پورا دن گذارنا آسان تھوڑی ہے، کام کرو نہ کرو لیکن ہم نوالہ ہم پیالہ لوگوں کی غیبت، کسی کی شکائت، یہ ہماری قوم کا مزاج بن چکا ہے۔ اپنی غلطی دوسرے کے سر ڈالنااورکسی کی چغلی کرنے سے جو سواد ملتا ہے وہ نا قابل بیان ہے۔چغلی سے وقتی طور پر اپنی عزت ہوتی نظر آتی ہے لیکن دوسرے دن دوسرا بھی اس انتظار میں ہوتا ہے کہ جیسے ہی اسے موقع ملے وہ بھی اس کار خیر میں حصہ لے۔اورپھر باس کی نظربد سے محفوظ رہنا مشکل ہو جاتا ہے اور اپنی درگت بن جاتی ہے۔ باس ہر اس شخص پر ہاوی ہوجاتے ہیں جو ان کے غیض وغضب کے سامنے کمزور پڑ جائے۔ یہاں سب سے زیادہ کامیاب آدمی وہ ہوتا ہے جو”مخبر“ کہلاتا ہے۔ لیکن وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ جب افسر کا کام نکل جاتا ہے تو اس کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکتا ہے۔ درمیانہ طبقہ (سفید پوش) سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہ ایک طرح سے سینڈوچ بن کر رہ جاتے ہیں۔

سارا دن دفتر میں مغز ماری کے دوران گھر کے مسائل بھی ساتھ ساتھ حل کرنا ہماری ہی زمہ داری ہے، یعنی لائٹ چلی گئی، کمپلین کرادیں، ہولڈر خراب ہوگیا الیکٹریشن بھجوادیں، کارپینٹر یا پلمبر کی ضرورت ہے تو ان کی منت سماجت کر نا، کوئی بل جمع کرانا ہے یا بینک کا کوئی کام ہو تو ہم ہی یاد آتے ہیں۔، یہ تمام اعمال بھی دن میں دفتری کام کے دوران بذریعہ فون انجام دینے پڑتے ہیں۔آج کے دور میں بل جمع کرانا اتنا مشکل نہیں رہا، اگر آپ نے نیٹ بینکنگ کی سہولت لی ہوئی ہے۔

آخرکار دفتر تھک ہار کر شام کو گھرسے چائے وغیرہ سے جلدی جلدی فارغ ہو کر کلینک چلے جاتے ہیں جو کہ نزدیک ہی ہے۔ یہاں پر ہماری زوجہ بھی خدمات انجام دیتی ہیں اس لئے وہ بھی ساتھ جاتی ہیں۔زوجہ کی ذمہ داریاں بھی کم نہیں ہیں۔ وہ صبح ناشتہ سے فارغ ہوکر اپنے فلاحی کاموں میں لگ جاتی ہیں۔کسی کی مددکرنا، کسی کا فون اور کسی کو میسیج، یہ پیغامات کا سلسلہ دوپہر تک چلتا ہے پھر دوپہر کو گھر کے کام کھانا پکانا، کھلانا اور ظہر کے بعد درس و تدریس کی ذمہ داریاں، خواتین کو دین کی باتیں بتانابھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔کاش! کہ وہ شوہروں کی خدمات سے متعلق ذمہ داریاں بھی سمجھایا کریں۔!

کلینک پر ہماری ذمہ داریاں انتظامی امور کی ہیں اس وجہ سے وہاں بھی بہت سے لوگوں کے مسائل اور ان کا حل کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے۔ مریضوں سے زیادہ فقیروں سے واسطہ،مزید ڈاکٹرز کی مشکلات، اسٹاف کی کمی، مختلف شکایات اور مسائل سے نمٹنے کے بعد گھر کا رخ، کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر بستر پر ہاتھ پاؤں میں درد کی کراہ! نیند کا خمار او ر ملے جلے خراٹے اسی میں ایک پراسرار سی آواز”آپ میری دوا نہیں لائے، دھوبی سے کپڑے بھی لانے تھے، او ر موچی کو جوتے مرمت کے لئے دینا تھے، آپ تو واقعی ایک ”بے کار آدمی“ہیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 133 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Razzaq

Read More Articles by Abdul Razzaq: 15 Articles with 2852 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: