صرف ایک ہی بیوی کے ساتھ انصاف نہیں !!!

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

پاکستان میں ہماری ایک جاننے والی پختون فیملی کے رشتہ داروں میں سے ایک لڑکی کو جب ہم نے پہلی بار دیکھا تھا تو اس کی شادی کو چار مہینے ہو چکے تھے اور اسے دیکھا تو پھر دیکھتے ہی رہ گئے ۔ بلا مبالغہ لڑکی کیا تھی بس جیسے جنت سے نکلی ہوئی کوئی حور تھی جو بھٹکتی ہوئی اس زمین پر آ نکلی تھی ۔ شاید اسی وجہ سے اس کی بلوریں آنکھوں میں ایک عجب حزن و ملال کی سی کیفیت جاگزیں تھی ۔ پھر اسی لڑکی کو ہم نے دوسری بار چار سال بعد دیکھا تو اسے پہچاننا مشکل ہو گیا ۔ یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے ، گہرے حلقوں بلکہ گڑھوں میں اُتری ہوئی ویران آنکھیں جھلسی ہوئی رنگت مرجھائی کھال چھدرے بال پچکے گال ، غرض ایک مدقوق و مجہول ساہڈیوں کا ڈھانچہ ہمارے سامنے تھا ۔
اس لڑکی کا شوہر شادی کے صرف دو ہفتے بعد کینیڈا چلا گیا تھا اسے بطور لونڈی اپنے گھر والوں کے سپرد کر کے ۔ پھر آپ یقین کریں یا نا کریں چودہ سال تک تو وہ واپس نہیں آیا تھا ۔ مگر دوست فیملی کے ہاں سے سننے میں آتا تھا کہ اپنے گھر والوں کو باقاعدگی سے پیسے بھیجتا ہے اور آنے جانے والوں کے ہاتھ سے سامان بھی جس میں سے لڑکی کبھی کچھ نہیں لیتی ۔ اور پھر فون بھی کرتا ہے سسرال والے اپنی باریاں لے لینے کے بعد جب اسے بلاتے ہیں تو وہ کہتی ہے مجھے اس کافر سے بات نہیں کرنی ۔ لڑکی کی سہیلیاں اور کزنز جھولی پھیلا پھیلا کر اس کے شوہر کو بد دعائیں دیتی ہیں کہ خدا کرے کمبخت وہیں مر جائے تاکہ اس بدنصیب کی دوسری شادی تو ہو سکے ۔ طلاق یا خلع کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کیونکہ لڑکی کے ورثاء نے ولور کے نام پر اس زمانے کے پانچ لاکھ روپے وصول کیے تھے ۔ اور ایسی صورت میں ان کا کوئی حق باقی رہتا ہے نہ اختیار ۔ لڑکی کی حیثیت صرف ایک زرخرید کنیز کی سی ہوتی ہے اور سسرال والے اپنی اس ملکیت کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کریں اسے انسان ہی نہ سمجھیں اس کی کھال کی جوتیاں بنوا کر پہنیں میکے والے اعتراض نہیں کر سکتے ۔ اور اس بدنصیب لڑکی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کا اندازہ اس کی ان چار سالوں میں ہو جانے والی حالت سے لگایا جا سکتا ہے ۔ پتہ نہیں ابھی زندہ بھی ہے یا مر گئی؟

شریعت واضح کرتی ہے کہ کوئی بھی شخص اگر کسی بھی وجہ سے بیوی کے بنیادی حقوق یعنی رفاقت اور رہائش ادا کرنے سے قاصر ہو تو وہ نکاح سے گریز کرے روزے رکھے ۔ شریعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو لوگ شادی کے بعد بیوی کے حقوق صحیح طرح سے ادا نہیں کرتے اور ان سے الگ تھلگ رہ کر زندگی گذارتے ہیں تو ان سے آخرت میں بہت سختی کے ساتھ بازپرس ہو گی اور ایسا شخص اپنی نیکیوں اور عبادات کے باوجود اللہ کی رحمت اور آقا ﷺ کی شفاعت سے محروم رہے گا ۔ جبکہ ایک حدیثِ نبوی ﷺ ہے کہ کوئی شخص دو شادیاں کرے اور بیویوں کے درمیان انصاف نہ قائم کرے تو وہ روز قیامت اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا آدھا دھڑ مفلوج ہو گا ۔ تو سوچنے والی بات ہے کہ جو لوگ وسائل اور استطاعت رکھنے کے باوجود صرف ایک ہی بیوی کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو وہ کل میدان ِحشر میں کس حال میں اٹھائے جائیں گے؟ (رعنا تبسم پاشا)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 926 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 126 Articles with 810452 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ