تاخیر سے بچنا

(Dr. Shakira Nandini, Porto)
کسی ایسی چیز کو جس کا کیا جانا ضروری ہے اسے نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈھنا پچھتاوے اور دباؤ کا باعث بنتا ہے؛ اسے مسرف پن کہتے ہیں۔ طلباء میں مسرف پن کا لبادہ اوڑھ کر ایسے کاموں میں لگے رہنا جن کا کئے جانے والے کاموں سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا بہت عام ہے۔ (ڈاکٹر شاکرہ نندنی)

آپ کے پاس صرف بارہ گھنٹے بچے ہیں اور آپ کو ایک ۲۵ صفحات کی اسائنمنٹ پوری کرنی ہے، جو کہ پچھلے ۳ ہفتوں سے التواء کا شکار ہے۔ ابھی تک ۱۰ صفحات رہتے ہیں ، آپ سوچنا شروع کرتے ہیں، کہ آپ اس مقام تک کیسے پہنچے جہاں آپ کو وقت کی کمی کاسامنا ہے اور ڈیڈ لائن سر پر ہے۔ گھبراہٹ ہونا شروع ہو جاتی ہے، دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایسا ہو رہا ہے۔ تب آپ کو یاد آتا ہے آپ نے یہ سوچ کر دو ہفتے ضائع کر دیے ہیں کہ اس اسائنمنٹ کو کرنے کے لئے ابھی بہت وقت پڑا ہے اور آپ نے اس کام سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اور اب جبکہ ڈیڈ لائن میں صرف ۱۲ گھنٹے رہ گئے ہیں، اور آپ ابھی بھی سوچ رہے ہیں کیوں نہ میں چائے کا ایک کپ پی لوں یا کچھ ہلکا پھلکا کھا لوں۔

کسی ایسی چیز کو جس کا کیا جانا ضروری ہے اسے نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈھنا پچھتاوے اور دباؤ کا باعث بنتا ہے؛ اسے مسرف پن کہتے ہیں۔ طلباء میں مسرف پن کا لبادہ اوڑھ کر ایسے کاموں میں لگے رہنا جن کا کئے جانے والے کاموں سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا بہت عام ہے۔

حیلہ تراشی کی وجوہات:
۔ وقت کا ناقص انصرام؛ اپنے کاموں کی ترجیح کا تعین نہ کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کچھ مخصوص کام مکمل کر ہی نہیں پائیں گے۔ یہ اس وجہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس بات کا یقین ہی نہ ہو کہ ٹاسک کو شروع کیسے کرنا ہے، یا ٹاسک مشکل ہے، اس لئے آپ اس سے بچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ڈیڈ لائن سر پر آجاتی ہے۔ بہت سے لوگ اس لئے بھی حیلہ تراشی کرتے ہیں، اگر وہ جانتے ہیں کہ کِیا جانے والا کام اُکتا دینے والا ہے۔ غیر حقیقی اہداف کا تعین کرنے اور اس خوف سے کہ آپ ان معیارات پر پورا نہیں اُتر سکیں گے بھی حیلہ تراشی کا باعث بنتا ہے۔ ماحول یا حالات بھی طلباء کو کسی کام کے مکمل کرنے کے لئے مناسب ترغیب مہیا کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

حیلہ سازی سے بچنے کی تراکیب؛
درج ذیل میں تاخیر کے شیطانی چکر سے بچنے کے لیے کچھ تراکیب دی گئی ہیں۔ جس کام کو آپ کر رہے ہیں اس سے پورا کرنے کا عہد نبھائیں۔ کسی اسائنمنٹ کو آدھے راستے میں نہ چھوڑیں۔
وقت کا انصرام بہتر بنائیں اور اپنے کاموں کی ترجیح کا تعین کریں۔۔۔
سب سے اہم کام کو اس وقت سر انجام دیں جب آپ ذیادہ توانا ہوں۔۔۔
کام اور مطالعہ کے لئے مناسب جگہ کا انتخاب کریں۔۔۔
اگر آپ اکیلے کام کرنے سے اُکتا جاتے ہیں تو گروپ کی شکل میں کام کریں۔۔۔
بڑے پروجیکٹ کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں۔۔۔
اگر کسی کام میں آپ پھنس جائیں تو اس کے لئے مختلف حکمتِ عملی اپنائیں۔۔۔
اپنے لئے غیر حقیقی اہداف کا تعین کرنے کی کوشش نہ کریں۔۔۔
مثبت اندازِ سوچ اپنائیں اور اپنے آپ کو ترغیب دیں۔۔۔
اور آخر میں اگر آپ اپنے کام کے معیار بارے پریشان ہیں تو جان لیں کہ کچھ کرنا کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 246 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Shakira Nandini

Read More Articles by Dr. Shakira Nandini: 162 Articles with 77439 views »
I am settled in Portugal. My father was belong to Lahore, He was Migrated Muslim, formerly from Bangalore, India and my beloved (late) mother was con.. View More

Comments

آپ کی رائے
Yes mery sath bhe bilkul yhe hota hai but now i will try to be consistent in all my routine
By: Kubra khan, Mianwali on Mar, 23 2020
Reply Reply
0 Like
Language: