نام نہاد’’صدی کی ڈیل‘‘

(Sami Ullah Malik, )

ٹرمپ کی نام نہاد’’صدی کی ڈیل‘‘پرردعمل کوئی حیران کن نہیں۔یہودیوں نے اس کوایک عظیم اقدام قراردے کرقبول کر لیاہے لیکن اس کی تفصیل منظرعام آنے تک توثیق نہیں کی۔فلسطینیوں کامؤقف پیشگوئی کے عین مطابق تھا۔انہوں نے اس کی تفصیل جاننے سے پہلے ہی اس کومستردکردیا۔ انہوں نے یہ شبہ ظاہرکیاہے کہ یہ امن منصوبہ نیتن یاہوکوجیل جانے سے روکنے کا حربہ ہو سکتاہے۔اسرائیل اورفلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے عمل کاآغازہوئے کئی برس گزرچکے ہیں۔اس طویل عرصے کے دوران میں برسوں برسراقتدار رہنے والے عرب نظاموں کادھڑن تختہ ہوچکاہے، لیبیامیں قذافی اورعراق میں صدام کی حکومت جاتی رہی، سوڈان اپناآدھاحصہ گنوابیٹھا، عمرالبشیر معزول ہوگئے،شام تباہ حال ہوچکااورسعودی ایران کشیدگی عرج پرہے۔

مشرق اوسط کے خطے کی دنیاکے توانائی کے بنیادی مآخذ کی حیثیت سے تزویراتی قدرکم ہوچکی ہے۔اس کی وجہ امریکا کی تیل کی پیداوارمیں اضافہ اورقابل تجدید توانائی ہے۔خطے کے بعض لیڈرآج بھی پرانے محافظوں کی باقیات کے طورپرموجود ہیں لیکن وہ خطے میں رونماہونے والی تاریخی تبدیلیوں کی عکاسی نہیں کرتے۔اسرائیلی صرف فلسطینی کیس کوبند دیکھنا چاہتے ہیں۔اگرانہیں مذاکرات کی میزپربیٹھنے پرمجبوراورمذاکرات شروع ہوتے ہیں تو بعض فلسطینی دھڑے،مثال کے طور پرایران اورشام کے مسابقانہ مفادات پرسودے بازی یامصالحت میں ناکام رہیں گے۔

اگرچہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سابق امن معاہدوں پربجاطورتنقیدکی گئی تھی مگراس سے بھی انکارنہیں کیاجاسکتا کہ ان معاہدوں سے جزوی طور فلسطینی مفادات کاتحفظ بھی ہواتھا۔1993ءاور1995ءمیں اوسلومیں طے شدہ معاہدوں سے فلسطینیوں کوبین الاقوامی شناخت حاصل کرنے میں مدد ملی تھی۔برسرزمین ان کاایک انتظامی ادارہ وجود میں آیاتھاجبکہ اس سے پہلے تو ان کی تیونس میں ایک جلاوطن تنظیم ہی کام کررہی تھی۔اوسلومعاہدے کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کی اپنی آبائی سرزمین پرواپسی کی راہ ہموارہوئی تھی۔

اس وقت اسرائیل کاسب سے اچھااتحادی ایران ہے۔ ماضی میں ایران نے اپنے زیراثر فلسطینی دھڑوں کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا تھاکہ قیام امن کیلئےتمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوجائیں۔ایرانی امن مذاکرات میں اعتمادکی فضاکونقصان پہنچانے کیلئےان تھک کام کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کاروں کے نیچے بم نصب کیے،اپنی زیراثرملیشیاؤں کے ذریعے طوائف الملوکی کو پھیلایا۔مرحوم فلسطینی صدریاسرعرفات کی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال اٹھائے تھے۔

جب جب امن مذاکرات ناکامی سے دوچارہوئے ہیں تواس کے متاثرہ فریق ہمیشہ فلسطینی ہی رہے ہیں، ایرانی یااسرائیلی نہیں۔ کسی معاہدے کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاکراسرائیل ہرروز فلسطینی اراضی پرقابض ہوتارہاہے اورفلسطینی علاقے سکڑتے چلے گئے ہیں۔مذاکرات سے انکارکے پیچھے یہ دلیل کارفرماہے کہ امریکی ڈونلڈٹرمپ اسرائیل نوازہیں لیکن حقیقت تویہ ہے کہ ان کے تمام پیش روصدوراسرائیل ہی کی طرفداری کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود فلسطینی اتھارٹی ان سے معاملہ کرتی رہی ہے۔ ٹرمپ کے اسرائیل سے متعلق فیصلوں میں برسرزمین حقیقت کوتسلیم کیاگیااوریہ سب فیصلے امریکا میں ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کیلئےکیے گئےلیکن یہ بدستورغیرقانونی ہی ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے تحت امریکی سفارت خانے کویروشلم(مقبوضہ بیت المقدس) میں منتقل کرنے کایہ مطلب نہیں کہ پورا یروشلم ہی اسرائیل کا ملکیتی ہوگیاہے۔امریکی صدر کے اس اعلان کے باوجود کہ گولان کی چوٹیاں اسرائیل کاحصہ ہیں، انہیں اقوام متحدہ کے نقشوں میں شام کے مقبوضہ علاقے ہی سمجھاجاتاہے(جن پراسرائیل نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے)۔ ٹرمپ فلسطین کیلئےسب سے سنگین خطرہ نہیں بلکہ فلسطینی مفادات کواس وقت سب سے بڑا خطرہ ہاتھ پرہاتھ دھرے کسی معجزے کے انتظارمیں بیٹھ رہنے کے کردارسے درپیش ہے۔

فلسطینی صدرمحمودعباس ہی شایدواحدشخصیت ہیں جومذاکرات کی بحالی کیلئےنئی جنگ لڑسکتے ہیں۔وہ فلسطین کے تاریخی لیڈروں میں سب سے ضعیف العمراورعقلیت پسند ہیں۔اگروہ نہیں ہوتے توسولہ سال قبل یاسرعرفات کی وفات کے بعدفلسطینی اتھارٹی میں افراتفری پھیل چکی ہوتی۔

کیاٹرمپ کی مذاکرات کی دعوت کوقبول کرنے کایہ مطلب ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کوجوکچھ پیش کیاجائے گا،وہ اس کومِن وعَن قبول کرلے گی؟اس کا جواب یقینی طورپرنہیں ہے۔فلسطینی اگرکوئی حل نہیں چاہتے توکوئی بھی ان پروہ حل مسلط نہیں کرسکتا۔ اسرائیلی بھی موجودہ جوں کی توں صورت حال کوتبدیل کرنے میں متردّدہوں گے کیونکہ اس سے بظاہرانہیں زیادہ اراضی اور فلسطینیوں پراختیارحاصل ہے۔وہ ٹرمپ کواپناحامی خیال کرتے ہیں۔ ایک ایسادوست،جوشایددوبارہ منتخب ہوجائے اوربہت زیادہ طاقت واختیارحاصل کرلے،جس کواسرائیلی اپنے مفادمیں خوب استعمال کرسکتے ہیں یااس کے ذریعے اورکچھ نہیں تواپنے لیے خطرات ہی کوکم کرسکتے ہیں۔

اس لیے اب اس بات کی زیادہ اہمیت ہے کہ عالمِ عرب اپنے اختلافات ختم کرکے فلسطین کے پلڑے میں وزن ڈال کرموقع سے فائدہ اٹھائیں،اپنے مفادات اورترجیحات کےمواقع تلاش کریں،قبل اس کے کہ تاریخ کوئی فیصلہ ثبت کردے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ فیصلہ ان کے حق ہی میں ہو۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 466 Articles with 149961 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Feb, 2020 Views: 183

Comments

آپ کی رائے