چور لٹکاؤ،،پروگرام بھی ناگزیر

(Umar Jozvi, )

قائدتحریک صوبہ ہزارہ باباسردارحیدرزمان ہمارے اورہم ان کے بہت قریب تھے۔باباکی وفات تک پیار،محبت اورخلوص کاہمارایہ رشتہ قائم رہا۔ہمارے درمیان تکلف نام کی کوئی دیوارحائل نہیں تھی۔ہم دل وجان سے باباجی کی جتنی قدرکرتے تھے بابااس سے کہیں زیادہ ہم پرشفقت فرماتے۔لوگ باباکے سامنے بات کرتے ہوئے بھی کتراتے تھے لیکن ہم شرارتی بچوں کی طرح دل کی ہربات باباکے سامنے کھل کرکہہ دیتے۔یہی وجہ تھی کہ بابابھی کوئی بڑی بات اورخفیہ راز تک ہم سے کبھی نہ چھپاتے ۔ایک بارصوبائی حکومت کے خلاف ایبٹ آبادکے بچہ نماسیاسیوں نے کسی احتجاج کااعلان کیا۔ان بچہ نماسیاسیوں کی پھرخواہش تھی کہ بابابھی ان کے احتجاج میں شامل ہوں تاکہ عزت بچ جائے۔اس لئے انہوں نے دعوت دینے کے ساتھ باباکی منت سماجت شروع کردی۔احتجاج سے ایک دن پہلے بابانے کال کرتے ہوئے کہا۔جوزوی۔کل ان سیاسی بچوں کاحکومت کیخلاف کوئی احتجاج ہے وہ میری شرکت اورشمولیت پربضدہیں ۔بتاؤآپ کااس بارے میں کیامشورہ ہے۔آپ کیاکہتے ہو۔۔؟میں نے باباکی بات سنتے ہی ایک ہی بات بتائی۔باباجی مرغیوں کے درمیان شیراچھانہیں لگتا۔یہ آپ کالیول نہیں ۔بابابڑے سمجھداراورایک پہنچے ہوئے سیاسی کھلاڑی تھے۔تب ہی توانہوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف جیسے کئی بڑے بڑوں کی نیندیں حرام کررکھی تھیں ۔وہ میری بات فوراًسمجھ گئے۔ پھرہم نے دیکھاکہ اس احتجاج میں بابانے بھی اپناکوئی مرغاہی بھیجاخودوہ اس میں شریک نہیں ہوئے۔ہمارے جیسے چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے اچھاکرے یابرا۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتالیکن قدکاٹ اورعہدوں میں بڑے جب کوئی اپنے سے چھوٹے کام یاکوئی حرکت کرتے ہیں تویہ ان کے ساتھ ذرہ بھی اچھانہیں لگتا۔بندہ جب قوم کالیڈریاملک کاصدراورزیراعظم ہواوروہ پھراپنے قدکاٹ اورلیول سے نیچے والے کام کریں تواس کاپھرنہ صرف لوگ مذاق اڑاتے ہیں بلکہ دنیابھی پھراس پرہنستی ہے۔وزیراعظم عمران خان اس ملک کے وزیراعظم ہیں مویشیوں کے کوئی بیوپاری نہیں ۔ماناکہ غریبوں کو بھینس، گائے،مرغیاں،انڈے،کٹے اوربکریاں دینااچھی بات لیکن کسی بھینس،بکری اورکٹے کی رسی کوپکڑنایہ وزیراعظم کالیول نہیں ۔میرے کپتان کے درجنوں کے حساب سے وزیراورمشیرہیں وزیراعظم صاحب بھینس،گائے،مرغیاں،انڈے،کٹے اوربکریاں دینے کایہ کام ان میں سے کسی سے کرواتے تویہ زیادہ مناسب ہوتا۔مفت کی روٹیاں توڑنے والے ویسے بھی مال مویشی پالنے اوران پرشوڑہ مارنے کے لئے ہوتے ہیں۔مفت کی تنخواہیں لینے والے وزیراورمشیراگرکسی بھینس،گائے اورکٹے کی رسی پکڑتے توذرہ بھی وہ برے نہ لگتے مگرواﷲ وزیراعظم کایہ اندازبرابہت برالگا۔سیاست کے خونخوارشیروں کوپکڑنے کے لئے آنے والاکپتان شیرکی بجائے اس طرح کسی بھینس ،گائے اورکٹے کورسی سے پکڑے تکلیف توپھرہوتی ہے۔عام طورپر بھی شیرکاکوئی شکاری اگرشیرسے بھینس،گائے،مرغیوں،انڈوں،کٹوں اوربکریوں کے شکارپرآئے تودنیاپھراس پرہنس کے بغیرنہیں رہ سکے گی۔وزیراعظم صاحب ایک طرف فرمارہے ہیں کہ بڑے بڑے خواب دیکھنے والے انسان کامیاب ہوتے ہیں دوسری طرف خودہمارے یہ صاحب بھینس،گائے،مرغیوں،انڈوں،کٹوں اوربکریوں سے آگے نہیں نکل رہے۔مرغیوں،انڈوں اورکٹوں کے خواب توشیخ چلی نے بھی بہت دیکھے تھے کیاوہ کامیاب ہوئے۔۔؟حکمران اگرمرغیوں،انڈوں،کٹوں اوربکریوں کوترقی اورعوامی خوشحالی کاذریعہ سمجھ رہے ہیں توہم اس کاہرگزانکارنہیں کررہے۔ہم توکہتے ہیں کہ اﷲ کرے کسی ذریعے اورواسطے سے اس ملک سے یہ غربت،بیروزگاری،مہنگائی،بھوک اورافلاس ختم ہوچاہے وہ بھینس،گائے، بکری یاپھرمرغیوں،انڈوں اورکٹوں سے ہی کیوں نہ ہو ۔لیکن ایک گزارش ضرورکرتے ہیں کہ یہ مرغیاں،انڈے،کٹے اوربکریاں یہ وزیراعظم کالیول ہرگزنہیں۔ملک کاوزیراعظم جب بھینس،گائے اوربکری کی رسی پکڑکرمنڈی مویشیاں میں مال بیچنے والے کی طرح ایک بیوپاری دکھائی دے گاتوپھردنیاکیاکہے گی۔۔؟ہمیں وزیراعظم کی جانب سے غریب،مجبوراورلاچارلوگوں میں بھینس،گائے،بکری،انڈے اورکٹے تقسیم کرنے پرکوئی اعتراض نہیں۔ حکومت صوبائی اوروفاقی وزراء یامشیروں کے ذریعے پورے ملک کے اندرمرغیاں،انڈے،کٹے اوربکریاں ضرورتقسیم کریں لیکن خدارامیرے سادہ کپتان کوکسی بھینس اوربکری کی رسی تھماکران کامذاق ہرگزنہ اڑایاجائے۔اس ملک کے 21کروڑعوام نے وزیراعظم عمران خان کواس ملک اورقوم کاسربراہ اس لئے نہیں بنایاتھاکہ خان صاحب اقتدارمیں آکربھینس،گائے اورمرغیاں پکڑنے کاکام شروع کریں گے۔اس کام کے لئے اس ملک میں اورلوگ بھی بہت ہیں ۔عمران خان صاحب شائدآپ بھول رہے ہیں لیکن ہم آپ کویاددہانی کروادیتے ہیں کہ آپ21کروڑعوام کے وزیراعظم اوراس ملک کے سب سے بڑے عہدے کے مالک ہیں ۔نکمے وزیروں اورمشیروں نے نجانے آپ کوکس کام پرلگادیاہے لیکن وزیراعظم صاحب آپ کے عہدے میں اتنی طاقت اورپاورہے کہ آپ مرغیوں،انڈوں،کٹوں اوربکریوں کوپکڑنے کی بجائے 72سالوں سے اس ملک وقوم کولوٹنے،چاٹنے اورکاٹنے والے بڑے بڑے اژدھوں،خوانخوارسیاسی شیروں اوربے لگام گھوڑوں کوچندلمحوں میں دم سے نہ صرف پکڑسکتے ہیں بلکہ انہیں الٹالٹکابھی سکتے ہیں ۔وزیراعظم صاحب اس ملک میں مسئلہ فصل گل کانہیں بلکہ بات فصل گل کوان خونخوارسیاسی درندوں سے بچانے کی ہے۔آپ فصل گل کوپانی اورخون جگردیتے رہیں مگراس کی کیاگارنٹی۔۔؟ کہ کل کویہ خونخوارسیاسی درندے اس فصل کوپھرسے خراب اورتباہ نہیں کریں گے۔۔؟میرے کپتان محض ان انڈوں اورکٹوں سے اس ملک اورقوم کی تقدیرکبھی بھی نہیں بدلے گی۔یہاں پربڑے بڑے سیاسی گیڈر، لومڑیاں،بلے اورکوے ہیں جوبرسوں سے نہ صرف اوروں کی مرغیاں ،انڈے اورکٹے ہڑپ کرتے جارہے ہیں بلکہ یہ غریبوں کی پوری کی پوری بھینسیں،گائے اوربکریاں بھی پھاڑرہے ہیں ۔حالیہ آٹابحران اورچینی کے نام پرلوٹ مارپوری دنیاکے سامنے ہے۔وزیراعظم صاحب آپ غریبوں کوانڈے اورکٹے دینے کی بجائے اگر،،سیاسیچوروں،،سے ان کی جان چھڑادیں تویہ اس ملک اورقوم پرآپ کاایک بہت بڑااحسان ہوگا۔یہ چور72سالوں سے چہرے،روپ اورحلیے بدل کرآٹا،چینی،دال،ٹماٹر،گھی اوردیگراشیاء کے مصنوعی بحران،گراں فروشی اورذخیرہ اندوزی کے ذریعے اس ملک اورقوم کودونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔آپ جوانڈے اورکٹے غریبوں کودیں گے یہ چوراس سے ڈبل قیمت ایک ماہ کے اندران سے نکال دیں گے۔چوروں کے ہاتھوں لٹنے پرلٹنے والے بھی بھلاکبھی امیراورخوشحال ہوسکتے ہیں ۔۔؟وزیراعظم صاحب آپ اگرواقعی اس قوم کوغربت سے نکالنااورخوشحالی کی راہ پرگامزن کرناچاہتے ہیں توآپ ان کوانڈے،کٹے اورمرغیاں دینے سے پہلے ان غریبوں کو لٹنے کے تمام سوراخ بندکردیں ۔خاں صاحب جس دن آپ نے غریبوں کاگوشت نوچنے اورخون چوسنے والے آٹااورچینی چوروں کونکیل ڈال دی آپ یقین کریں انڈوں اورکٹوں کی تقسیم کے بغیرہی اس دن یہ غریب غربت سے نکل کرخوشحالی کی جانب گامزن ہوجائیں گے۔بصورت دیگراگردودھ کی رکھوالی اسی طرح یہ بلے ماموررہے توپھرانڈے،مرغیاں اورکٹے کیا۔۔؟یہ پوراملک اورساراخزانہ ان غریبوں میں تقسیم کردیں پھربھی ان کے یہ برے دن اورحالات کبھی نہیں بدلیں گے۔اس لئے کفالت اوراحساس پروگرامزکے ساتھ اگرچورلٹکاؤایک پروگرام بھی متعارف کرایاجائے توہمیں امیدہے کہ اس کے دورس نتائج برآمدہوں گے ورنہ ان چوروں کی موجودگی میں وزیراعظم کفالت اوراحساس پروگرام بھی غریبوں کوچھوئے بغیرپانی میں بہہ جائیں گے کیونکہ یہ چورنہ صرف غریبوں کے دشمن ہیں بلکہ یہ اناج اورکاج کے بھی خاندانی قاتل ہیں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Jozvi

Read More Articles by Umar Jozvi: 111 Articles with 33773 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Feb, 2020 Views: 242

Comments

آپ کی رائے