ادبی جریدہ ’’ کولاژ‘‘ شمارہ 10، نومبر 2019 ء

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

بات ہے14دسمبر 2019ء کی ، فیصل جوش نے ہ میں عارف باحلیم سے ہاٹ ایف ایم 105 ریڈیو کے دفتر واقع شاہراہ فیصل ’’حفیظ پلازہ‘‘ میں دعوت دی ، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ چند تخلیق کار بھی ہوں گے ،گپ شپ رہے گی ،ہم طے شدہ پروگرام کے مطابق ان کے دفتر پہنچ گئے، پہلی نظر عارف باحلیم پر پڑی،انہوں نے والہانہ استقبال کیا ، ان کی آواز مانوس سی لگی، سنی سنائی، کہاں سنی ، کب سنی ، آواز میں ردھم ہے، ایک خاص قسم کی کشش ہے ، لے، سُراورتال کا تال میل ہم آھنگ ہوتے محسوس ہوا ۔ رفتہ رفتہ عقدہ کھلا کہ عارف باحلیم نے اپنی آواز کا جادو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر چلا یا ہوا ہے وہ، پردے کے پیچھے رہتے ہوئے اپنی آواز کا جادو جگاتے ہیں ۔ تخلیق کاروں کی اس بیٹھک میں شاعر، ادیب و دانش ورفیروز ناطق خسرو،ناول نگار، صحافی، کالم نگار اور’ تکون کی چوتھی جہت‘ کے تخلیق کار اقبال خورشید ، فیصل جوش ، عارف با حلیم اورادبی جریدے ’ کولاژ‘ کے مدیر اقبال نظرسے ملاقات ہوئی ۔ اقبال نظرصاحب نے کولاژ کا شمارہ دس 2019، ہ میں دیا اور اپنے کام میں مصروف ہوگئے ۔ اقبال خورشید نے اپنی کتاب تکون کی چوتھی جہت ، فیصل قریشی نے ماہنامہ ندائے گُل کا سالنامہ 2019 اور فیروز ناطق خسرو صاحب نے اپنی کتاب عنایت فرمائی ۔ چند شاعروں اور ادیبوں کی اس بیٹھک نے انجانوں کو ایک دوسرے کا شناسا بنا دیا ۔ اب یہ قابل احترام ادیب ہمارے فیس بک فرینڈز ہیں ،کبھی کبھار واٹس اپ پر سلام دعا بھی ہوجاتی ہے ۔ ادبی محفلوں میں ملاقات ہوجائے اور ہوتی ہی ہے تو پہلی ملاقات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے ۔

اس وقت میرا مقصد ادبی جریدے ’’کولاژ ‘‘کا وہ شمارہ ہے جو مجھے اس ادبی نشست میں دیا گیا تھا ۔ کافی وقت ہوا ، بس لکھنے کی ہی مصروفیات میں وقت گزر گیا اور ہم اس خوبصورت جریدے پر نہ لکھ سکے ۔ ہ میں بہت پہلے اس پر لکھ لینا چاہیے تھا ۔ اب جریدے کے مدیر سے معزرت کے ساتھ اظہاریہ پیش خدمت ہے ۔ یہ ادبی جریدہ کتابی سلسلہ ہے، اس کی ضخامت 368صفحات ہے وہ بھی بڑے سائز میں ۔ اقبال نظر صاحب اس کے مدیر ہیں ۔ ان سے گفتگو تو نہ ہوسکی ، شاید وہ عارف با حلیم کے دفتر میں مصروف ہیں ۔ پیش نظر جریدے میں ادب کی تمام اہم اصناف پر معروف لکھنے والوں کی نگارشات شامل ہیں ۔ تازہ تحریریں بھی اور ماضی میں لکھی اور چھپی نگارشات بھی ۔ ہم جریدے پر لکھنے بیٹھے تو پہلے اداریہ اس غرض سے پڑھنا شروع کیا کہ معلوم ہوسکے کہ یہ جریدہ شاءع کرنے کے مقاصد، کب سے یہ شاءع ہورہا ہے لیکن اداریہ سلیم کوثر کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی حمد باری تعالیٰ ، نعتِ رسول مقبول ;174; ، ، سلام اورغزلیں ، نظم’دھوپ تماشا‘ کے بعد فہرست عنوانات میں لفظ اداریہ تو درج ہے ،ٹیکسٹ میں پڑھنے پر معلوم ہوا کہ یہ اداریہ دراصل اقبال نظر کا عہد حاضر کا افسانچہ ہے جو ماضی میں لکھا گیا ، عنوان ہے’’شبراتی کے شب و روز‘‘ کے ۔ اس افسانچے کے آخر میں یہ بھی درج ہے کہ یہ ہفت روزہ ’الفتح ‘ میں 30دسمبر 1971 ء میں شاءع شدہ ہے ۔ گویا نصف صدی قبل لکھی گئی تحریر ۔

جریدے میں مضامین ، افسانے، غزلیں ، خاکہ، سفرنامہ، نظ میں ، سوانح، درویش نامہ، ناولٹ اور پانچ تصانیف جن میں ڈاکٹر رشید امجد کا درویش نامہ، ایک تاثر، علی تنہا کے انور سجاد کا تخلیقی سفر ، ایک ہمہ جہت تخلیق کار کی فکری کاوشوں پر تاثرات ، ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کی ’زندگی خوب صور ت ہے، ایک پر عزم خاتون کی داستان حیات، اقبال خورشید کی تکون کی چوتھی جہت پر ناصر سمشی کا اظہار خیال،باصر سلطان کاظمی کی کلیات’’ شجر ہونے تک‘‘ پر ڈاکٹر ثروت زہرہ کا اظہار خیال جریدے کا حصہ ہے ۔

مضامین کے تحت پہلا مضمون یا تقریر سید راشد اشرف کی ’’ساقی ‘‘ کے بارے میں ہے، بس آخری جملہ ساقی کے لیے کافی ہے جو راشد نے لکھا’’مرنے کی دعائیں مانگ مانگ کر بالا خر ساقی چلا ہی گیا اور اپنے ساتھ سارا علم ، وہ ساری ذہانت ، وہ خونخواری، خود پرستی اور محبت بھرا دل بھی لے گیا ‘‘ ۔ ایک غیر معمولی تخلیق کا ار الیگزینڈر رپشکن کے بارے میں ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کی ایک طویل معلوماتی تحریر ہے ۔ پروفیسر انوار احمد زئی کی تحریر ’’دانش کا سفر ‘‘ ہے، سرور جاوید کا ’’ادب تماشہ ‘‘ہے، نجیبہ عارف کا ’’اٹھارھویں صدی کا ایک سفر نامہ ‘‘ ہے، عرفان جاوید کا ’’خیال کہاں سے آتا ہے;238; ، محمد فیصل کا ’’تفہیم ِ اعظمی ۔ خلیل الرحمٰن اعظمی جن کو انہوں نے جدیدیت کا پیش رو کہا ہے ۔ اعظمی کا ایک شعر جس سے ان میں موجود جدیدیت کا اظہار ہوتا ہے ۔

دور سے ایک پرچھائیں دیکھی اپنے سے ملتی جلتی
پاس سے اپنے چہرے میں بھی کوئی اور چہرہ دیکھا

خالد محمود درانی کا جوش ملیح آبادی پر مضمون ہے جس میں جوش صاحب کا 1924ء میں کہا گیا ایک قطعہ درج کیا گیا ہے دیکھئے کیا حسن ہے اس قطعہ میں ۔

ہم سفر تھی مرے اک بار کوئی زہرہ جمال
آج تک اس کا یہ انداز مزہ دیتا ہے

نام پوچھا تو کچھ اس طرح بتا یا اس نے
جس طرح کوئی خزا نے کا پتہ دیتا ہے

افسانوں کے تحت رشید امجد کا ’’مزار اور مجاور‘‘، علی تنہا کا مخطوطے ہیں ، زندہ لوگ، جتندر بلو کا الجھی ہوئی ڈور، خالد فتح محمد کا ایک الگ داستان، محمد حامد سراج کا سگار، اسد محمود خان کا سلم ڈاگ، سعدیہ کا حقیقت سے پرے، تبسم فاطمہ کا لافنگ بدھا، خاور سعید جمالی کا لمبا لڑکا، ہاجرہ ریحان کا سند یافتہ بد کردار، شہر یار قاضی کا ممنوعہ محبت کی کہانی اور ننگر چنہ کا روشنی عمدہ افسانے ہیں ۔ ممتاز رفیق کا تحریر کردہ خاکہ ’’قطب شمالی ۔ سلیم احمد ‘‘ پر عمدہ تحریر ہے ۔ خاکہ میں سلیم احمد مرحوم کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’کراچی میں ان دنوں اہل دانش کی ایک کہکشاں آباد تھی ۔ جن میں عسکری ، مجتبیٰ ، عزیز حامد مدنی، کرار حسین اور مشفق خواجہ اور بہت سے دیگر اہل علم اقامت رکھتے تھے ۔ میں ان میں سے بہت کم سے شرف ملاقات رکھتا تھا ۔ شاعری میں اطہر نفیس کا غلغلہ تھا تو تنقید میں سلیم احمد کا پھریر ا لہرا رہا تھا‘‘، سلیم احمد کی حلیہ نگاری بیان کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے ’’پتھرائے ہوے چہرہ، جسم پر ملگجا لباس اور سگریٹ پینے کا بے ڈھنگ انداز، وہ مٹھی میں سگریٹ دابے کسی خیال میں گم گہرے گہرے کش لیے جاتا تھا ‘‘ ۔ اس بات کی تصدیق تو میں بھی کرسکتا ہوں کہ سلیم احمد کو میں نے قریب سے دیکھا اور سنا بھی، واقعی ان کے سگریٹ پینے کا انداز ایسا ہی تھا ۔

ظفر اقبال کی چھ غزلیں ، صفدر صدیق رضی، شہزاد نیر، محسن چنگیزی ، اظہر فراغ، مرتضی برلاس، مسلم شمیم ، جان کاشمیری، باصر سلطان کاظمی ، صدام سار گر، جاوید منظر کی غزلیں جریدے کا حصہ ہیں ۔ ملاحظہ کیجئے ایک ایک شعر احباب کا ۔
اظہر فراغ
سفر میں رہنے کا یہ بھی تو اک قرینہ ہے
میں آپ ٹھرا ہوا ہوں رواں سفینہ ہے
محسن چنگیزی
اُڑتے رہنے ہی سے اُڑنے کا پتہ چلتا ہے
بادوباراں میں پرندے کا پتہ چلتا ہے
صفدر صدیق رضی
اندھیرے میں تسلسل سے بھی وہ رہنے نہیں دیتا
بجھا کر دل چراغوں کو منور چھوڑ دیتا ہے
ظفر اقبال
یک طرفہ رابطہ تھا ہمارا تمہارے ساتھ
ایسا بھی وقت ہم نے گزارا تمہارے ساتھ

گلزار کی نظموں کے علاوہ شاہین مفتی، اصغر ندیم سید، محسن چنگیزی، شہزاد نیر، تبسم فاطمہ ،صائمہ زیدی، جاوید نظر کی نظ میں شامل ہیں ۔ جسٹس حاذق ا لخیری کی تحریر کردہ علامہ راشد الخیری کی تفصیلی سوانح ۔ اقبال نظر کا درویش نامہ ہے، مشرف علم ذوقی کا ناولٹ ’پری خانہ‘ جریدے کا حصہ ہے ۔ مجموعی طور پر مدیر نے ’’کولاژ‘‘ کے اس شمارے کو معیاری ادبی تخلیقات سے بھر پور روشن کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے جس میں وہ کامیاب نظر آتے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں ادبی جریدہ نکالنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ ہر اعتبار سے ، مضامین ، شاعری کا حصول، مواد کی کمپوزنگ، پروف ریڈنگ اور اشاعت مشکل اور تکلیف دہ مراحل ہوتے ہیں ۔ معیاری اور ضخیم مجلہ کی اشاعت پر مدیر کو ڈھیرو مبارک باد ۔ (یکم مارچ2020ء)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 756 Articles with 642940 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
01 Mar, 2020 Views: 367

Comments

آپ کی رائے