کورونا وائرس اور خوفِ خدا سے عاری ہم وطن

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

 جب کرونا وائرس بے قابو ہوا تو کسی ستم ظریف نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی کہ اگریہ مرض پاکستان میں آیا تو اہل ِ وطن پہلے ماسک مہنگے کریں گے پھر ادویات اور پھر کفن۔۔ خدامعاف کرے یہ پیش گوئی کبھی سچ نہ ہو لیکن جیسے ہی پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کا انکشاف ہوا بازار میں ماسک مہنگے ہوناشروع ہوگئے آج کل نایاب ہیں عوام میں خوف وہراس الگ ہے پاکستانیوں میں کوئی اور ہونہ ایک خوبی اتم ضرور موجودہے یہ لوگ موقع سے فائدہ اٹھانا خوب جانتے ہیں مال کمانے کیلئے کسی کے دل میں ذرا سا خوف ِ خدانہیں آتا لوگوں کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور پاکستانی تاجروں کو دونوں ہاتھوں سے نوٹ سمیٹنے کا ایک اور نادرموقعہ مل گیا ایسی ذہنیت پر ماتم ہی کیا جاسکتاہے ایسے لوگ دن رات بحث کرتے ہیں تنقیدمیں پیش پیش ہوتے ہیں کہ عمران خان نے پاکستان کو اپنے وعدے کے مطابق مدینے کی ریاست کیوں نہیں بنایا بہرحال آج دنیا کو جس خطرے کا سامناہے اسے کورونا وائرس کانام دیا گیاہے اس کا محرک فطرت سے بغاوت ہے کورونا وائرس کو اﷲ کا عذاب بھی قراردیاجارہاہے دنیا میں تیزی سے بڑی معاشی قوت بننے ولا ملک چین بھی کورونا وائرس کے سامنے بے بس دکھائی دیتاہے جو اس بات کابرملااعلان ہے کہ اﷲ کے سامنے ہرچیزہیچ ہے بلاشبہ اﷲ ہی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہرقوت ہے اور اتنی ترقی کرنے کے باوجود انسان اﷲ تبارک تعالیٰ کے سامنے بے بس ،عاجز اور لاچارہے آئیں سب پاکستانی مل کر انسانیت کے خا طر دعا کر یں کہ اﷲ رب العزت ہمارے پڑوسی ممالک چائنہ ، ایران ،پاکستان بلکہ دنیابھرکے انسانوں کو اس عذاب سے چھٹکارہ دلا دے آمین ثمہ آمین کیونکہ اطلاعات ہیں کہ کورونا وائرس چین سے نکل کر امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور جاپان سمیت دیگر ممالک میں بھی پھیل چکا ہے اور مختلف ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرہ افراد سامنے بھی آ چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی کورونا وائرس کے پیش نظر ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا اعلان کر چکا ہے اور پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جا رہے ہیں لاہورکا مناواں ہسپتال اس مرض کیلئے مخصوص کیا جاچکاہے ۔ اس سے پہلے بھی اسی طرح کے وائرس سے دْنیا کو پالا پڑا تھا جن میں ڈینگی وائرس، وائن فلو وائرس، برڈ فلو اور سارس جیسے وائرس شامل ہیں مگر ان کی تباہ کاریاں ’کرونا‘ جیسی نہ تھیں مگر’’ کرونا وائرس‘‘ نے ساری دْنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی اور جدت کے باوجود ابھی تک وائرس سے پھیلنے والے امراض کے علاج کے لئے کوئی واضح پروٹوکول موجود نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی خاص ویکسین دستیاب ہے۔ نتیجتاً وائرس کی وجہ سے ہونے والے امراض میں اموات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ آسڑیلیا، تائیوان، نیپال، جاپان، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا بلکہ امریکا میں بھی کرونا وائرس سے متاثر افراد کے کیسز دیکھنے میں آئے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے چینی انجنئیرز اور ورکرز متعدد قومی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، اس لئے پاکستان میں بھی ہائی الرٹ ہے۔ پاکستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مختلف ائیر پورٹس پر اس سلسلے میں ہیلتھ کاؤنٹرز قائم کر دیئے ہیں لیکن بدقسمتی سے وہاں تعینات ڈاکٹرزاور عملہ نے مسافروں کو بلیک میل کرکے مال بٹورناشروع کردیاہے جس سے بیرون ِ ممالک جانے والے مسافروں میں خوف وہراس پھیل رہاہے نہ جانے مسلمانوں کو دولت سے اتنی محبت کیوں ہے کہ ہر جائز ناجائز طریقے سے لمبی دیہاڑیاں لگنا انہوں نے اپنے اوپر فرض کرلیاہے اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ حکومت کہاں سوئی پڑی ہے اس نے گراں فروش اور بھیڑیوں جیسی ذہنیت رکھنے والے ڈاکٹروں کو کیوں کھلاچھوڑ رکھا ہے عوام جائیں تو کہاں جائیں۔بہرحال ماہرین کا کہناہے کسی بھی مرض سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مرض کیخلاف جنگ لڑنے کی ضرورت ہے اب تلک جو تشخیص ہوئی ہے ا س کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو زکام، گلا خراب، سر درد اور بخار کی علامات ہوتی ہیں، جسم تھکا تھکاسا لگتا ہے، ناک مسلسل بہتی ہے۔ انفیکشن زیادہ ہو جائے تو پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطر ناک وہ لمحہ ہوتا ہے جب انفیکشن کی وجہ سے نمونیہ ہو جائے۔ اس سے پھیپھڑوں میں زبردست انفیکشن ہو جاتا ہے، سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، بخار زیادہ ہو جاتا ہے، ایسے میں فوری طور پر ہسپتال میں علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انفیکشن زیادہ ہونے کی صورت میں سانس رک جاتی ہے اور مصنوعی تنفس دینا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس حالت میں یہ میڈیکل ایمرجنسی بن جاتی ہے۔ اگر انفیکشن پھیل جائے تو سانس رک جاتا ہے اور چند گھنٹوں ہی میں موت واقع ہو سکتی ہے۔ کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کی تمام علامات نمونیہ سے ملتی جلتی ہیں۔ اس سے ہونے والی بیماری کا آغاز دسمبر2019ء میں چین کے صوبے ہوبی کے شہرو وہان میں ہوا جہاں اب تک 2000 اشخاص جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ کرونا وائرس آسانی سے ایک متاثرہ شخص سے صحت مند شخص کو منتقل ہوجاتا ہے۔ متاثرہ شخص دو سے پانچ دن تک بیماری کو دوسروں تک پھیلا سکتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کسی کو بیماری کی تشخیص ہوگئی ہو تو اسے کم از کم ایک ہفتے تک علیحدگی میں رکھا جاتا ہے تاکہ صحت مند اشخاص وائرس سے بچے رہیں۔ بیماری کے آغاز میں علامات زکام اور نظام تنفس کے بالائی حصے کے انفیکشن سے ملتی جلتی ہیں۔ اس لیے اس دوران علاج سے افاقہ ہو جاتا ہے مگر سب سے ضروری امر یہ ہے کہ اس دوران مریض کو علیحدگی میں رکھا جائے تاکہ دوسرے صحت مند اشخاص بیماری کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں۔کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے اور جسم میں وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔کہاجاتا ہے چین میں کرونا وائرس سب سے پہلے سانپوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا۔ زندہ چمگادڑوں، سانپوں، بلیاں اور کتے کا سوپ بھی اس مرض کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہیں پالتو جانور بھی اس وائرس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور ان سے وائرس انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ زکام کی طرح کرونا وائرس سے ہونے والی علامات بھی زیادہ تر 7 دن سے لیکر 10 دن تک جاری رہتی ہیں اگر اس دوران مکمل آرام کیا جائے اور ڈاکٹر کے مشورہ سے ادویات لی جائیں تو مرض میں افاقہ ہو جاتا ہے اور آدمی صحت مند ہو جاتا ہے۔ اس لیے کرونا وائرس سے زیادہ گھبرانے اور پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ زیادہ تر متاثرین ہفتے دس دن تک خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اب تو ایسے مرضوں کو روزانہ ایک درمیانہ پیاز کھانابھی تجویزکیا گیاہے کلونجی کااستعمال بھی مفیدکہاجارہاہے چین کے شہری کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے پْر عزم ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ بینرز لگے ہوئے ہیں:’’ ہم کرونا وائرس سے شکست نہیں کھائیں گے، ہم شیطان وائرس کو مار بھگائیں گے‘‘۔ ووہان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے سبزیوں اشیائے خورو نوش اور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ چین کے دوسرے شہروں سے چینی کے بہادر لوگوں نے ووہان کے ہم وطنوں سے اظہارِ یک جہتی کے لیے سبزیوں ، اشیائے خورو نوش اور ادویات کے سینکڑوں کنٹینرز ووہان پہنچا دیئے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس سے ہونے والا زکام یا اس سے ہونے والی سانس میں رکاوٹ ابتدائی طور پر جاں لیوا مرض نہیں۔ آرام کرنے، بخار اور کھانسی اور انفیکشن کی ادویات لینے سے مرض کی علامات میں افاقہ ہو جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ مریض اور اس کے ساتھ رابطہ رکھنے والے تمام اشخاص احتیاطی تدابیر، ماسک اور دستانے استعمال کریں۔ مریض کے کمرے میں اسپرے کیا جائے اور اس کے زیرِ استعمال ٹشو پیپرز کو علیحدہ تلف کیا جائے۔ کرونا وائرس زکام کے وائرس کی طرح Heat Sensitive وائرس ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مریض کو بھاپ دی جائے اور پینے کے لیے قہوہ، سبزیوں کا سوپ دیا جائے تا کہ بیماری کی علامات کم سے کم رہیں۔ ماہرین تجویزکررہے ہیں اس خوفناک مرض سے بچاؤ کے لئے بخار ہونے کی صورت میں بخار ختم کرنے والی ادویات دی جائیں۔ کھانسی کی صورت میں ایک کپ گرم پانی میں دو چمچ شہد اور تھوڑی سی کالی مرچ ڈال کر دیں۔ بیماری کی تشخیص ہو جائے تو صبح شام ایک کپ گرم دودھ میں ایک چمچ ہلدی ایک چمچ زیتون کا تیل اور ایک چمچ شہد ڈال کر دیں۔ ہلدی اور زیتون کے تیل میں اﷲ تعالیٰ نے بے حد شفاء رکھی ہے۔ ان دونوں میں انفیکشن کنٹرول کرنے کے صلاحیت اور اینٹی وائرل خصوصیات موجود ہیں۔ شہد ویسے ہی ہر بیماری کے لیے شفاء ہے۔ زکام اور گلے کے انفیکشن کے لیے پودینہ، سونف، دار چینی اور ادرک کا قہوہ بھی مفید ہے۔ مریض کو پینے والی گرم چیزیں دینے سے مرض میں خاطر خواہ افاقہ ہوتا ہے۔ مریض کے ساتھ خوشی گوار رویہ رکھا جائے کیونکہ علیحدگی میں رکھنے کے باوجود مریض سے رابطہ رکھا جاسکتا ہے۔ چین کی اپنے شہریوں تک محدود کرنے کی ہدایات سے 1440 سال پہلے رسول اﷲﷺ کی دی گئی ہدایات یادآتی ہیں۔ مدینہ میں جب طاعون کی بیماری پھیلی توآپ ﷺنے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کو اپنا شہر چھوڑنے سے منع فرمایا تاکہ مرض دوسرے علاقوں میں صحت مند افراد میں منتقل نہ ہو۔ مسلم شریف کی جلد نمبر 2 میں حضرت اسامہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ طاعون اور متعدی بیماری ایک عذاب ہے جو پہلی امتوں پر مسلط کیا گیا۔ جب کسی علاقے یا شہر میں کوئی وبا پھیل جائے تو ضروری ہے کہ متاثرہ شہر کے باشندے اپنا علاقہ چھوڑ کر نہ جائیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے شہروں کے لوگ متاثرہ شہر یا علاقے میں نہ جائیں۔ جو ہدایات آج کی میڈیکل سائنس میں اب سامنے آرہی ہیں وہ ہادی دو جہاں ﷺ نے ہمیں 1440 سال پہلے بتا دیں (ماشاء اﷲ)۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔ مریض کے زیر استعمال ٹشو پیپرز اور دوسری اشیاء کو مناسب طریقے سے تلف کیا جائے جبکہ کھانسی یا چھینک آ نے پر منہ اور ناک کو ٹشو یا رومال سے ڈھانپ کر رکھا جائے۔ بخار، کھانسی اور سانس لینے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر یا ہسپتال سے رابطہ کریں۔ نزلہ، زکام اور سانس میں رکاوٹ محسوس ہو تو دفتر یا سکول ، کالج جانے سے پرہیز کریں، گھر میں رہ کر آرام کریں ، دوچار دن آرام کرنے سے طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔ بیماری اور وبا اﷲ کی طرف سے آتی ہے۔ بیماریوں سے بچنے کیلئے اﷲ سے خیروعافیت کی دْعا کریں۔ حلال غذا استعمال کریں دن میں پانچ مرتبو منہ ہاتھ دھونا ڈاکٹروں نے لازمی قراردیدیاہے بیماریوں سے پناہ مانگیں اور مندرجہ ذیل دْعا پڑھیں: اَللّٰہْمَّ اِنّیِ اَعْوذْبِکَ مِنَ البَرَصِ وَالجنونِ وَالجْذَامِ وَ مِن سَیِئی الا سقَام (آ مین) ’’ ا ے اﷲ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں برص سے، دماغی خرابی سے، کوڑھ سے اور ہر قسم کی بْری بیماریوں سے۔‘‘ اس دْعا کے بار بار پڑھنے سے اﷲ تعالیٰ آپ کو ’کورنا وائرس‘ سمیت ہر طرح کے متعدی امراض سے محفوظ رکھے گا۔ صدقہ بلا اور بیماری کو ٹالتا ہے۔ اس لیے صحت مند رہنے کے لیے دوا، دْعا کے ساتھ صدقہ بھی ضرور کریں۔ارباب ِ اختیار کے لئے ایک ضروری کام کرنے کا یہ ہے جو شخص بھی کسی اندازسے ماسک یا ادویات مہنگی کرنے کا مرتکب پایا جائے بلاامتیاز اسے عبرت کا نشان بنادیاجائے تاکہ سب گراں فروشوں کو عبرت حاصل ہو ویسے کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے والوں سے نمٹنا حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 258 Articles with 79702 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Mar, 2020 Views: 293

Comments

آپ کی رائے