آر ایس ایس سندھ میں متحرک

(Inshal Rao, )

سندھ کا امن عشروں سے سبوتاژ رہا، دہشتگردی کے واقعات عام رہے، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور لاقانونیت دہائیوں تک عروج پر رہی، وادءِ مہران ایک طرف تو لسانی منافرت کی بنا پر دو حصوں میں بٹ کر رہ گئی دوسری طرف سندھو دیش کی تحریک نے امن و امان کی صورتحال کو مخدوش کیے رکھا، امن و امان کے لیے حکمران طبقات کی ساری کوششیں بیمعنی ثابت ہوئیں، سرزمین سندھ نے بہت سے آپریشن دیکھے، آخری اور فیصلہ کن آپریشن کا آغاز 2013 میں کیا گیا اور زمہ داری رینجرز کے سپرد کی گئی جس کے نہ صرف بامعنی اثرات سامنے آئے بلکہ RSS کے حلقوں میں بھی صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے اور کچھ دن پہلے RSS چیف موہن بھاگوت اپنے خواب کے بکھرنے پر آنسو بہاتے رہے ساتھ ہی اپنے ورکروں کو تسلّی دیتے رہے، راشٹریہ سندھو سماج کے زیرِ انتظام ''راشٹریہ نامہ'' کی تقریب رونمائی کے موقع پر بات کرتے ہوے موہن بھاگوت نے کہا کہ راشٹریہ سندھو سماج RSS کی اہم ونگ ہے، آر ایس ایس کے لیے سندھی ہندووں کی بیشمار خدمات ہیں، سندھ اگرچہ پاکستان کا حصہ بن گیا ہے لیکن RSS سندھ کو دوبارہ لیکر رہیگی جس طرح یہودیوں نے 1800 سال تک جدوجہد کی اور بالآخر اسرائیل حاصل کیا اسی طرح سندھ پر ہندو برادری کا حق ہے اور ہم اسے لیکر رہینگے۔ موہن بھاگوت کا یہ غیرزمہ دارانہ خطاب نہ صرف لیاقت نہرو پیکٹ کی خلاف ورزی ہے بلکہ کسی خودمختار ملک کے صوبے پر اپنا حق جتانا عالمی قوانین کو تسلیم نہ کرنے کے مترادف ہے، RSS چیف کی سندھ کے متعلق باتیں Tip Of The Iceberg ہیں جس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ ہندوتوا دہشتگرد عشروں سے سندھ کے امن کو سبوتاژ کرنے میں پیش پیش ہیں، اگر ''سندھ امڑ'' یعنی سندھ دھرتی ماں اور سندھو دریا کے نظریہ پر غور کیا جائے تو یہ ہندوتوا نظریات سے ہی مماثلت رکھتا ہے جس طرح ہندووں کے لیے بھارت ماتا اور گنگا خدا کا درجہ رکھتے ہیں اسی طرح سندھ میں سندھ دھرتی ماں اور سندھو دریا کو سندھی مسلمانوں میں نظریاتی حیثیت حاصل ہے اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ زیادہ پرانا نہیں، اگر ایسا کچھ ہوتا تو سندھ اسمبلی سے پاکستان کے حق میں کبھی قرارداد پاس نہ ہوتی اور حر مجاہدین کبھی انگریزوں کے خلاف جہاد نہ کرتے، اگر یہ نظریہ سندھیوں میں پیوست ہوتا تو انگریز کے سندھ کو ممبئی میں شامل کرنے کے فیصلے کو کوئی بھی تسلیم نہ کرتا جس پر چھ سات دہائیوں تک کبھی کوئی خاطرخواہ تحریک نہ چلی، اس کے علاوہ ریاست خیرپور میرس آزاد ریاست کے طور پر سندھ کے بیچوں بیچ موجود رہی لیکن کبھی اس کے خلاف کوئی اس قسم کی بات سامنے نہیں آئی کہ کسی نے سندھ دھرتی ماں کی تقسیم کی بنا پر ریاست خیرپور کی اجارہ داری تسلیم نہ کی ہو حتیٰ کہ پاکستان بنتے وقت جی ایم سیّد بھی موجود تھے، ہندو و مسلمان انتقال آباد کے وقت بھی سندھ میں کوئی منظم مزاحمت نہیں دیکھی گئی لیکن بعد میں یہ چیز ابھر کر سامنے آئی بالخصوص ستر کی دہائی میں سندھی نیشنلزم سامنے آیا جس کی کوکھ سے سندھو دریا، سندھ دھرتی ماں جیسے نظریات پیدا ہوے اور سندھی زبان کو اردو کے مقابلے میں پیش کیا جانے لگا چونکہ سندھ کی سرزمین پر RSS کی گرفت تقسیم ہند سے قبل ہی مضبوط تھی تو یہ جماعت سندھ میں گڑ بڑ پیدا کرنے کے لیے R&AW کے لیے ایک اہم زریعہ بن کر سامنے آئی، جسقم جسمم اور متحدہ کے بہت سے گرفتار کارکنان را کے لیے کام کرنے کا اعتراف کرچکے ہیں، کلبھوشن یادیو را کے سندھ میں متحرک کردار کے بارے میں اعتراف کرچکے ہیں۔ رتن شردا اپنی کتاب ''Secrets Of RSS'' میں سنگھ کی ترجمانی کرتے ہوے راقم ہیں کہ RSS نے بھارتی فوج کی نہ صرف کشمیر میں مدد کی بلکہ 1965 کی جنگ میں بھی انڈین فوج کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، 1971 کی جنگ اور مکتی باہنی کا اعتراف تو مودی سمیت بہت سے کردار کرچکے ہیں، یہ RSS ہی ہے جو نہ صرف بھارتی پروپیگنڈے کو دنیا میں پھیلاتی ہے بلکہ بھارتی سفارتکاری و معاشی روابط میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، سنگھی گروہ اب ایک بار پھر سندھ پر خصوصی توجہ دئیے ہوے ہے اور بہت سے سنگھی تاجر و اہم نام عالمی سطح پر سرگرم ہیں جس کے تحت سنگھ پریوار اور را نے کچھ جماعتوں کو ایک جگہ جمع کردیا ہے، ایک زریعے نے بتایا کہ بلوچستان میں ریاست مخالف کاروائیوں میں پچاس فیصد حصہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ڈالتے رہے ہیں جن کی اکثریت رینجرز آپریشن کے بعد فرار ہوکر بلوچستان جاکر ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل ہوے، اس صورتحال کے پیش نظر حکومت و ملکی سلامتی کے اداروں کو سندھ میں سرایت کرجانے والے ان باطل نظریات کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ پھر کوئی RSS ورکر ہیمو کالانی کو سندھ کا ہیرو اور محمد بن قاسم جیسی عظیم ہستی کو ڈاکو کے طور پر مشہور نہ کیا جاسکے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inshal Rao

Read More Articles by Inshal Rao: 140 Articles with 41242 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2020 Views: 143

Comments

آپ کی رائے