سب سے پہلے پاکستان

(Umar Khan Jozovi, )

پاکستان ہماری جان اورہماری پہچان ہے اس پرایک کیا۔۔؟لاکھوں ،کروڑوں اوراربوں جانیں بھی قربان ہے۔جولوگ اس ملک ،مٹی اوریہاں کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں وہ ہم سب کے دشمن اورکھلے دشمن ہیں۔ہمیں اس ملک اوروطن کی خاطر اپنے سروں کاجھکناتومنظورہے مگراس ملک کے خلاف غیروں کے اشاروں پرناچنے والاکوئی منظورہمیں ہرگزمنظورنہیں۔ہماری گردنیں بے شک کٹیں۔سرہمارے لاکھ بارجھکے ۔یہ سب ہمیں قبول ہے مگرسبزہلالی پرچم ذرہ بھی نیچے ہویہ ہمیں کسی بھی صورت قبول یامقبول نہیں۔جولوگ سبزہلالی پرچم کی بے حرمتی اورتوہین کرتے ہیں یااس طرح کاسوچتے ہیں وہ دشمن کے آلہ کار،اغیارکے یاراوردشمن کے سہولت کارتوہوسکتے ہیں مگرہمارے دلدارنہیں ۔اس ملک کے قیام کے لئے حضرت قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں جس طرح ہزاروں اورلاکھوں غیرت منداوربہادرجوانوں،بوڑھوں،مردوخواتین نے تن ،من اودھن کی قربانیاں دیں اسی طرح ہزاروں اورلاکھوں افراداس سبزہلالی پرچم کی بلندی اورسربلندی پربھی قربان ہوئے۔ہمارے کچھ اپنے جوآج دشمن کے آلہ کار،اغیارکے یاراورکرائے کے ٹٹوبن کرریاست کے خلاف مہم چلارہے ہیں وہ شائدیہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ ملک کہیں ان کووراثت یاجہیزمیں ملاہے مگرایسانہیں۔ان کے وارثین کے توہمارے بڑوں نے چودہ طبق روشن کرکے ہی یہ ملک ایسے اغیاروں اوران کے یاروں سے آزادکرایاتھا۔یہ ملک اس طرح آسانی کے ساتھ ہمیں نہیں ملا۔اس ملک کے قیام کے لئے ہمارے آباؤاجدادکوآگ اورخون کے دریاعبورکرنے پڑے۔نہ جانے اس ملک کی خاطرکتنے جوانوں کی گردنیں کٹیں۔۔کتنے بوڑھے آگ وخون کی نذرہوئے۔۔ کتنے بچے یتیم اورکتنی بہنیں بیوہ ہوئیں۔۔ معلوم نہیں اس وطن کے لئے کتنی ماؤں سے ان کی مامتاچھینی گئی۔۔قیام پاکستان کی پوری تحریک لازوال قربانیوں اوربے مثال جدوجہدسے عبارت ہے۔چندٹکوں پربکنے والوں کوکیاپتہ ۔۔؟کہ گلشن کو کالے ہندوؤں اورسفیدانگریزوں سے کس طرح آزادکیاجاتاہے۔۔؟دوسروں کے اشاروں پرناچنے والے یہ دلال اگرتحریک پاکستان وقیام پاکستان کی تاریخ پڑھتے یایہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے کسی بزرگ اورمجاہدکے ساتھ ایک دومنٹ بھی گزارلیتے توان کوپاکستان کی اہمیت اورحیثیت کااندازہ ہوتا۔لنڈے میں چندٹکوں پربکنے اورناچنے والوں کوکیاعلم ۔۔؟کہ پاکستان کی اہمیت،حیثیت اورقدروقیمت کیاہے۔۔؟ہمیں اس ملک کوآزادکرانے والوں پربھی فخرتھااورآج جان پرکھیل کراس کی حفاظت کرنے والوں پربھی ہمیں نازہے۔ہم پٹھان،سندھی،بلوچی اورپنجابی ضرورہیں لیکن پہلے ہم سب پاکستانی اورپکے ٹکے پاکستانی ہے۔ہماری شناخت نہ پٹھان کے نام سے ہے اورنہ ہی پنجابی،سندھی اوربلوچی قوم سے ۔ہم سارے دنیامیں پاکستان کے نام سے جانے اورپہچانے جاتے ہیں۔جولوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ پہلے پٹھان،پنجابی یاسندھی اوربلوچی ہے پھرپاکستانی توحقیقت میں ایسے لوگوں کااس ملک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔بٹگرام کے نواحی اورہمارے آبائی علاقے ڈھیری ،جوزسے تعلق رکھنے والے سیدقلندرشاہ جسے چھوٹے بڑے پیارسے باجی کہہ کرپکارتے تھے۔وہ ہمارے ان بزرگوں میں شامل تھے جنہوں نے قیام پاکستان اورتحریک پاکستان کامنظراپنی آنکھوں سے دیکھاتھا۔چندسال پہلے وہ ہم سے جداہوئے ۔اﷲ کریم ان کی قبرپرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔آمین۔وہ جب بھی ملتے قیام پاکستان اورتحریک پاکستان کے کچھ واقعات ضرورسناتے۔ایک بارہم مسجدمیں نمازپڑھ کرباہرنکلے تومسجدکے برآمدے میں وہ تسبیح ہاتھ میں لئے بیٹھے تھے ہم بھی ادب واحترام کے ساتھ قریب بیٹھ گئے۔اس دن ہماری بھی خواہش تھی کہ قیام پاکستان کے بارے میں باجی سے کچھ سن کرجائیں۔ہم نے پوچھاباجی یہ پاکستان واقعی بنایاگیاتھایایہ آپ جیسے ہمارے بزرگوں کوبنابنایاملاتھا۔۔؟بیٹایہ کوئی بریانی نہیں تھی کہ غیروں نے پلیٹ میں ڈال کرہمیں دی ۔یہ کہتے ہوئے باجی کی آنکھوں میں آنسوآگئے۔آپ جیسے بچے تویہ سمجھ رہے ہیں کہ کالے ہندوؤں اورسفیدانگریزوں نے کہیں یہ ملک ہمارے بزرگوں کواس طرح تحفے میں دے دیاہے مگرحقیقت اس جدابہت جداہے۔اس ملک کوبنانے کے لئے حضرت قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت میں ہزاروں اورلاکھوں مسلمانوں نے آگ اورخون کے دریاعبورکئے۔اسی ملک کی وجہ سے ہزاروں اورلاکھوں ماؤں کے سامنے ان کے دودھ پیتے بچوں کوآگ میں جلایااورخون میں نہلایاگیا۔خون میں لت پت ہماری مائیں ،بہنیں،بیٹیاں اوربھائی مرغیوں کی طرح خون میں تڑپ تڑپ کرجس طرح پاکستان پاکستان کے نعرے لگارہے تھے وہ مناظرمیں آج تک نہیں بھولا۔اس پاکستان جس میں آج تم آزادی سے سانس لے رہے ہواس کی خاطرہزاروں ماؤں کودودھ پیتے بچوں،بہنوں کوبھائیوں،بیویوں کوشوہروں اورباپ کواپنے جوان بچوں سے ہاتھ دھوناپڑا۔پاکستان پاکستان کے نعرے لگانے والوں کے کان بھی کاٹے گئے۔آنکھیں بھی نوچی گئیں۔زبانوں پربھی چھریاں چلائی گئیں۔جسم پرکدال اوربیلچوں کے واربھی بے شمارہوئے لیکن اس کے باوجودہم پاکستان کے نعرے سے پیچھے نہیں ہٹے۔اس وطن کی خاطرہم نے گھرباراورمال ومتاع تک ہرشئے چھوڑی مگرنہیں چھوڑاتواس پاکستان کونہیں چھوڑا۔جس پاکستان کوسیدقلندرشاہ باجی جیسے ہمارے بزرگوں نے آگ اورخون کے دریامیں کودکربھی نہیں چھوڑا۔آج اس پاکستان کوہم امریکہ ،اسرائیل اورانڈیاکے کرائے داراوروظیفہ خورکتوں کے آسرے پرکیسے چھوڑدیں۔۔؟ اس ملک کوغیروں کی شرانگیزیوں اورسازشوں سے آج تک اﷲ نے بچایاپھرپاک فوج،آئی ایس آئی اوردیگرسیکورٹی اداروں کے بہادرجوانوں نے بچایا۔ہم اپنے خلاف ہربات برداشت کرسکتے ہیں لیکن واﷲ اس ملک اورقوم کی حفاظت کے لئے تاریک ،گرم اورسردراتوں میں سیاچن،ایل اوسی،وزیرستان اوردیگراگلے محاذوں پرپہرہ دینے والے گمنام قومی محافظوں کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرسکتے ۔جان ہتھیلی پررکھ کراگلے مورچوں پرپہرہ دینے والے یہ گمنام مجاہداورہمارے اصل محافظ اگرنہ ہوتے تومعلوم نہیں ہمارے یہ حکمران،سیاستدان اوراغیارکے یہ یارکب کے یہ ملک غیروں پربیچے ہوتے۔ قوم کے اصل محافظوں کے خلاف کتوں کی یہ بھونکارکوئی نئی بات نہیں ۔یہ تودنیابھی جانتی ہے کہ گھرمیں چوری کی نیت سے گھسنے والے کتے بھی ہمیشہ چوکیدارکودیکھ کر بھونکناشروع کردیتے ہیں ۔پھرہمارے یہ محافظ جن کی بہادری،جرات اورشجاعت پرپوری دنیانازاں ہے ۔پھرامریکہ ،اسرائیل اورانڈیاکے ٹکڑے کھانے والے کتے ان پرنہ بھونکیں تواورکس پربھونکیں گے۔۔؟کرائے کے یہ ٹٹوپاک فوج کے خلاف چاہے جتنے بھی پروپیگنڈے کریں۔اس سے ہمارے ان محافظوں کوکوئی فرق نہیں پڑتا۔ہمیں ملک کی بقاء،سلامتی اورحفاظت کے لئے جان قربان کرنے کوفرض اورسعادت سمجھنے والے پاک فوج کے جوانوں پرکل بھی فخرتھااورہمیں ان پرآج بھی نازہے۔ہم خودپرشک کرسکتے ہیں لیکن اپنے ان محافظوں کے بارے میں شک یاکسی شبے کاہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ان سے تکلیف ان کوہی ہوسکتی ہے جومودی کے یاراوراغیارکے دلال ہیں ۔غیروں کے یہ دلال اورانڈیاکے یارڈالروں اوربیرونی فنڈنگ کی خاطرتواس ملک سے محبت اوراپنے خونی رشتوں تک کوچھوڑگئے ہیں مگرہم اس ملک کی محبت کوکسی بھی قیمت پرنہیں چھوڑسکتے۔اس ملک کی بنیادوں میں ہمارے بزرگوں،ہماری ماؤں،بہنوں ،بیٹیوں اوربھائیوں کاوہ مقدس خون شامل ہے جس کی خوشبوسے آج بھی یہ پورا ملک معطرہے۔اس لئے ہمارے لئے سب سے پہلے پاکستان تھا۔ہے اورانشاء اﷲ مرتے دم تک رہے گا۔ہم دنیاتوچھوڑسکتے ہیں مگرپاکستان سے محبت کبھی نہیں چھوڑسکتے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umar Khan Jozovi

Read More Articles by Umar Khan Jozovi: 114 Articles with 36246 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Mar, 2020 Views: 418

Comments

آپ کی رائے