تخت یا تختہ

(Sami Ullah Malik, )

مسلمانوں کوعدم برداشت کاطعنہ دینے والے اگرچلوپانی میں ڈوب مریں توپھربھی کم ہوگاکہ جس دن پاکستان سکھوں کی راہداری کاافتتاح کررہاتھا، ٹھیک اسی دن بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے متعلق کیس میں مسجدکی زمین پررام جنم بھومی مندرتعمیرکرنے کیلئے انتہاءپسندہندوؤں کومکمل گرین سگنل کافیصلہ سناکراپنے اوردنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کادعویِ کرنے والوں کے منہ پرکالک تھوپ دی۔اس فیصلے سے ملک میں مذہبی بنیاد پر تقسیم بڑھنے اورکشیدگی میں اضافے کاخدشہ بڑھ گیاہے۔اس عدالتی فیصلے سے مودی اوراُن کی ٹیم کواپنے ایجنڈے کے مطابق ملک کوسیکیولر بنیاد سے ہٹاکرخالص ہندوریاست میں بدلنے کی مزید تحریک ملے گی۔6دسمبر1992ءکوبابری مسجد کی شہادت نے ایک طرف توانتہاپسندہندوؤں کوبھرپورفتح کاجشن منانے کاموقع فراہم کیاتھااوردوسری طرف ملک بھرمیں شدیدنوعیت کی مذہبی کشیدگی پھیلادی تھی،جس کے نتیجے میں رونماہونے والے فسادات نے مجموعی طورپر3ہزارسے زائدافرادکی جان لے لی تھی۔

ہندوؤں نے انتخابی مہم کے دوران بابری مسجدکیس کوکئی بارکیش کرایاہے۔ملک بھرکے جذباتی ہندوؤں نے انتہاپسندہندوؤں کے ایجنڈے سے متاثرہوکرملک کوحقیقی ہندوریاست میں تبدیل کرنے کے نعرے کی بنیادپربی جے پی کوکئی باراقتدارکے ایوانوں تک پہنچایاہے۔انتہاپسنداوربنیادپرست ہندوؤں نے کم وبیش ایک صدی کے دوران یہ راگ پوری طاقت سے الاپاہے کہ بھارت میں مسلمانوں اورانگریزوں کی حکومت صرف اورصرف جبرپرمشتمل تھی اوریہ کہ ان دونوں بیرونی قوتوں نے مقامی ہندوؤں کوزیرِ نگیں رکھ کریہاں کی دولت لوٹی۔یہ بیانیہ اب تک کامیاب نہیں ہوسکامگرہندوتواکی قوتیں اب ملک کی تاریخ نئے سِرے سے مرتب کرناچاہتی ہیں،جس میں مسلمانوں اورانگریزوں کاذکرظالموں اورجابروں کے طورپرہوگا۔ انتہا پسندہندومتعددمساجد کے بارے میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مندرڈھاکربنائی گئی تھیں۔اس دعوے کاکوئی بھی ٹھوس ثبوت اب تک پیش نہیں کیاجاسکاہے۔

ہندوؤں کایہ دعویٰ رہاہے کہ بابری مسجدجس جگہ تعمیرکی گئی وہاں پہلے ایک مندرتھااوریہ کہ اجودھیاہندوؤں کے دیوتا اوروشنو کے اوتاررام چندجی کی جائے پیدائش ہے۔بابری مسجدکاکیس1950ء کی دہائی سے چل رہاتھا۔الٰہ آبادہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ قراردیاتھاکہ متنازع زمین نرموہی اکھاڑے،رام للّاٹرسٹ اوراترپردیش کے سنی وقف بورڈمیں برابرتقسیم کردی جائے۔

بابری مسجدکیس کے حتمی فیصلے سے بھارت کے مسلمان شدید خوف محسوس کررہے ہیں۔اُنہیں یہ ڈر ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری بن کررہ گئے ہیں۔گائے کے تحفظ کے نام پرمتعددریاستوں میں انتہاپسندہندوؤں کے نگراں گروپ سرگرم عمل ہیں اور ہجوم کے ہاتھوں نہتے مسلمانوں پرتشددہی کے نہیں بلکہ ان کے قتل کے واقعات بھی رونماہوچکے ہیں مگرحکومت کی طرف سے اس قبیح فعل کے خلاف کاروائی توکجاخاطرخواہ مذمت تک نہیں کی گئی۔عدالتی فیصلے بھی اس حوالے سے نمایاں نہیں رہے۔ حکمراں پارٹی کے متعددارکان مذہبی بنیادپرتشددکے واقعات میں ملوث رہے ہیں مگرسزاکاسنایاجاناتوایک طرف،اُنہیں توگرفتارتک نہیں کیاگیا۔دوسری طرف انتہا پسند ہندواپنی فتح کاجشن منارہے ہیں تاہم فضا میں شدید کشیدگی محسوس کی جارہی ہے۔

انتہاپسندہندوؤں کاایک بڑامسئلہ یہ ہے کہ وہ مسلم عہدِحکومت میں تعمیرکی جانے والی ہرعمارت کوظلم اورجبرکی یادگار قرار دینے پرتُلے ہوئے ہیں۔ تاج محل اگرچہ دنیابھرمیں بھارت کی ایک بڑی اورواضح شناخت ہے مگرانتہاپسندہندواِسے بھی مسلم عہدِ حکومت کی نشانیوں میں گنتے ہیں۔ان کاکہناہے کہ جب انگریزوں کے عہدِحکومت کی تمام نشانیاں مٹائی جا چکی ہیں تومسلم عہدِ حکومت کی نشانیوں کومٹانے میں کیاہرج ہے۔ان کاکہناہے کہ مسلم دورکی عمارتیں ظلم وجبرکی نشانی کے طورپرزندہ ہیں۔اس حوالے سے بی جے پی کے مرکزی رہنمارام مادھونےغیرمعمولی بڑبولے پن کامظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ تین سوسالہ جابرانہ مسلم عہدِ حکومت کاہرنشان مٹادیناچاہیے۔

مودی کے دورِحکومت میں بھارت کاجھکاؤواضح طورپرہندوازم کی طرف رہاہے۔مودی سرکارملک کوعالمی برادری میں نمایاں مقام دلانے کیلئےبھی فعال رہی ہے۔نئی دہلی میں حکام اس بات سے شدید پریشان ہیں کہ بیرونی میڈیانے بھارت میں مذہبی بنیادپر کشیدگی سے متعلق خبریں نمایاں طورپرشائع کی ہیں۔جموں وکشمیرکی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اُسے دوحصوں میں بانٹ کرمرکزکے زیرانتظام علاقے میں تبدیل کرنے کے فیصلے سے پیداہونے والی صورتِ حال سے متعلق خبروں نے بھی بھارت کو مزیدالجھن سے دوچارکررکھاہے۔بیرونی میڈیا نے کشمیرکی صورتِ حال کونمایاں طورپرپیش کرکے مودی کیلئےشرم کاسامان کیا ہے۔

بابری مسجد کیس کافیصلہ آتے ہی مودی سرکارکی اہم شخصیات نے صحافیوں کوبلاکریقین دلایاکہ مزیدمساجدنہیں ڈھائی جائیں گی لیکن بھارت کے مسلمان سمجھتے ہیں اگراس فیصلے پرخاموشی اختیارکرلی گئی توانتہاپسندہندومزید مساجد کوشہیدکرکے مندربنانے کی تحریک چلاتے رہیں گے۔دوسری طرف بھارت بدترین معاشی بحران کی طرف بڑھ رہاہے۔ مودی کےملک کو5 ہزارارب ڈالرکی ٹرن اوور والی معیشت میں تبدیل کے غبارے سے تیزی سے ہوانکل رہی ہےمعیشت کی شرحِ نموبھی نمایاں حدتک کم ہورہی ہے۔اس وقت بھارت میں بے روزگاری45سال کی بلندترین سطح پرہے۔

کارنیگی اینڈومنٹ فارانٹرنیشنل پیس کے ساؤتھ ایشیا پروگرام کے میلان ویشنوکہتے ہیں’’بابری مسجد کیس کے حتمی فیصلے سے بھارت میں مذہبی بنیاد پرکشیدگی پھیلنے کاخدشہ ہے۔ویسے بھی بھارت میں مذہبی کشیدگی پھیلاناچنداں دشوار نہیں۔طویل المیعاد بنیاد پریہ خدشہ پایاجاتاہے کہ اقلیتیں دوسرےدرجے کی شہری بن کر رہ جائیں گی‘‘۔

بھارتیہ جنتاپارٹی میں بہت سے لوگوں کایہ کہناہے کہ بھارت میں مسلمانوں،مسیحیوں اوردیگراقلیتوں کوایک لحاظ سے خصوصی حیثیت دی گئی ہے اوروہ یہ کہ مندرتوحکومت کے کنٹرول میں ہیں جبکہ مساجد اور گرجا گھروں کانظم ونسق خودمسلمانوں اور مسیحیوں کے ہاتھ میں ہے۔اجودھیا کے75سالہ حاجی محبوب احمد کوتین دہائیوں قبل بابری مسجد کے گرائے جانے کے وقت اجودھیاچھوڑکرجاناپڑاتھا۔وہ کہتے ہیں’’مسلمان سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کرلیں گے مگرڈراس بات کاہے کہ انتہاپسندوں کے حوصلے مزیدبلندہوں گے اور وہ دیگربہت سی مساجدکوگرانے کیلئےبھی میدان میں آجائیں گے۔ مسلمانوں کے خلاف تشددمحض بڑھ نہیں جائے گابلکہ باضابطہ، قانونی نوعیت کی شکل اختیارکرلے گا۔پھروہ وقت تخت یاتختہ کاہوگا‘‘۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 407 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 352 Articles with 86945 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: