سیّد محمد ناصر علی کی علمی کاوشیں افضل رضوی کی نظر میں

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
سیّد محمد ناصر علی کی علمی کاوشیں افضل رضوی کی نظر میں
٭
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی
ایک تخلیق کار کا دوسرے تخلیق کار کی علمی و ادبی کاوشوں کو قلم بند کرنے کا عمل لائق تحسین اور قابل ستائش ہے۔ افضل رضوی محب وطن، پاکستان اور اردو زبان و ادب سے محبت رکھتے ہیں،انہیں اردو ادب کے لکھاریوں سے بھی اتنی ہی عقیدت ہے، وہ اقبال کے چاہنے والے اور اقبال شناسی پر بہت کام کرچکے ہیں۔ میری شخصیات پر لکھنا ان کا بھی محبوب مشغلہ ہے۔ وہ اب تک متعدد نامور ادیبوں اور شاعروں پر لکھ چکے ہیں۔ افضل رضوی صاحب کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ تحقیق کے آدمی ہیں، جو کچھ بھی لکھتے ہیں تحقیق و جستجو کر کے لکھتے ہیں، جو باتیں لکھتے ہیں ان کا باقاعدہ حوالہ بھی دیتے ہیں۔ ان کے مضامین حوالہ جات سے مزین ہوتے ہیں۔ وہ حوائی باتیں کرنے کے قائل نہیں۔ سید صاحب پر انہوں نے جو مضامین تحریر کیے، اور ان سے جو قربتیں رہیں، اس عمل نے افضل رضوی کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ سیدمحمد ناصر علی کی شخصیت اور ان کی علمی، ادبی و صحافتی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے کتاب مرتب کریں اور انہوں نے ایسا ہی کیا”سیّد محمد ناصر علی کی علمی و ادبی اورصحافتی خدمات“ ایک مختصر سی کتاب اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔یہ کتاب سوانحی ادب میں ایک مقام حاصل کرے گی۔ سوانحی ادب کی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتا تا ہے کہ سوانحی ادب کا باقاعدہ آغاز 1857ء کے بعد ہوا اس سے قبل اردو نثرمیں مذہبی رنگ پایا جاتا تھا، ملا وجہی کی ’سب رس‘، اورسید انشاء اللہ خان انشاء کی تخلیق ”رانی گیتی“ کے بعد میر محمد عطا حسین خان کی’نو طرزمرصع‘ 1774ء میں لکھی گئی۔ کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج نے سوانحی اردو ادب کی باقاعدہ سرپرستی و رہنمائی کی، کئی تصانیف طبع ہوئیں، میر امن کی ’باغ و بہار‘، رجب علی بیگ سرور کا ’فسانہ عجائب‘ 1837ء میں لکھا گیا۔ کلکتہ کے بعد دلی میں سوانحی ادب کی تخلیق کا سلسلہ شروع ہوا۔ اردو میں نثری ادب جس میں سوانحی ادب بھی شامل تھا کی تخلیق اور طباعت کا یہ دور سنہری دور تھا۔ غالب کے خطوط منظر عام پر آئے جو نثری ادب کا مرقع تھے، پھر سرسید احمد خان نے ادب کی تخلیق میں زور دار دھماکے کیے۔ سوانحی ادب کی تخلیق میں ان کا اہم کردار ہے۔ دلی کالج کو بھی نثری ادب کے فروغ میں مقام حاصل ہے جس میں ترجمہ کی جانب توجہ مرکوز ہوئی۔ اردو ادب میں نثری تخلیقات رفتہ رفتہ وسعت حاصل کررہی تھیں۔ غالب، سرسید، محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی، ڈپٹی نذیر احمد، الطاف حسین حالی، مولوی چراغ علی جیسے نثر نگاروں کے بعد اردو نثر میں نئی جہت کا آغاز ہوا، مولوی ڈاکٹر عبد الحق اور ان کے ہمعصروں نے اردو میں نئی اصناف متعارف کرائیں ان میں انشائیہ نگاری، روزنامچہ نگاری، مکتوب نگاری، خودنوشت نگاری، رپوتاژ نگاری، سفرنامہ نگاری، خاکہ نگاری اور سوانح نگاری جیسی غیر افسانوی اصناف نے اردو کے دامن کو وسیع سے وسیع تر کیا۔ سرسید احمد خان نے اپنے نانا کے بارے میں ’سیرت فرید، آثار الثنادید‘ لکھ کر اردو سوانح نگاری کے لیے ہموار کی جسے بعد میں الطاف حسین حالی نے باقاعدہ ایک صنف کی حیثیت دی اور نظریاتی اور اصولی طور پر سوانح نگاری کو متعارف کرایا۔ ’حیاتِ سعدی۶۸۸۱ء، یادگار غالب ۶۹۸۱ء اور حیات ِ جاوید۱۰۹۱ء، حالی’کی معرکتہ الا راء سوانح عمریاں ہیں جو اردو میں گرانقدر اضافہ ہے۔ شبلی نعمانی نے بھی سوانحی ادب میں قابل قدر اضافہ کیا۔حالی کے بعد شبلی سوانح نگاری میں اہم نام ہے،سوانحی نگاری کا سلسلہ بے شمار لوگوں نے خوبصورت آپ بیتیاں لکھی ہیں۔ ان میں سر سید، شبلی، راشد الخیری، ملا واحدی، ابولحسن ندوی، کے علاوہ دور حاضر میں مختار مسعود، احسان دانش، ممتاز مفتی، حسین احمد مدنی، عبد المجید سالک، شاد عظیم آبادی، چودھری خلیق الزماں، نواب صدیق علی خان، فیروز خان نون، جوش ملیح آبادی، عبدالماجد دریا آبادی، مشتاق احمد یوسفی، مہندر سنگھ بیدی، ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری، مرزا ادیب، حاذق الخیری، قدرت اللہ شہاب کے نام بڑی آسانی سے لیے جاسکتے ہیں۔ سررضا علی کی آپ بیتی ’اعمال نامہ‘، بہترین خود نوشت ہے۔ زہراداؤدی کی‘گرداب کی شناوری‘، آلِ احمد سرور کی ’خواب باقی ہیں‘ (۱۹۹۱ء میں علی گڑھ سے شائع ہوئی)، یونس احمر کی ’ماضی کے تعاقب میں‘، ڈاکٹر تصدق حسین راجا کی ’داستان میری‘، مرزا محمد عسکری کی ’من کیستم‘، الحاج محمد زبیر کی ’کتاب زیست‘ میری رائے میں اچھی آپ بیتیاں ہیں۔ سوانح نگاری کے موضوع پر اولین تحقیق پروفیسر ڈاکٹر شاہ علی کی ہے جنہوں نے ’اردو میں سوانح نگاری‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر ۵۵۹۱ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ۵۸۹۱ء میں پروفیسر ڈاکٹر خورشید خاور امروہوی نے ’اردو شعر کی آپ بیتیاں‘ پر مقالہ لکھ کر جامعہ کراچی میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی تھی۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن وقار گل کی پی ایچ ڈی تحقیق کا موضوع تھا ’اردو سوانح نگاری آزادی کے بعد‘، یہ مقالہ کتابی صورت میں ۷۹۹۱ء میں شائع ہوا۔ غالب نامہ، غالب کی سوانح عمری ہے، جسے شیخ محمد اکرم نے لکھا، غلام رسول مہر نے بھی غالب کی سوانح ’غالب‘ کے نام سے لکھی، غالب کی سوانح لکھنے والوں میں ہندوستان کے ادیب بھی شامل ہیں جن میں مالک رام شامل ہیں انہوں نے ذکر غالب کے عنوان سے سوانح لکھی۔ ان کے علاوہ عبد الماجد دریا آبادی، سید نمکین کاظمی، شاہ معین الدین ندوی، سید نذیر احمد نے اقبال کی سوانح ’دانائے راز کے عنوان سے لکھی، علامہ اقبال کے بیٹے جاوید اقبال نے اقبال کی سوانح ’زندہ رود‘ کے عنوان سے سوانح عمری لکھی، راقم الحروف نے اپنے دادا شیخ محمد ابراہیم آزاد کی سوانح تحریر کی۔ افضل رضوی سوانحی ادب میں جو کام کر چکے ہیں اس کے پیش نظر مَیں بڑ ے وثوق اور اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ افضل رضوی ایک مستند سوانح نگار ہیں۔ ان کے رشحات قلم سے کئی اہم شخصیات پر سوانحی مضامین منشائے شہود پر آچکے ہیں۔ان کے جو سوانحی مضامین میرے نظر سے گزرے ان میں علامہ اقبال، حمید نظامی، فاطمہ ثریا بجیا، ڈاکٹر انور سدید، انتظار حسین، ناصر ناکا گاوا (جاپان میں پاکستان اور اردو زبان و ادب کا بے لوث سفیر)، بھلے شاہ، طارق محمود مرزا، مفتی حافظ امیر علی صابری، محمد شفیق فاروقی، سید محمد ناصر علی اور مجھ ناچیز پر بھی ایک مضمون حال ہی میں بعنوان ”ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی کالم نگاری“ لکھ چکے ہیں۔ ناصر علی صاحب پر ان کے متعدد مضامین میری نظر سے گزرے۔
جس شخصیت کی علمی بصیرت کو افضل رضوی نے کتاب کا موضوع بنایا ہے ان سے میرے مراسم اور تعلق قدیمی تو نہیں لیکن کچھ عرصہ قبل جب ان کا قرب حاصل ہوا تو تعلق قدیمی نکل آیا یعنی وہ اور میں بچپن میں ایک ہی محلے(بہار کالونی) میں پلے، بڑھے، پرائمری تعلیم ایک ہی اسکول”غازی محمد قاسم اسکول“ سے حاصل کی۔دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ سید صاحب سے قربت کا سبب آسٹریلیا میں بیٹھے افضل رضوی صاحب ہی بنے، رابطہ کار مرتضیٰ شریف ہوئے۔ افضل رضوی صاحب کی کتاب ”دربرگِ لالہ و گل“کی اولین جلد کی تقریب اجراء میں ہم شریک ہوئے، یہ کتاب بقائی یونیورسٹی کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے، اشاعت میں سید ناصر علی کی کاوشیں ہی تھیں، افضل رضوی صاحب کو پہلی مرتبہ تقریب اجراء میں دیکھا اور سنا بھی، محسوس ہوا کہ کوئی عالم فاضل شخص گفتگو کررہا ہے۔ چند دن بعد اس کتاب کا ایک نسخہ سلسلہ ادبی فورم کے مرتضی شریف نے دیا اور فرمایا کہ ناصر علی صاحب نے بھجوائی ہے اس پر اظہار خیال کرنا ہے۔ کتاب کو الٹ پلٹ کر دیکھا،کتاب کا چہرہ مبارک خوبصورت اور دیدہ زیب تھا، اقبال، شاعری، نباتات اور افضل رضوی وہ بھی آسٹریلیا کے باسی۔کتاب تو لے لی پر سوچ کا دھارا کتاب کے عنوان پر مرکوز رہا، اقبال سے کس کو محبت نہیں، اس کی شاعری سے عشق ہر ادیب شاعر کو ہے، البتہ نباتات اور افضل رضوی دونوں میرے لیے اجنبی تھے۔ نباتات کے بارے میں مجھے صرف اتنا علم تھا کہ پھول، پودے، درخت، خوشبو، جڑی بوٹیاں اور محبت کا نام نباتات ہے۔ عشقیہ شاعری میں نباتات منفرد استعارہ ہیں، الغرض میرے اندر کا تبصرہ نگار جاگ اٹھا اور کتاب پر اظہار خیال کرنے کا قصد کر لیا۔اور ہمت کرکے ایک فصیح و بلیغ تبصرہ قلم بند کردیا،تبصرہ شاید سید ناصر علی اور افضل رضوی صاحب کے من کو بھا گیا اور ہمارے تعلقات ان دونوں سے استوار ہونا شروع ہوگئے،افضل رضوی صاحب سے واٹس اپ اور میسنجرپر تبادلہ خیال ہونے لگا، سید صاحب ہمارے دوست محمود عزیز صاحب کے ساتھ گھر تشریف لائے، باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ ہم دونوں کا بچپن تو ایک ہی محلہ اورہم نے ایک ہی اسکول سے ابتدئی کلاسیں پڑھیں یعنی کے پرائمری دونوں نے اسی اسکول سے کی۔
سید ناصر علی ایک مستند لکھاری ہیں، ان کی تصانیف ’خاکے کہانیاں‘ اور ’بہ زبان قلم‘ کا عمیق مطالعہ میں کر چکا ہوں۔ان کے لکھے ہوئے خاکے، کہانیاں اور مضامین ان کے صاحب طرز ادیب ہونے کی عکاسی کر تے ہیں۔ افضل صاحب کی تصنیف ’دربرگ لالہ گل‘ کی جلد اول و دوم پر بھی اظہار خیال کا اعزاز حاصل ہوا، کلام اقبال میں نباتات یہ اس کتاب کو موضوع ہے۔ شاعری، وہ بھی اقبال کی شاعری اور پھر سونے پہ سہاگہ یہ کہ پھولوں، کلیوں، درختوں، پودوں، پتوں، جڑی بوٹیوں کے حوالے سے اشعار اور ساتھ ہی ان کی وضاحت افضل صاحب نے خوبصورت انداز سے کی، کتاب پر جب لکھنے بیٹھتا، لکھنا بھول جاتا اقبال کے اشعار پڑھنے لگتا، نتیجہ یہ ہوا کہ چند صفحات لکھنے میں کافی وقت لگ گیا۔
پیش نظر مختصر کتاب لیکن لکھنے والا اور جس پر لکھا گیا ہے یعنی مدح خواں اور ممدوح دونوں سے یکساں چاہتیں، محبتیں، قربتیں، الفت، چاہ، پیار، دوستی اور یارانہ ہے لکھوں تو کیا لکھوں، سید صاحب جیسے ظاہر میں صاف ستھرے، شائستہ،نورانی کھلتا چہرہ، کم گو، دھیمی آواز، منکسر المزاج،الفاظ کے چناؤ میں احتیاط، ان کی تحریربھی انہیں خصوصیات کی حامل ہوتی ہے۔ اچھا اور صاف ستھرا لکھتے ہیں،وہ خاکہ نگار بھی ہیں اور کہانی کار بھی، مؤلف بھی ہیں مترجم بھی، کبھی فوٹرگرافی سے بھی شغفت رکھا کرتے تھے۔سمجھیں سید صاحب ادب کی مختلف اصناف کے اظہار کا گلدستہ ہیں۔ پیش نظر تصنیف ان کی شخصیت، مضامین، کالموں اور ترجمہ شدہ مضامین کا مجموعہ ہے۔ افضل رضوی صاحب نے سید ناصر علی پر کتاب لکھ کر بڑا کام کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ سید صاحب پر ضخیم کتاب مرتب کی جاتی لیکن اسے سید صاحب پر کام کا نقطہ آغاز سمجھنا چاہیے، امید ہے کہ مستقبل کا محقق سید صاحب کی شخصیت اور علمی ادبی اور صحافتی خدمات پر سیر حاصل تحقیق کرے گا۔افضل رضوی صاحب نے دریا کوگویا کوزے میں بند کردیا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 768 Articles with 669424 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
16 Mar, 2020 Views: 314

Comments

آپ کی رائے