مجاہد ِ آزادیئ کامل (مولانا حسرت موہانی)/مؤلف سید محمد اصغر کاظمی

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

مجاہد ِ آزادیئ کامل (مولانا حسرت موہانی)/مؤلف سید محمد اصغر کاظمی
٭
یوں تو جدوجہدِ آزادی میں بے شمار مسلمان سَرخَیل تھے جنہوں نے جدوجہد آزادی میں دامے درمے سخن ِاہم کردار ادا کیا۔ ہر ایک نے اپنی اپنی بساط کے مطابق آزادی کی تحریک میں اپنا حصہ ڈالا لیکن ہندوستان کے ضلع اناؤ کے قصبے موہان میں پیدا ہونے والے سید فضل الحسن جو حسرت تخلص کیا کرتے اور اپنی جنم بھومی موہان سے تعلق کو اپنے نام کا ایسا حصہ بنایا کہ وہ صرف’حسرتؔ موہانی‘کے طور پر مسلمانوں کے محبوب لیڈر بن کر ابھرے۔ اردو ادب میں اعلیٰ مقام اور بلند منصب و مرتبہ پر فائز ہوئے۔ ’سید الا حرار‘ اور’ر ئیس المتغزلین‘ کہے جاتے ہیں۔وہ ایک وعبقری شخصیت کے مالک تھے۔ جدوجہد آزادی کو منتقی انجام تک پہنچانے میں حسرت کا کردار کلیدی ہے۔ وہ ایک نڈر صحافی ہی نہیں بلکہ اردو صحافت کے بانی تصور کیے جاتے ہیں۔ اردو غزل کے ممتاز شاعر، شارح،تذکرہ نگار، نقاد، سیاسی رہنما ء ا ور تحریک آزادی کے صفِ اول کے رہنماؤں میں سے تھے۔ صاف گو اورحق پرست ہی نہیں خدا رسیدہ صوفی اور درویش منش انسان تھے۔اپنے نام اور تخلص کے حوالہ سے ان کا یہ شعر بہت مقبول ہے ؎
عشق نے جب سے کہا حسرتؔ مجھے
کوئی بھی کہتا نہیں فضل الحسن
بابائے اردو مولوی عبد الحق نے اپنے ایک مضمون ”مولاناحسر ت موہائی“ جو ماہنامہ ’تہذیب‘ ۷۹۹۱ء میں شائع ہوا۔ مولانا حسرت موہانی کے بارے میں لکھا کہ ”اگر کوئی ناواقف پہلی بار مولانا حسرت کو دیکھتا تو سمجھتا کہ یہ کوئی مخبوط الحواس شخص ہے۔ ان کی ٹوپی پر جو اکثر ترکی ہوتی تھی۔ آدھ آدھ ا نگل چیکٹ جمع ہوتا تھا۔ داڑھی پریشان، لباس میں کوئی سلیقہ نہیں، نہ میلا نہ اجلا، جوتے نے کبھی برش کی صورت نہ دیکھی تھی۔ آواز جھینگر سے ملتی جلتی۔ لیکن اس بے ڈال قالب میں بے پایاں روحانی وقت، اخلاقی جرأت اور خلوص و صداقت تھی“۔ حسرت کے بارے میں بابائے اردو کی اس رائے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حسرت علامہ اقبال کے اس شعر کی جیتی جاگتی تصویر تھے ؎
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
حسرت نے سادہ زندگی گزاتے ہوئے دنیا میں جو نام پیدا کیا وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو سکا ہے۔ان کی اسی خصوصیت نے انہیں سید الا حرار اور تحریک آزادی کے عظیم رہنما ء ہونے کا اعزاز بخشا۔ انہیں ’فوق البشر‘ جیسے خطاب سے بھی نوازا گیا، جیل میں رہے تو وقت ضائع نہیں کیابلکہ ادب اور غزل میں ایسا مقام پیدا کیا کہ ”ر ئیس المتغزلین“ کہلائے۔ جیل میں کہا ہوا ایک شعر جو بے انتہا مشہور ہے ؎
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اِک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی
1916ء میں حسرت کی دوبارہ گرفتاری عمل میں آئی اور مقدمہ چلا کر دو سال قید با مشقت کی سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا۔ جیل میں محنت مشقت، سختی، مصائب و آلام اور مظالم نے مولانا کی طبیعت میں درویشانہ شان پیدا کردی تھی۔ ان کی طبیعت میں سادگی کے ساتھ ساتھ نڈر اور دلیر انسان نے جنم لے لیا تھا۔ آپ کے ساتھ یہ مظالم ’اردو ئے معلیٰ‘ کی اشاعت اور ان میں شائع ہونے والے مضامین کی پاداش میں رواں رکھے گئے۔ اردوئے معلیٰ کے بند ہوجانے کے بعد مولانا نے سُدیشی تحریک علی گڑھ میں چلائی، ان کے اس اقدام پر مولانا شبلی نعمانی نے انہیں لکھا ”تم آدمی ہو یا جن، پہلے شاعر تھے، پھر پالی ٹیشن بنے اور اب بنیے ہوگئے“۔1922ء میں حسرت کو آخری بار گرفتار کیا گیا تو آپ اسی سدیشی اسٹور کے لیے فکر مند تھے۔اس بار مولانا ڈھائی سال قید میں رہے۔مولانا ایک طریق علم کے بھی موجد بھی ہیں اسے انہوں نے مزاحمت دفاع، یہ نظریہ بعد میں ”ستیہ گرد“ کہلایا۔ اسے گاندھی نے اختیار کیا اور عدم تعاون اور ستیہ گرد قرار دیا۔ کہا جاتا ہے کہ گاندھی کافلسفہ مولانا حسرت موہانی کے مزاحمت دفاعی سے اخذ کیا گیا ہے جو انہوں نے ستمبر 1907ء میں اپنے ایک مضمون میں پیش کیا تھا۔
اردو ادب کا کون سا ایسا بڑا ادیب اور دانشور ہے جس نے حسرت پر قلم نہیں اٹھا یا۔ حسرت کی شخصیت سے لے کر سیاسی جدوجہد، ادب کے مختلف پہلوؤں پر علیحدہ علیحدہ مضامین اور کتابیں لکھی گئیں اور حسرت پر مختلف زاویوں سے تحقیق کا عمل جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ حسرت کے حوالہ سے یوں تو کئی نام لیے جاسکتے ہیں لیکن محمد اصغر کاظمی صاحب کو بلاشبہ حسرت شناسی اور حسرت پر تحقیق و جستجو میں یقینا ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ انہوں نے حسرت موہانی پر تحقیقی کام کر کے حسرت شناسی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
حسرت پر کئی احباب نے کام کیا۔ان میں سرشار صدیقی،، عارف ہسوی، عبدالشکور، محمد اسلم ہندی، عبد القوی دسنوی، داکٹر یوسف حسین خان، حکیم محمد سعید شہید، سید اشتیاق اظہر، شفقت رضوی۔ کراچی میں حسرت موہانی میموریل لائبریری ایند ہال ٹرسٹ نے حسرت پر مطبوعات کا سلسلہ دوبارہ جاری کیا۔ ابتدا ء میں سید اشتیاق اظہر نے حسرت کے حوالہ سے کئی تالیفات مرتب کیں ان کے اس عظیم مقصد کے لیے ’حسر ت موہانی لائبریری و ٹرسٹ‘ کو سید محمد اصغر کاظمی کے روپ میں ایک محنتی، جفاکش، تحقیقی ذہن رکھنے والا، کھوج لگانے اور جستجو کرنے کی فکر میں رہنے والا نوجوان میسر آگیا جس نے حسرت فہمی اور حسرت شناسی کی تحریک کو زندہ رکھتے ہوئے حسرت سے محبت کرنے والوں کی دلچسپی کا سامان فراہم کر نے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
پیش نظر تالیف ”مجاہد آزادی ئ کامل“اصغر کاظمی کی ساتویں تالیف ہے۔ اصغر کاظمی نے عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ حسرت مو ہانی کے سچے عاشق اور حسرت شناسی کے علمبردار ہیں۔ میرے مطالعہ کے مطابق حسرت موہانی کی شخصیت اور ان کی خدمات کے حوالے سے شاید ہی کوئی پہلو ایسا ہو جس پر اصغر کاظمی نے قلم نہ اٹھایا ہو۔حسرت موہانی کی شخصیت و خدمات کے حوالے سے سید محمد اصغر کاظمی پیش نظر تصنیف سے قبل 6تصانیف مرتب کرچکے ہیں، ان تالیفات میں ”سید الا حرار... رئیس المتغزلین مولانا حسرت موہائی: دانشوروں کی نظر میں ۲۰۰۲ء“، ”مولانا حسرت موہانی کی حمد و نعت اور منقبت گوئی“،”مولانا حسرت موہانی :ایک ہمہ جہت شخصیت“، ”مولانا حسرت موہانی کی تذکرہ نگاری“، ”مولانا حسرت موہانی کی صحافتی خدمات (اردوئے معلی، تذکرۃ الشعراء، مستقل اور استقلال کے آئینے میں“، ”نشاط النساء بیگم حسرت موہانی: افکار و کردار“، اب مجاہد آزادی ئ کامل (مولانا حسرت وہانی“، مرتب کر کے حسرت شناسی کے بات میں ایک قابل قدر اضافہ کیا ہے۔
حسرت موہانی نے ۰۵۹۱ء میں حج ادا کیا۔ وہ حج سے واپسی پر پاکستان بھی تشریف لائے۔ شاید انہیں اپنے بلاوے کا احساس ہو چلا تھا، بعض نے لکھا کہ انہیں اپنی موت کا یقین ہو گیا تھا۔ انہیں اپنے مقصد میں کامیاب ہونے میں بے شمار مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور پاکستان تشریف لائے، کراچی میں اپنے احباب سے ملاقات ان کا بنیادی مقصد تھا۔ یہاں آپ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ مستقل طور پر پاکستان میں قیام کرلیں لیکن آپ کا جواب تھا کہ ”میں ہندوستانی مسلمانوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا“۔ کراچی سے لاہور ہوتے ہوئے مولانا کانپور چلے گئے۔بیماری طول پکڑتی جارہی تھی، کمزوری اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔بہتر علاج کی غرض سے آپ کانپور سے لکھنئو منتقل ہوگئے اور فرنگی محل میں قیام کیا اسی جگہ ۳۱ مئی ۱۵۹۱ء کو مولانا حسرت موہانی نے داعیٰ اجل کو لبیک کہا اور مولوی انوار کے بَاغ میں تدفین عمل میں آئی۔
پیش نظر تالیف میں مؤلف نے جانفشانی و عرق ریزی سے کئی معروف اہل قلم کی مضامین ایک جگہ جمع کردیئے ہیں ان میں علامہ سید سلیمان ندوی، مداد صابری، ڈاکٹر اشفاق احمداعظمی، پروفیسر عبدا لطیف اعظمی، آزا دبن حیدر، ڈاکٹر مظفر حنفی، ڈاکٹر خلیق انجم، حبیب الرحمٰن حبیب، محمدصادق قصوری، شاہ محمود عطا، اقبال احمد صدیقی، محمد سعید، تصور احمد شاد اور عظمت انصاری شامل ہیں۔ حسرت پر تحقیق کرنے والوں کے لیے یہ مجموعہ حسرت پر تحقیق کو آگے بڑھانے میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔ عمدہ کاوش پر مؤ لف کو مبارک باد۔



Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 94 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 697 Articles with 540489 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: