کیجریوال نے این پی آرکی گنگا میں ڈبکی لگا کر اپنے پاپ دھو لیے

(Dr. Salim Khan, India)

جنگ اور الیکشن میں جبرو انتخاب کےچار امکانات موجود ہوتے ہیں ۔ اول تو عزت کے ساتھ جیت ، دوسرا عزت کے ساتھ ہار، تیسرا ذلت کے ساتھ جیت اور چوتھا ذلت کے ساتھ ہار۔ دہلی کے حا لیہ میں عآپ کو اپنی فتح کا یقین تھا اس نے اسے حاصل کرنے کے لیے عزت کا راستہ چنا۔کانگریس کی جیت کا امکان مفقود تھا اس کے باوجود اس نے عزت کا دامن تھامے رکھا۔ بی جے پی کو احساس ہوگیا تھا کہ عزت کے ساتھ کامیابی نہیں مل سکتی تو اس نے ذلت کا راستہ منتخب کیا لیکن مشیت نے اسے ذ لت آمیز شکست سے دوچار کر کے یہ ثابت کردیا کہ نتیجے پر کسی سرکار دربار کا اختیار نہیں ہوتا۔ عزت و ذلت کا سلسلہ یہاں تمام نہیں ہوا۔

عوام کو اور ان میں خاص طور پر مسلمانوں کو نتائج کے بعد اروند کیجریوال سے یہ امید تھی کہ کم ازکم اس آگ کے دریا سے وہ کندن بن کر نکلیں ۔لوگ اس خوش فہمی کا شکار تھے انتخابی نتائج کے بعد وہ حق پسندوں کا ساتھ دیں گے ۔ احسانمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان مسلمان رائے دہندگان کا کھل کرشکریہ کریں گے جنہوں نے کسی بدلے کی یا انجام کی پرواہ بغیر کمل پر جھاڑو پھیر دیا اور ان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے ۔انتخابی ناکامی کا انتقام لینے اور مسلمان مظاہرین کا حوصلہ پست کرنے کی خاطر سنگھ پریوار نے دہلی میں نہایت بھیانک فساد کروا دیا لیکن افسوس کہ اروند کیجریوال اس دوسرے امتحان میں بری طرح ناکام ہوگئے ۔ اس فساد کے بعد انہوں نے اپنی ایسی مٹی پلید کرائی کہ جھاڑو کے مقابلے کمل خوشنما نظر آنے لگا اس لیے اس نے کم ازکم سامنے سے سینے پر وار کیا تھا دھوکے سے پیٹھ میں چھرا تو نہیں گھونپا تھا۔

دہلی فسادات نے مسلمانوں کو یہ سبق سکھا دیا کہ امن کی حالت میں کسی کو ہرا کر اس سے تفریح حاصل کرلینا اپنی جگہ لیکن تشویشناک صورتحال میں جھاڑو ہو یا کمل اور ہاتھ ہو سائیکل میں سے کوئی کام نہیں آتا۔ اس وقت تو امت کا اتحاد اور عزم و حوصلہ حالات سے نبرد آزما ہوجاتا ہے۔ وہ نوجوان جو بظاہر کسی کام کے نظر نہیں آتے جب اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سڑکوں پر اترتے ہیں تو حملہ آور بلوائیوں کے قدم اکھڑ جاتے ہیں ۔ فساد کے بعد بھی مصیبت زدگان کی مدد کے لیے انسانیت نواز ہندو، مسلم ،سکھ ا ور عیسائی عوام پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ فساد زدگان کی باز آبادکاری کے کام میں بھی رضا کار تنظیمیں تو میدان میں سرگرمِ عمل ہیں لیکن سیاستداں گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہوجاتے ہیں۔

دہلی کے مسلمان جھاڑو کے وار سے لگنے والے زخم ابھی سہلا ہی رہے تھے کہ کیجریوال نے اچانک این پی آر کا مرہم رکھ کر سب کو چونکا دیا۔ آر ایس ایس والے انہیں اپنا آدمی سمجھنے کی جس خوش فہمی کا شکار ہوگئے تھے وہ بھی یکسر دور ہوگئی۔ عآپ کی طرف سے رکن اسمبلی گوپال رائے نے این پی آر کے خلاف اسمبلی میں قرار داد پیش کردی ۔ گوپال رائے نے اپنے بیان میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے کھولتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ جو من میں آئیں بولیں لیکن دستور کے لحاظ سے این پی آر کا طبعی نتیجہ این آر سی ہے۔ اس کو لے کر ملک کا ہر شہری فکرمند ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیرداخلہ ۲۰۰۳ کے ضابطے میں تبدیلی کردی ہے ؟ سچ تو یہ ہے کہ جس طرح سی اے اے کے قانون میں ترمیم کی گئی اسی طرح جب تک این پی آر کی بابت دستوری ترمیم نہیں ہوجاتی امیت شاہ یا نریندر مودی پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لوگ گرگٹ کی طرح کب رنگ بدلیں گے کوئی نہیں جانتا۔

امیت شاہ یا تو بیوقوف ہیں یا عوام کو بیوقوف بنارہے ہیں ۔ انہوں نے عوامی خطابات کے علاوہ ایوان پارلیمان ۹ مرتبہ یہ کہا ہے کہ این پی آر کے بعد این آر سی آئے گا۔ اس لیے جب تک دستور میں ترمیم نہیں ہوجاتی ان کی زبانی یقین دہانی قابلِ بھروسہ نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ فی الحال وزیراعلیٰ اروند کیجریوال بہت پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں لیکن ان کے اس اقدام نے مسلمانوں کو بہت بڑی راحت دی ہے ۔ انہیں ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ بی جے پی کے خلاف عام آدمی پارٹی کو ووٹ دے کر انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی تھی ۔ اروند کیجریوال نے این پی آر کے خلاف یہ قرار داد پیش کر کےگویا گنگا میں ڈبکی لگا لی ہے اور ان کے بہت سارے پاپ دھل گئے ہیں ۔ انہوں یہ ثابت کردیا ہے عآپ بزدل ضرور ہے مگر بی جے پی کی بی ٹیم نہیں ہے۔ بی جے پی کی اس سے بڑی رسوائی اور کیا ہوسکتی ہے ملک کے دارالخلافہ میں این پی آر پر عملدرآمد نہ ہو۔ اس نے ایم پی میں کمل کے کھلنے سے بپا ہونے والے جشن پر گہن لگادیا ہے۔

جمہوریت میں اکثریت کی خوشنودی(appeasement) ہر سیاسی رہنما کی مجبوری ہوتی ہے ۔ یہ فرد سے زیادہ نظام کی کمزوری ہے۔ ہر کسی میں اصولوں کی خاطر اپنے اقتدار کو داوں پر لگانے کا حوصلہ نہیں ہوتا ۔ اس لیے کیجریوال نے انتخاب سے قبل موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے شاہین باغ والوں کو مایوس کیا لیکن پھر بھی امیت شاہ جس قدر پستی میں گرے اس سے انہوں نے اپنے آپ کو سنبھالے رکھا تاکہ بی جے پی کے مایا جال سے محفوظ رہ سکیں لیکن دہلی فساد کے بعد ان کی ابن الوقتی اور بزدلی نے انہیں تحت السریٰ میں ڈھکیل دیا ۔ وہ اگر این پی آر پر اسمبلی میں قرار داد پیش کروانے کا یہ جرأتمندانہ فیصلہ نہ کرتے تو دہلی کا مسلمان انہیں کبھی معاف نہ کرتا اور آئندہ انتخاب میں وہ اپنا سب بھروسہ مند ووٹر گنوا بیٹھتے ۔ اس لیے دیر سے سہی کیجریوال نے خود ایک چتور بنیا ثابت کیا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1201 Articles with 436137 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Mar, 2020 Views: 150

Comments

آپ کی رائے