کرونا ۔۔۔ مختصر اور مفید

(Nazar haffi, islamabad)

وائرس ایک زہریلی گندگی ہے۔کرونا وائرس در اصل گندگی کی اتنی باریک اور پتلی تہہ ہے جسے عام خوردبین سے بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔اسے دیکھنے کیلئے خاص آلات درکار ہیں، وائرس کا لفظ لاطینی اور یونانی علمی منابع سے درآمد کیا گیا ہے جس کا مفہوم زہر ہے۔ جولوگ کرونا وائرس سے متاثر ہوتےہیں ان میں سے80 فیصد سے زیادہ وہ بغیر کسی درمان کے تندرست ہو جاتے ہیں۔ لیکن کچھ افراد میں یہ بیماری نزلہ زکام سے بڑھ کر پھیپھڑوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ کرونا جسے متاثر کرتا ہے اس میں سر درد، نزلہ زکام اور بخار کے علاوہ سانس لینے میں تکلیف، چھاتی میں درد اور گھٹن نیز چہرے اور ہونٹوں کے رنگ کے نیلے ہو جانے کی علامات پائی جاتی ہیں۔

کورونا وائرس یعنی کورونا نامی زہرکو ابھی تک سمجھا نہیں جا سکا لہذا اس کا تریاق بھی نہیں بنایا جا سکا۔ اسی لئے اگریہ زہر کسی کو مریض کر دےتو اس کے مرض کا علاج نہیں ہو سکتا ۔ چنانچہ اس کے مرض کے علاج کے بجائے ، اس کی علامات کا علاج کیا جاتاہے۔ مثلا اگر کسی کو زکام،بخار یا سر دردہے تو اسے زکام بخار یا سردرد کی دوائی ہی دی جاتی ہے۔ اگر یہ وائرس کسی کے پھیپھڑوں کونقصان پہنچا دے تو زیادہ سے زیادہ اس کے پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان کا ہی علاج کیا جاتاہے۔ کرونا وائرس سےزیادہ احتیاط اس لئے بھی کی جاتی ہے چونکہ یہ عام نزلہ و زکام اور انفلوئزا کی نسبت اڑھائی گنا زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور زیادہ لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔

یہاں پر انتہائی اہم اورجاننے کی بات یہ ہے کہ کرونا جراثیم یا بیکٹریا نہیں ہے۔جراثیم اور بیکٹریا وہ ہوتا ہے جو جاندار ہوتا ہے اور جسے اینٹی بایوٹک یعنی جراثیم کش ادویات سے مار دیا جاتا ہے، جبکہ کرونا وائرس کوئی جاندار نہیں ہے اور یہ ایک زہر ہے۔ اسے مارا نہیں جا سکتا صرف دھویا جا سکتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس کھانے سےہم کورونا وائرس سے محفوظ نہیں رہ سکتے بلکہ سائیڈ ایفکٹس ہونے کے باعث مزید کسی بیماری کے شکار بھی ہو سکتے ہیں۔

جان لیجئے! اگر ہم نے اپنے گھر کو مکمل قرنطینہ کیا ہوا ہے تو اس کے باوجود ہم محفوظ نہیں ہیں چونکہ یہ وائرس ہم سب کے تعاقب میں نکلا ہوا ہے۔ کرونا وائرس مختلف صورتوں میں ہمارے گھر کی چار دیوری کو پھلانگ سکتا ہے۔ باقی صورتوں کے بارےمیں آپ خود سوچیں البتہ ان میں سے تین کو بطور مثال ہم بیان کر رہے ہیں۔

کرونا وائرس کے پھیلنےکے تین اہم سبب
۱۔ کرنسی نوٹ
اگر آپ گھر میں بند ہو کربھی کچھ خرید و فروخت کرتے ہیں،تو رقم کے لین دین سے کرونا کا تبادلہ ممکن ہے۔
۲۔چھوٹے بچے
۲۔چھوٹے بچے چونکہ دروازے پر بھی سب سے ملتے ہیں، ہر چیز کوہاتھ لگاتے ہیں اور سب انہیں چومتے ہیں تو اس طرح یہ بھی اس وائرس کے پھیلاو کا عامل بن سکتے ہیں۔
۳۔ پالتو جانور
بلی، مرغی ،بکری اور کبوترسمیت تمام پالتو جانوروں کو اگر قرنطینہ نہ کیا جائے تو یہ بھی کرونا کی درآمد اور برآمد کا باعث بن سکتے ہیں۔

آخر میں یہاں پر ویکسینیشن کے تصور کو بھی بیان کرنا ضروری ہے، برطانوی سائنس دان ایڈورڈ جینر نے 1803 میں vaccine کی اصطلاح اس وقت متعارف کرائی جب اس نے چیچک سے بچاؤ کی خاطر اپنا طریقہ علاج دریافت کیا، اور اسے ویکسینیشن کہا گیا۔ اس طریقہ علاج کے مطابق جس بیماری سےبچاو کرنا ہوتا ہے اس کے کمزور ترین جراثیم یا وائرس انسانی جسم میں داخل کر دئیے جاتے ہیں، انسانی جسم اپنے مدافعتی نظام کے ساتھ فوراً ان کمزور حملہ آوروں کو مار دیتا ہے اور ان کی نسبت چوکنا اور قوی ہو جاتا ہے۔ یعنی یوں سمجھئے کہ جب انسانی جسم کو ایک مرتبہ ان کا ذائقہ لگ جاتا ہے تو اس کے بعدجب کبھی اس کے بعد وہی وائرس یا جراثیم دوبارہ اس پر حملہ کرتے ہیں تو پھر وہ جتنے بھی قوی ہوں ، انسانی جسم ان پر قابو پالیتا ہے۔ ایک وائرس یا جراثیم کے ذریعے ہی جسم کو وباوں کے مقابلے کیلئے تیار کرنے کے عمل کو ویکسینیشن کہتے ہیں۔

اس وقت جو لوگ پرہیز اور احتیاط کے ساتھ کرونا سے نبرد ازما ہیں ، ان کے بدن کی قدرتی طورپرویکسینیشن بھی ہو رہی ہے۔جس سے آئندہ سالوں میں بھی کروناوائرس کے حملے کی صورت میں ان کے محفوظ رہنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

خلاصہ:۔ کرونا کا کوئی علاج نہیں ہے صرف دعا اور احتیاط و پرہیز سے ہی اس سے بچا جا سکتا ہے۔اسّی فیصد لوگوں کی اس وقت کرونا سے ویکسینیشن ہو رہی ہے اور وہ صحتیاب ہو رہےہیں۔
خوشخبری:۔ اگرہم دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق صفائی ستھرائی، دعاوں و مناجات اور طبی ماہرین کے حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مقوی غذائیں بھی استعمال کرتے ہیں تو ان شااللہ اس بیماری کے مہلک اثرات سے محفوظ رہیں گے۔ جو لوگ اس وقت کرونا کو شکست دینے کیلئے اپنے طورپر مکمل قرنطینہ کئے ہوئے ہیں، اور دعا و پرہیز کے ساتھ اس مہلک بیماری سے نبرد ازما ہیں، ان کیلیے یہ خوشخبری ہے کہ قدرتی طور پران کے جسم کی ویکسینیشن جاری ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: nazar

Read More Articles by nazar: 114 Articles with 35401 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Mar, 2020 Views: 220

Comments

آپ کی رائے