سی اے اے کیخلاف آپ کی دلیل سچ سے خالی ہے ’مسٹر سالوے!

(Mohammad Ahmad, )

عبدالخالق
محترم اس ملک کا ایک نمایاں مبصر ہونے کی حیثیت سے آ پ جوکچھ بولتے اور لکھتے ہیں اس کا رائے عامہ پر گہرا اثر ہوتا ہے ۔ یہ منصب در اصل ایک بڑی ذمہ داری والا منصب ہے جس کا تقاضہ یہ ہے کہ چیزوں کو ان کی حقیقت کے مطابق ہو بہو پیش کیا جائے۔ جس میں گروہ بندی کے اثرات نہ ہوں۔ بد قسمتی سے آپ کا حالیہ مضمون ’’سی اے اے از نسسری ‘‘(مطبوعہ ٹائمز آف انڈیا 5 مارچ2020)جس میں اس بات کا جواز فراہم کیا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی بل 2019ایک ضروری اور بنیادی عمل ہے۔ اس پر جو دلیل دی گئی ہے وہ غلط اور گمراہ گن ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ کے اس بہت ہی نازک موڑ پر جبکہ بھارت کی وہ فکر جو ہمارے بانیان ہند نے پیش کی تھی وہ اس وقت بکھر کر رہ گئی ہے۔ایسی صورتحال میں سی اے اے جیسے اہم مسئلہ پر گمراہ کن معلومات سے مقابلہ کیا جانا چاہئے اور اس کو مسترد کیا جانا چاہئے۔ مضمون کے آغاز میں ہی آپ نے فرمایا ہے کہ وہ قانون جو بنگلہ دیش او ر پاکستان کے مسلم مہاجرین کو ملک بدر کرنے کی بات کرتا ہے وہ 1946کا فارنرز ایکٹ اور 1995کا شہریت قانون ہے ۔ آپ کی اس بات سے یہ غلط تاثرجاتا ہے کہ ان ایکٹ نے ان ممالک (خاص طور سے پاکستان اور بنگلہ دیش) کے مہاجرین کیساتھ مذہبی بنیادوں پر معاملہ کیا گیاہے،جبکہ اس قانون میں اس طرح کی وضاحت یا اشارہ بالکل ہی موجود نہیں ہے کہ ان غیر ملکی مہاجرین کیساتھ مذہبی بنیادوں پر امتیاز برتا گیاہے یا خاص ممالک کے مہاجرین کو نشانہ بنایاگیاہے۔اس بات کو تو بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں کی پاکستان 1946میں موجود نہیں تھا اور بنگلہ دیش تو کئی دہائیوں کے بعد وجود میں آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ قوانین صحیح معنوں میں تمام ممالک کے مہاجرین اور غیر ملکی باشندوں پر یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں۔ آپ نے صحیح اشارہ کیا ہے کہ جمہوری ممالک میں شہریت کی منظوری کے حوالے سے عالمی عمومی اصول نافذ ہوتے ہیں اور ہمارا شہر یت قانون 1955اسی عالمی رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔ سی اے اے 2019کیساتھ معاملہ یہ ہے کہ عالمی مساواتی اصولوں کے فروغ کے بجائے نہ صرف یہ کہ اس قانون نے مذہب کو اس مسئلہ میں شامل کردیا ہے بلکہ جارج آرویل کی اس بات کا سہارا لیا گیا ہے جو انہوں نے بڑ ی ہی فنکاری کیساتھ کہی تھیall are equal but some are more equal سارے لوگ برابر ہیں لیکن کچھ لوگ مساوات کے معاملے میں افضلیت رکھتے ہیں۔

سی اے اے کے خلاف عوامی اضطراب و احتجاج پر یہ بات کہتے ہوئے بھی یقینی طور پر آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ شاہین باغ کی دادیاں گذشتہ تین مہینوں سے کیوں اپنے آپ کو تکلیف و مشقت میں ڈالے ہوئے ہیں۔ سی اے اے نے مسلمانوں کو ان شہریتی حقوق سے محروم کردیا ہے جو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو حاصل ہیں ۔ سی اے اے کے حوالے سے یہ عمومی تنقید کہ یہ قانون مسلمانوں کے خلاف بھید بھاؤ کرنے والا ہے آپ کو اس بات پر حیرانی ہے کہ جو قانون لوگوں کی ایک چنندہ جماعت کو فائد ہ پہونچانے کیلئے بنایاگیاہے اور لوگوں کی اس جماعت کے انتخاب میں بنیادی منطقی اصول کار فرما ہیں اس پر یہ تنقید کی جارہی ہے کہ یہ بھید بھاؤ والا قانون ہے تو کیا صحیح معنوں میں آپ ا س بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مذہبی بنیادوں پر غیر ملکی مہاجرین کی ایک عام جماعت کے درمیان کچھ خاص لوگوں کو فائدہ پہونچانا منطقی طور پر قابل قبول ہے ۔ اگر ایسا ہے پھر تو یہ مذہبی تعصب کے مترادف ہے۔ آپ یہ دلیل دیتے ہیں کہ مساوات کا قانون ملک کے حکمرانوں سے یہ اختیار نہیں چھینتا کہ وہ لوگوں کے درمیان درجہ بندی کریں۔

اگر کوئی قانون ایک منتخب جماعت کے ساتھ مساوات کا برتاؤ ررکھتا ہے تو کیا اگر کچھ لوگوں کیساتھ مساوات کا رویہ نہ اختیار کیاجائے تو خود اس مساواتی قانون تحفظ کا انکار نہیں یہ دلیل کہ ملک کے حکمرانوں کو کچھ لوگوں کو فائدہ پہونچانے کا اختیار حاصل ہے یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آمرانہ حکومتوں کے عہد میں کیسے امتیازی برتاؤکو درست قرار دیا جاتا ہے۔ سی اے اے کیساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کھلے طور پر مسلمانوں کو ان غیر ملکی مہاجرین کی صف سے نکال دیتاہے جو اپنے وطن میں کسی بھی طرح کے تشدد کا شکار ہیں ۔ گویا یہ قانون مساوی حقوق رکھنے والوں کیساتھ غیر مساویانہ برتاؤ کرتا ہے اور یہ بات نہ صرف کہ دستور کے خلاف بلکہ حقوق انسانی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے منشوربھی کیخلاف ہے۔ کیا اب بھی اس بات پر ہمیں کوئی حیرانی ہونی چاہئے کہ انسانی حقوق کے یواین کمشنر نے سپریم کو رٹ میں اس بات کی عرضی دی ہے کہ وہ بھی سی اے اے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ سی اے اے سے مسلمانوں کونکالنے کے عمل کو صحیح ٹھہراتے ہوئے آپ یہ کہتے ہیں کہ مذہبی بنیادوں پر انسانوں کی درجہ بندی بالکل غیر دستوری نہیں ، پھر یہ دلیل دیتے ہوئے اپنے اس نقطے کی آپ وضاحت کرتے ہیں کہ اقلیت کی مذہبی برادریوں کو مختلف خصوصی حقوق حاصل ہیں ۔ آپ کا یہ تجزیہ نا مناسب او ر غلط ہے۔ کیونکہ یہ حقوق جو ان کو حاصل ہیں ان کا تعلق بنیادی حقوق مساوات سے ہے جن کودستور کے آرٹیکل 14تا16میں یقینی بنایاگیاہے ۔ اس کے بر خلاف سی اے اے ان قوانین کی دھجیاں اڑا تا ہے۔ ساتھ ہی آرٹیکل 29اور 30 مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو کچھ ایسے حقوق عطا کرتے ہیں جو ان کی زبان مذہب اور ثقافت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ سی اے اے اور مذہبی اقلیتوں کو دیئے گئے خصوصی حقوق کے درمیان کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ بین الاقوامی درجے کے ایک قانونی ماہر کی حیثیت سے حیران کن انداز میں شاید آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شہریت کے تعین کے سلسلے میں حکومت کو اس بات کی پوری آزادی ہونی چاہئے کہ وہ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بغیر اس بات کو متعین کرسکے کہ بہت سارے طریقہ کار میں کون سا طریقہ سب سے بہتر ہے ، اگر چہ اس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی اپنی فکر یہ ہو کہ اس سلسلے میں قومی نقطہ نظر سے دوسرے زیادہ بہتر طریقہ کار موجود ہیں ۔سی اے اے کو دوستوری طور پر جو چیلنج کیاگیا ہے اس کے تناظر میں آپ کی کہی گئی یہ بات اس بات کو باور کراتی ہے کہ دستوری اصولوں سے متعلق مشکل مسائل کے سلسلہ میں حکومت کو عدالتوں پر بالا دستی حاصل ہے۔ جناب محترم آپ نے جو نسخہ تجویز کیا ہے وہ جمہوریت کے مناسب نہیں ہے بلکہ یہ تو آمر حکومتوں کی روح کے موافق ہے۔

بغیر کوئی دلیل دیئے ہوئے آپ نے اس بات کو با لکلیہ خارج کردیا کہ سی اے اے مکمل طور سے امتیاز برتنے والا قانون ہے ، کیونکہ یہ قانون ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جو دنیا کے کسی ملک میں مذہبی تشدد کا شکار ہیں ۔ایسے ہی آپ نے این آرسی اور این پی آر اور مسلمانوں پر پڑنے والے ان کے برے اثرات کے حوالے سے جو عمومی اندیشے پائے جاتے ہیں ان کو بھی یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ یہاں صرف اسی عمل کو غیر دستوری قرار دیا جاتا ہے جو دوسروں کے مقابلہ میں مسلمانوں پر زیادہ گراں ہوں ۔ آپ سیکولر اور لبرل لوگوں او ر ان کے نظریات پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے اپنے مضمون کا اختتام کرتے ہیں اور ان کو سی اے اے مخالف احتجاجات پر ابھارنے کا مجرم قرار دیتے ہیں ، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جاری تنازعہ لیفٹ اور رائٹ کی سیاست کا نہیں ہے بلکہ شاہین باغ او ر دوسرے احتجاجی مقامات پر موجود عورتوں کی اس تشویش کا ہے اور ان کی اس قانون کے خلاف اس جدوجہد کا ہے جس کے دوران ان کا یہ خیال ہے کہ یہ قانون غیر منصفانہ اور متعصبانہ ہے۔اس ہنگامہ خیر ماحول میں کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں انساٹائن کا یہ دانشمندانہ مشورہ یاد رکھنا چاہئے ’remeber your humanity and forget the rest‘‘سب کو بھول کر صرف انسانیت کو یاد رکھئے ۔

(مضمون نگار سابق نوکر شاہ اور لوک جن شکتی پارٹی کے سکریٹری جنرل انچار ج ہیں ۔ یہ ان کی ذاتی رائے ہے )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mohammad Ahmad
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Apr, 2020 Views: 116

Comments

آپ کی رائے