زلفی کا تفتان؟ حقیقت کیا ہے پاکستان!

(Muhammad Asad, Chakwal)
1: کیا پاکستان میں کورونا وائرس تفتان سے پھیلا؟
2: کیا زلفی بخاری نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرکے زائرین کو پاکستان میں داخلے کی اجازت دی؟
3: کیا ہماری بطور قوم یہ غلطی ہے یا صرف ایرانی زائرین ہی قصوروار ہیں؟
4: محمد اسد حیدری کی گزارشات!

پاکستان میں کورونا وائرس کا آغاز بدقسمتی سے 26 فروری 2020 کو ہوا۔ حکومت پاکستان کے اندازے کے مطابق پاکستان میں یہ وبا 56٪ فیصد ایران ، 15٪ فیصد دوسرے ممالک سے آنے والے لوگوں اور 29٪ فیصد مقامی سطح پر پھیلی ہے۔ اب تک پاکستان میں 15 ہزار لوگوں کے کورونا وائرس جانچنے کے ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں 2000 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

ابتدا میں یہ سب کچھ میری قوم کو اتنا خطرناک محسوس نہ ہوا اور فطری طور پر ہم نے کسی احتیاط کو لازم نہ جانا اور اپنے مشاغل جاری رکھے یہاں میری مشاغل سے مراد ایلیٹ کلاس کے مشغلے ہیں جبکہ اگر میں مڈل کلاس کی بات کروں تو ان سے کوئی شکایت کرنا میں یہاں ناانصافی سمجھوں گا کیونکہ غرباء کا اولین مقصد اپنا اور اپنے بالوں کا پیٹ بھرنا ہی ہوتا ہے مشاغل تو دور کی بات معلوم ہوتی ہے۔
یکم مارچ 2020 کو پاکستانی حکومت نے 2 کورونا کے مریضوں کی تصدیق کی تھی جن میں سے دونوں مریضوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کا سفر کیا تھا۔

پہلا سوال جو کہ تفتان اور زلفی بخاری کو دیکھتے ہوئے ابھر رہا ہے کہ
کیا زلفی بخاری نے اختیارات کا غلط استعمال کرکے زائرین کو تفتان بارڈر سے پاکستان میں داخلے کی اجازت دی؟
زلفی بخاری ، پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست تصور ہوتے ہیں اور عمران خان نے ان کو خصوصی ذمہ داریاں دے رکھی ہیں جن میں سے ایک ذمہ داری بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی فلاح وبہبود اور ان کے مسائل کا حل ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے دو ایسے افراد جن کی عادات میں شامل ہے کہ جب بھی دیکھتے ہیں کہ حکومت کسی اور پارٹی کو ملنے جارہی ہے وہ عظیم شخصیات حالیہ پارٹی کو دھتکار کر دوسری پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کو عرف عام میں "لوٹا" کہا جاتا ہے, میری مراد پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ رکن جناب فواد چوہدری اور متحدہ قومی موومنٹ کے سابقہ جانثار جناب عامر لیاقت حسین سے ہے جنہوں نے کورونا وائرس کے پاکستان میں پھیلاؤ کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے زلفی بخاری کو اپنے تعصب کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، حتی کہ الزام عائد کردیا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی ایک ہی وجہ ہے وہ ایرانی زائرین ہیں۔

اب میں ان دانشوروں سے پوچھنے کی جسارت کرنا چاہوں گا کہ کیا زائرین امریکہ بھی گئے، کیا زائرین اٹلی سے بھی ہوکر آئے ہیں؟ جہاں ہم سے زیادہ یہ وائرس تباہ کاریاں دکھا رہا ہے؟

زلفی بخاری پر نواز لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے بھی الزام لگانے میں دیر نہ کی جس پر زلفی بخاری نے خواجہ آصف کو 1 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوادیا اور ساتھ معافی مانگنے کا بھی مطالبہ دہرادیا۔
جب قوموں پر مشکل دور آتے ہیں تب اتحاد ناگزیر ہو جاتا ہے اگر قومیں م متحد نہ ہوسکیں تو پھر ملکوں کی سلامتی داؤ پر لگ جاتی ہے اب یہ موجودہ سیاست دانوں پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں!

ایسے باہمت لوگوں کو جناب علامہ محمد اقبال نے کیا خوب داد دی ہے

تو بھی ہے شیوہ ارباب ریا میں کامل
دل میں لندن کی ہوس، لب پہ ترے ذکر حجاز
جھوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوا تھا
تیرا اندازِ تملق بھی سراپا اعجاز
در حکام بھی ہے ، تجھ کو مقام محمود

کیا ایرانی زائرین ہی صرف قصور وار ہیں یا ہماری اپنی بھی غلطیاں ہیں؟
13 مارچ 2020 کو Gulf News میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی حکومت اور اداروں کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے رائیونڈ اجتماع کو ملتوی نہیں کیا گیا جس میں 2 لاکھ 50 افراد شرکت کیلئے لاہور کے مقام رائیونڈ آئے ہوئے تھے جس کو بعد ازاں بارش کے باعث ختم کردیا گیا تھا۔
کہنا کا مقصد یہ ہے کہ ایک مذہبی طبقے کو قصوروار ٹھہرانا درست اقدام نہیں ، اس سے ملک میں فرقہ واریت پھیلنے کا اندیشہ موجود رہتا ہے اور پاکستان اب کسی بھی طرح کے مسائل کو سنبھالنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

محمد اسد حیدری کی گزارشات:-

اس مشکل دور میں بہت سے سیاست دانوں سے عوام امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں کہ ان کے نمائندے ان کیلئے ، قوم کیلئے یک جان ہوکر اس مصیبت سے ان کو نجات دلوائیں گے لیکن فواد چوہدری، عامر لیاقت حسین اور خواجہ آصف جیسے سیاست دانوں کے غیر زمہ دارانہ اور تعصب بھرے رویوں سے عوام سر پکڑ کر بیٹھ گئی ہے اب بھی وقت ہے اختلافات کو بھلا کر ہمیں یکجاں ہونے کی ضرورت ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ کورونا وائرس پاکستان میں انتظامی غفلت کی بدولت پھیلا ہے کیونکہ پاکستان کیلئے اس کو سنبھالنا مشکل کام ہے اور ہم اکیلے اس کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
اللہ سے دعا ہے کہ جلد از جلد ہم اس کو قابو کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ الٰہی آمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Asad

Read More Articles by Muhammad Asad: 3 Articles with 1921 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Mar, 2020 Views: 423

Comments

آپ کی رائے