کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے عالمی کوششیں

(Muhammad Musab, )

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
جی 20ملکوں کے سربراہی اجلاس میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے متحد ہو کر کوششیں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیزنے ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اجلاس کے دوران جی 20رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس کی ویکسین فراہمی کیلئے تحقیق کی خاطر فنڈ بڑھائیں اور عالمی سطح پر صحت کے بحران پر قابو پانے کے حوالہ سے ترقی پذیر ممالک کی مدد کریں۔ سعودی فرمانروا کا کہنا تھا کہ ہم متحد ہو کر کورونا وائرس پر قابو پالیں گے۔ صحت، معاشرتی اور معاشی اثرات سے نمٹنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں عالمی ادارہ صحت، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک گروپ، اقوام متحدہ، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن، مالی استحکام بورڈ، بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن، اقتصادی تعاون برائے ترقی تنظیم اور عالمی تنظیم برائے تجارت سمیت دیگر تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں نے کہاکہ وہ اعتماد کی بحالی ، مالی استحکام کے تحفظ اور ترقی کو بحال کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح پر فنڈز کی فراہمی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے بھی وہ بھرپور کوشش کریں گے۔ اس سلسلہ میں بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایکشن پلان ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور 180سے زائد ملک اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ اب تک ہزاروں افراد اس مہلک وبا کے سبب اپنی زندگیوں کی بازی ہار چکے ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف قسم کے وائرس پھیلتے رہے اور ان میں اموات کی شرح بھی زیادہ رہی لیکن کرونانے جس تیزی سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔مختلف ملکوں کی طرح برادر اسلامی ملک سعودی عرب میں بھی سینکڑوں افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جس پرمملکت کی جانب سے سخت ترین حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ سعودی عرب میں چونکہ دنیا بھر سے زائرین کی بہت بڑی تعدادعمرہ اور حج کیلئے آتی ہے ۔ اس دوران لاکھوں لوگ حرمین الشریفین اور دیگر مقامات پر موجود ہوتے ہیں اس لئے یہاں اس مہلک وبا کے پھیلنے کے بہت زیادہ خطرات تھے لیکن شروع سے ہی سعودی حکومت نے جس طرح سکریننگ کے بہترین انتظامات کئے اور حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے اس سے سعودی عرب دوسرے ملکوں کی نسبت بہت حد تک محفوظ رہا ہے اور یہ مہلک وبا اس طرح شدت اختیار نہیں کر سکی جس طرح ایران، اٹلی اور دوسرے ملکوں میں یہ وبا پھیلی ہے۔ سعودی حکومت کی جانب سے بیت اﷲ شریف اور مسجد نبوی ﷺمیں خاص طور پر جراثیم کش سپرے وغیرہ کا اہتمام کیاجارہا ہے ۔ اس دوران بیت اﷲ شریف میں کچھ دیر کیلئے نیچے صحن کو خالی کرواکے سپرے کیا گیا توبعض لوگوں نے سوشل میڈیا پر انتہائی گمراہ کن پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ دیکھیں اب تو طواف بھی روک دیا گیا ہے حالانکہ قطعی طور پر ایسی بات نہیں تھی۔ جب نیچے صحن میں سپرے کیا گیاتو اوپر کی منزلوں پر طواف کعبہ اسی طرح جاری تھااور پھر جب سپرے وغیرہ کا کام مکمل کر لیا گیا تو نیچے صحن میں بھی زائرین کو طواف کی اجازت دے دی گئی۔ بیت اﷲ شریف اور مسجد نبوی ﷺ میں جراثیم کش سپرے وغیرہ کے اس عمل کی نگرانی میں امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن السدیس سمیت اعلیٰ حکام پیش پیش رہے لیکن افسوناک امر یہ ہے کہ محض سعودی عرب کی مخالفت میں زائرین کی حفاظت کے اس عظیم عمل کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اور بے پر کی اڑائی جاتی رہیں۔ حقیقت ہے کہ ہمیں خود بھی سوشل میڈیا پر افواہوں سے متاثر ہونے کی بجائے حقائق کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے۔ سعودی عرب میں دنیا بھر سے لوگ عمرہ کیلئے تشریف لاتے ہیں یہاں اگر کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہوتا ہے تو اس کے پھیلنے کا کس قدر اندیشہ ہے؟ اور پھریہاں سے اگر کوئی شخص متاثر ہو کر واپس اپنے ملک جاتا ہے تو وہاں بھی دوسروں کے اس سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ آئندہ دنوں میں رمضان المبارک شروع ہورہا ہے جب زائرین کی تعداد بہت بڑھ جائے گی اور پھر آگے حج کے ایام بھی قریب ہیں، اس لئے کورونا وائرس سے پھیلاؤ کیلئے جب دنیا بھر میں حفاظتی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تو کیا جس ملک میں دنیا بھر سے لوگوں کی بہت زیادہ آمد و رفت ہوتی ہے وہاں اس کا اہتمام نہیں ہونا چاہیے؟اگر سعودی حکام نے بیت اﷲ شریف اور مسجد نبوی ﷺ میں زائرین کی حفاظت کیلئے سپرے وغیرہ کا اہتمام کیا ہے تو یہ اچھی بات ہے اور اس پر پروپیگنڈہ کی بجائے ان کے اس عمل کی تحسین کی جانی چاہیے۔
 
دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے سعودی عرب پیش پیش ہے اور اس سلسلہ میں خطیر سرمایہ خرچ کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ سعودی حکومت نے اپنے ملک میں جس طرح زبردست حفاظتی انتظاما ت کئے اورعوام الناس سے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کروایا جارہا ہے، یہ دوسرے ملکوں کیلئے ایک مثال ہے۔ ایران میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں محض اس لئے ہوئی ہیں کہ وہاں ابتداء میں اس طرح حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے جاسکے جس طرح کئے جانے چاہئیں تھے یہی وجہ ہے کہ وہاں اس وقت بھرپور کوششوں کے باوجود یہ وبا کنٹرول کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔بہرحال سعودی عرب نے عمرہ زائرین پر عارضی پابندی لگائی ہے جس کا اطلاق سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں اور مقامی شہریوں پر بھی کیا گیا ہے۔ ملک کے ہوائی اڈوں پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جن میں جراثیم کش ادویات کا مسلسل سپرے شامل ہے۔ وہ مقامات جہاں لوگوں کی آمدورفت زیادہ ہوتی ہے وہاں صفائی کا اہتمام بڑھا دیا گیا ہے۔حرمین الشریفین میں خاص طور پر جراثیم کش سپرے وغیرہ اور صفائی ستھرائی کا اہتمام کیا جارہا ہے اور ہزاروں افراد اس عظم عمل کیلئے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ سعودی عرب نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے صحت وقف فنڈ بھی قائم کیا ہے جس میں حصہ لیتے ہوئے لوگوں کی بڑی تعدادبینکوں میں رقوم جمع کروا رہی ہے۔ اب تک دو سو ملین کے قریب ریال جمع کروائے جاچکے ہیں۔ سعودی عرب میں تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکزکی بندش کے ساتھ ساتھ مکمل لاک ڈاؤن ہے اور عوام کی طرف سے اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے خود وبائی امراض سے بچنے کیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے۔ اس سلسلہ میں ا ﷲ کے رسول ﷺ کی حدیث کا واضح مفہوم ہے کہ اگر کسی شہر میں طاعون کی وبا پھیل جائے تو وہاں کے لوگ اس بستی سے باہر نہ جائیں اور جو اس بستی یا علاقہ سے باہر ہوں وہ اس میں داخل نہ ہوں۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔ احادیث رسول ﷺ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بخوبی سمجھ آتی ہے کہ اسباب کا اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کا یہ عقیدہ و ایمان ہونا چاہیے کہ اسباب میں تاثیر بھی اﷲ رب العزت نے ہی پیدا کی ہے اس لئے حفاظتی تدابیراختیار اور پرہیز کرنا شریعت اسلامی کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے صبح و شام کے ایسے اذکار اور دعائیں بتائی ہیں کہ جنہیں پڑھ لیا جائے تو صبح سے شام اور پھر شام سے صبح تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔اس لئے یہ بات طے ہے کہ اگر ہم ظاہری اسباب پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ شریعت اسلامی کی طرف سے کی گئی رہنمائی کے مطابق زندگی بسر کریں اور صبح و شام کے اذکار کا اہتمام کیا جائے تو یہ چیز ہمیں ہر قسم کے وبائی امراض اور نقصانات سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔بہرحال سعودی عرب کی جانب سے عالمی سطح پر کورونا کی وبا پر قابو پانے کیلئے جو کاوشیں کی جارہی ہیں وہ لائق تحسین ہیں ۔ جی 20اجلاس میں متفقہ طور پر حکمت عملی ترتیب دینے اور فنڈ قائم کرنے کی بات خوش آئند ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی عرب کی طرح دوسرے تمام ملک بھی کورونا کی مہلک وبا پر قابو پانے کیلئے بھرپوراقدامات اٹھائیں۔ مشترکہ حکمت عملی اختیار کر کے ہی اس مہلک وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Musab

Read More Articles by Muhammad Musab: 5 Articles with 2045 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Apr, 2020 Views: 142

Comments

آپ کی رائے