اپریل فول : این پی آر کا اشبھ مہورت

(Dr Salim Khan, India)

للن مشرا نےکلن سنگھ سے فون پر پوچھا بھائی آج یکم اپریل ہے۔
مجھے پتہ ہے ۔ کیا تم کوئی اپریل فول والی خبر سنانے جارہے ہو؟
نہیں یا ر شام ہوگئی لیکن ابھی تک ہمارے گھر این پی آر والے نہیں آئے کیا بات ہے؟
کلن سنگھ قہقہہ لگا کر بولا یا ر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کام کے لیے یہ اشبھ مہورت کیوں نکالا گیا ، ممکن ہے ان بیچاروں کو کورونا نے پکڑ لیا ہو ۔
للن نے کہا یا ر کورونا جیسی وباء کے دوران بھی تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے ۔ کمال ہے!
اور اس وباء کےبیچ جبکہ دنیا بھر میں 38ہزار لوگ مرچکے ہیں اور تم کو این پی آر کرنے والوں کا انتظار؟ کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے؟
للن کھسیانہ ہو کر بولا بات وہ نہیں ہے۔ ہمارے مردِ آہن امیت شاہ نے کہا تھا کہ زمین کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی اس لیے پوچھ رہا تھا ۔
کلن بولا جی ہاں صحیح کہا تھا ۔ این پی آر کو تو فی الحال آسمان والے نے روک دیا ہے۔ اس کے آگے بھلا کس کی کہاں چلتی ہے؟
ہاں بھائی ہم لوگ اس کو بھول کر خود کو سب کچھ سمجھنے لگے تھے ۔ کورونا کے آنے پر پتہ چلا کہ وہی سب کچھ ہے ہم کچھ نہیں ہیں ۔
جی ہاں مجھے توشاہ جی کبھی کبھار مودی جی سے بھی زیادہ طاقتور لگنے لگے تھے لیکن کورونا نے سب کی حیثیت بتا دی ۔
اچھا یار ایک بات بتاو جب سے کورونا آیا ہے تمہارے شاہ جی کہاں گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہیں ؟
کلن بھڑک کر بولا بھائی وزیر داخلہ کو برے ناموں یاد کرتے ہو تمہیں شرم نہیں آتی ۔
للن نے ہنس کر کہا میں نے تو سینگ کی مثال دی لیکن تم نے کچھ اور سمجھ لیا تو اس میں میری کیا خطا ؟
دیکھو بھائی للن مجھے گدھے یا سینگ پر اعتراض نہیں ہے ۔ تم نے انہیں صرف میرا وزیرداخلہ کیوں کہا؟ وہ تو میرے تمہارے اور پورے ملک کے ہیں ۔
کاغذ پر تو یہ سچ ہے لیکن حقیقت میں وہ ہیں کہاں ؟ ویسے عدت ّ قرنطینہ میں بھی ٹویٹ تو کر ہی سکتے ہیں ۔
ارے بھائی جیسے ہم اور تم اپنے اپنے گھر میں دبک کر بیٹھے ہوئے ہیں اسی طرح وہ بیچارے بھی اپنے گھر میں ہوں گے۔
مجھے پتہ ہے وزیرداخلہ کو انگریزی میں ہوم منسٹر یعنی گھر کا وزیر کہتے ہیں لیکن اس کامطلب یہ تھوڑی نا ہے کہ گھر میں چھپ کر بیٹھ جاو ۔
اچھا تو تمہارا کیا مطلب ہے میدان میں اتر کر کورونا سے جنگ شروع کردیں ؟ اگر یہ اتنا ہی ضروری ہے تو تم خود ایسا کیوں نہیں کرتے؟
الٹی بات! میں وزیرداخلہ تھوڑی نا ہوں؟ اور پھر ہم میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ وہ کس بات کی تنخواہ لیتے ہیں ؟ کیوں سرکاری کوٹھی میں رہتے ہیں؟
اچھا چلو للن تم ہی بتاو کہ انہیں کیا کرنا چاہیے ؟میں ان تک تمہارا پیغام پہنچا دوں گا ۔
ارے بھائی یہ بھی ہمیں بتانا پڑے گا ۔ وہ اگر سہی معنیٰ میں ہوم منسٹر ہے تو اپنے جلتے گھر کی خبر گیری کریں ۔ پریشان حال لوگوں کی مشکل آسان کریں ۔
لیکن یار یہ کورونا کا وائرس تو باہر سے آرہا ہے ۔ اب اس معاملے میں بیچارہ وزیر داخلہ کیا کرسکتاہے؟
ارے بھائی باہر سے آرہا تو گھر کے اندر چھپ کر بیٹھنے کے بجائے سرحد پر جاکر چوکیدار ی کرے۔ ورنہ پھر لوگ کہیں گے چوکیدار (کام)چور ہے۔
للن نے کہا میں تمہیں اندر کی بات بتاوں ۔ دراصل وزیرداخلہ آج کل صدمے میں ہیں ۔
اچھا وہ کیسے ؟ وزیراعظم تو خوب ٹی وی بازی میرا مطلب ٹی وی پر بھاشن بازی کررہے ہیں ۔ ان پر تو صدمہ کا شائبہ تک نہیں ۔
کلن بھیا ۔ وہ دراصل ہوا یہ کہ کرونا نے آنے کے لیے بہت غلط وقت کا انتخاب کیا۔ اس سے سب کچھ گڑ بڑاگیا ۔
ارے بھائی مصیبت کوئی شبھ مہورت نکال کر تھوڑی نا آتی ہے ۔ وہ تو بے موقع بن بلائے آدھمکتی ہے۔
ہاں ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر یہ وباء دوچار مہینے کے بعد آتی تو اچھا تھا ۔
وہ کیوں ؟ تمہاری یہ بات تو میری بھی سمجھ میں نہیں آئی ۔
دیکھو بھیا، وزیرداخلہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد چار بڑےکارنامے کیے اور جب اس سے فائدہ اٹھانے کا وقت آیا تو کورونا نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا ۔
بھائی ہولی تو صدیوں سے منائی جاتی ہے اس میں نہ تو وزیر داخلہ کا کچھ ہے اور نہ وزیرا عظم کا ۔ اس کے رنگ میں بھنگ پڑگیا تو افسوس کی کیا بات ہے؟
نہیں میں ہولی بات نہیں کررہا تھا ۔ یکم اپریل سے این پی آر ہونا تھا۔ وہ شروع ہوجاتا تو اسے خوب بھناتے ،عار دلاتے، نفرت پھیلاتے لیکن معاملہ ٹل گیا
ہاں یار یہ بات تو ہے۔ کورونا نے این پی آر کو ایک دم سے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا۔
جی ہاں اور ان کادوسرا کا رنامہ یہ تھاکہ سی اے اے کے ذریعہ وہ پاکستان ، بنگلادیش اور افغانستان کی سرحدیں غیر مسلمین کے لیے کھولنا چاہتے تھے ۔
جی ہاں اب تو غضب ہوگیا دیش بندی کے بعد خود ان کے اپنے صوبہ گجرات کی سرحد کو ملک کے اند ر بسنے والے ہندووں کے لیے تک بند کرنا پڑا ۔
یہ تو بہت بڑی گڑ بڑ ہوگئی۔ اس کے علاوہ لاکھوں لوگوں کو مکان مالکوں نے گھر نکال باہر کیا ۔ انہیں پیدل اپنے وطن جانا پڑا۔
ہاں یار کلن ۔ ان مناظر کو دیکھ کر کون سا غیر مسلم ہندوستان میں آکر شہریت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا؟
ویسے وزیر داخلہ کا تیسرا کارنامہ کشمیر سے دفع 370 ختم کرنے کا تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ اس سے کشمیر کے عوام خوش ہوجائیں گے ۔
ہاں بھائی یہ شرمناک بات ہے کہ ۷ دن میں حالات کو معمول پر لانے والے، سات ماہ بعد بھی کشمیر میں انٹر نیٹ کی ۴ جی سروس بحال نہیں کرسکے ۔
اور ہاں ہمیں تو احساس ہی نہیں تھا کہ لاک ڈاون میں ان پر کیا گزر رہی ہوگی ۔
جی ہاں کورونا نے ہمیں کشمیری بھائیوں کی مصیبت کا احساس تو دلا ہی دیا۔
ایوانِ پارلیمان میں غلام نبی آزاد نے یہی کہا کہ ملک میں تو ابھی لاک ڈاون ہورہا ہے مگرکشمیرکے لوگ ساڑھے ۷ مہینوں سے اس میں مبتلاءہیں ۔
ارےیہ تو اپنے ساتھ حکومت میں شریک سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو رہا کرنے کی ہمت بھی ابھی تک نہیں کرسکے ،اس بڑی ذلت اور کیا ہوسکتی ہے؟
ویسے وزیر داخلہ کا سب سے بڑاکارنامہ بلیک میل کرکے رام مندر کا فیصلہ کروا نا بھی تھا ۔
وہ تومجھے پتہ ہے اسی لیے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو ایوان بالہ کی رکنیت سے بھی نوازہ گیا ہے۔
لیکن تمہیں نہیں پتہ کہ اس بار ایودھیا میں بڑے زور و شور کے ساتھ رام نومی کا جشن منایا جانا تھا لیکن اس سے پہلے کورونا آگیا۔
ارے ہاں یار للن۔ اس رام نومی کا جشن پر تو کورونا کی اوس پڑ گئی ۔ بیچارے یوگی کو 20 لوگوں کے ساتھ جاکرڈرتے ڈرتے رسومات ادا کرنی پڑی۔
جی ہاں سارا کھیل خراب ہوگیا ۔ پہلے تو خبر نہیں بنی اور بعد میں ناقدین نے اسے وزیراعظم کے حکم کی کی خلاف ورزی قرار دے دیا ۔
ہاں تو بھائی للن آج تم سے بات کرکے وزیرداخلہ کا داخلی صدمہ میری سمجھ میں آگیا۔چلو اب فون بند کرو کل پھر بات کرتے ہیں جئے کورونا ۔
کلن نے جئے کورونا کا نعرۂ مستانہ بلند کرکے فون بند کردیا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1199 Articles with 434362 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Apr, 2020 Views: 198

Comments

آپ کی رائے