لاک ڈاؤن کی اقسام

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 نوٹ( یہ لسانیہ کسی ریسرچ یا ریفرنس بُک کی معلومات پر مبنی نہیں ہے ،یہ میرے ذہن کی اپنی اختراع ہے۔ اسے کسی اتھارٹی جیسا درجہ حاصل نہیں ہے۔)

آج کل ’لاک ڈاؤن ‘کا زمانہ ہے اور لاک ڈاؤن کے متعلق مختلف لوگوں کی باتیں ایک کنفیوژن پیدا کر رہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ لاک ڈاؤن لگانا ہے، کوئی کہتا ہے نہیں لگانا، کوئی کہتا ہے کہ لاک ڈاؤن تو پہلے ہی لگا ہواہے۔ہمارے ملک کی اکثریت ان پڑھ ہے اور اوپر سے کچھ زیادہ پڑھے لکھے ان کے ذہنوں میں مزید الجھاؤ پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ کسی کے مطابق لاک ڈاؤن کرفیو ہوتا ہے ، کوئی کہتا ہے کہ نہیں جزوی لاک ڈاؤن بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے الجھاؤ میں لاک ڈاؤن کی اقسام بنا لینا اور ان کی اچھی طرح سے سمجھ حاصل کر لینا زیادہ مناسب محسوس ہوتا ہے۔

پہلے یہ بات کی لاک ڈاؤن کا لفظی مطلب کیا ہوتا ہے۔ انگلش میں ’لاکlock ‘ کا مطلب تالا ہے اور اسی لفظ کا بطورِ فعل مطلب ہے ’تالا لگانا‘۔ اور جب اس کے ساتھ ایک اور لفظ ’ ڈاؤنdown‘ لگا کر فریزل ورب(phrasal verb) بنا لیا جاتا ہے تو اس مطلب صرف ’تالا لگانا‘ سے کچھ بڑھ جاتا ہے ۔ پھر اس کا مطلب بن جاتا ہے ’ تالا لگا کر چھوڑدینا‘ یا’ تالا لگا کر دیر تک بند کر رکھنا‘ وغیرہ اور اسی معنی میں اس سے بطور اصطلاح یہ مراد لی جاتی ہے کہ ہر چیز کو بند کر دینا یا تالا بندی کر دینا۔ اب بطورِ اصطلاح اس کا اطلاق ان چیزوں پر بھی ہوتا ہے جن پر تالا نہیں ہوتا یا جن کا تالے کے ساتھ دور دور کا کوئی تعلق نہیں ہوتا یعنی کوئی گلی ، محلہ، سڑک، شہر یا ملک بند کر دیا ۔ واضح ہے کہ ان جگہوں یا علاقوں کا تالے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، لیکن وہاں کوئی جا نہ سکے یا وہاں سے کوئی باہر نہ آ سکے اس پابندی کے لئے بھی ’لاک ڈاؤن‘ کی ٹرم یا اصطلاح کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ’lock down‘ کے معنوں میں استعمال ہونے والی دوسری اصطاح یعنی ’lock up‘ پر بھی بات ہو جائے تو مناسب ہو گا ۔ ’لاک اپ‘ کا مطلب ہے ’حولات میں بند کر دینا‘ یعنی ’کسی کو جیل میں قید کر دینا‘۔ اس طرح ان دونوں اصطلاحوں میں بنیادی فرق اور عمل کی یکسانیت بھی واضح ہو جاتی ہے۔ یعنی دونوں کا مطلب بند کرنا ہے ایک کا گھر یا علاقے میں اور دوسرے کا حوالات میں۔ یہ بھی ایک اتفاق کی بات ہے کہ ’لاک ڈاؤن‘ کے دِنوں میں ’لاک اپ‘ بھی اکثر ہوتا ہے۔

زبان ایک زندہ چیز کی طرح کئی قسم کی تبدیلیاں اپنے اندر لاتی رہتی ہے۔ یہ اپنے الفاظ کا استعمال بھی بدلتی رہتی ہے۔ کبھی ’کرفیو‘ کا لفظ زیادہ استعمال میں تھا جسے ان پڑھ سادہ لوگ ’کرفو‘ بولا کرتے تھے۔ جب کسی بات یا لفظ کا سب کو پتہ چل جائے یا وہ عام استعمال میں آ جائے اس کی جگہ نئے الفاظ زبان کی مارکیٹ میں آ جاتے ہیں اور ترقی یافتہ لوگ یا امیر لوگ یا پڑھے لکھے لوگ نئے الفاظ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔ یہی صورتِ حال کرفیو کی جگہ ’لاک ڈاؤن‘ کے استعمال کے سلسلے میں بھی ہوئی ہے۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ قرنطینہ کی طرح ’لاک ڈاؤن‘ کے معانی بھی عوام کی اکثریت یعنی ان پڑھ عوام اچھی طرح سے سمجھ نہیں پائے ہوں گے۔ اس پر مستزاد کہ پڑھے لکھے حکمرانوں کے درمیان بھی اس کی طرح طرح کی تشریح کی جا تی ہے۔

اب ہم ’لاک ڈاؤن‘ کی اقسام پر بات کرتے ہیں:
۱۔ ملٹری لاک ڈاؤن یا مکمل لاک ڈاؤن
۲۔ فرینڈلی لاک ڈاؤن یا جزوی لاک ڈاؤن
۳۔ نومینل لاک ڈاؤن یا برائے نام لاک ڈاؤن

اب ہم ان اقسام پر تھوڑی سی وضاحت کرتے ہیں:
۱۔ ملٹری لاک ڈاؤن یا مکمل لاک ڈاؤن
یہ سب سے شدید قسم کا لاک ڈاؤن ہے جو عام طور پر فوج کی مدد سے لگایا جاتا ہے۔ اس میں پولیس کا عمل دخل کم ہوتا ہے۔ اور جو بھی احکامات ہوتے ہیں ان پر من وعن عمل کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس پر عمل نہ کرنے والے لوگوں پر فائرنگ بھی کر دی جاتی ہے۔ اس میں کوئی رعایت یا نرمی نہیں دی جاتی سوائے اس رعایت یا نرمی کے جن کا حکومت اعلان کر چکی ہو یا اعلان کر دے۔ یہ کرفیو کی عام شکل ہوتی ہے اور اس کا استعمال عام طور پر دشمن کے علاقے پر کیا جاتا ہے جیسا کہ مقبوضہ کشمیر میں انڈیا نے کیا ہوا ہے، یا اس علاقے پر جہاں دہشت گرد چھپے ہوں یا جہاں حکومت کے انتہائی مطلوب لوگ روپوش ہو گئے ہوں۔ اس میں عوام یا لوگوں کی ضروریاتِ زندگی اور باقی سرگرمیوں کو قطعاً کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ اس کا اطلاق عوام پر بہت بھاری ثابت ہوتا ہے اس لئے اسے زیادہ لمبے عرصے کے لئے نہیں لگایا جاتا ۔ اور اس کے اطلاق سے عوام میں حکومت یا اتھارٹی کے خلاف نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات ایسے علاقے مزید تباہی کی طرف چلے جاتے ہیں اور وہاں لوٹ مار، قتلِ عام یا آتش زدگی جیسے واقعات پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات کرٖفیو لگانے والے ہی یہ ساری تباہی مچا دیتے ہیں۔ کوئی ملک اپنے عوام پر عام طور پر اس قسم کا سخت لاک ڈاؤن یعنی ملٹری لاک ڈاؤن نہیں لگاتا۔ جب کہ شدید حالات میں لگایابھی جا سکتا ہے۔ یہ لاک ڈاؤن اگر کسی کی زندگی میں ہو جائے تو اسے ساری زندگی نہیں بھولتا کیوں کہ یہ عام حالات میں کی طرح نہیں ہوتا اور اپنی تخصیص کے باعث انسان کو ساری زندگی بھول نہیں پاتا۔

۲۔ فرینڈلی لاک ڈاؤن یا جزوی لاک ڈاؤن
یہ لاک ڈاؤن کی ایک نرم شکل ہے لیکن ضروری نہیں کہ سب پر نرم ہی گزرے۔ کسی پر یہ بھی بھاری ثابت ہو سکتی ہے۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ کچھ جگہوں اور فنکشنوں پر تو پابندی لگا دی جاتی ہے اور کچھ جگہوں اور سرگرمیوں کو جاری رہے دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ’کرونا‘ وائرس کی وجہ سے حکومتِ پاکستان اور کئی اور ممالک نے کیا ہو ا ہے۔ جیسے سبزی منڈیاں، کریانے کی دکانیں، کھانے پینے کی دکانیں، فارمیسیاں، ہسپتال، وغیرہ تو کھلے ہیں لیکن سکول، کالج، یونیورسٹیاں، مذہبی مدارس، بازار، منڈیاں، ہوٹل وغیرہ سب بند ہیں۔ لوگوں کو شادیوں کے لئے شادی ہالوں میں آنے کی اجازت نہیں لیکن وہ گھروں میں نکاح کر سکتے ہیں اور محدود اجتماع کرنے پر زیادہ کاروائی نہیں ہوتی۔ باجماعت نماز پر پابندی ہے لیکن زیادہ مساجد اور نمازیوں کے خلاف کاروائی بھی نہیں ہورہی۔ لوگوں کے اجتماعات پر پابندی ہے لیکن کچھ جگہوں پر لوگ اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں۔ جہاں راشن کی تقسیم ہو رہی ہو وہاں دفعہ 144 کا اطلاق بھی نہیں ہوتا ۔ کچھ لوگوں کے خلاف کاروائی ہو بھی جاتی ہے تا کہ لوگوں پر کچھ کچھ خوف بھی رہے اور ایک بڑی تعداد اس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر نہ اتر آئے۔ بعض اوقات حکومت کے اپنے لوگ بھی اس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے ہیں۔ لوگ شش و پنج میں ہوتے ہیں کہ کیا کریں کیا نہ کریں۔ کچھ لوگ مساجد جاتے ہیں کچھ نہیں جاتے۔ کچھ لوگ راشن ذخیرہ کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ بعض اوقات فرینڈلی لاک ڈاؤن سے ہی مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات اسے مزید سخت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور عوام پر کچھ اور پابندیاں نافذ کر دی جاتی ہیں۔ بعض اوقات اس لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کی سزا میں اضافہ بھی کر دیا جاتا ہے۔ اور بعض اوقات پہلے سے سزا یافتہ لوگوں پر کچھ نرمی بھی کر دی جاتی ہے۔ موجودہ حالات یعنی کرونا کے خطرے کے حالات میں کچھ جیلوں سے پہلے سے سزا یافتہ قیدیوں کو کچھ مہینوں کی رعایت بھی دی جا رہی ہے اور قرنطینہ سے بھاگنے والوں پر سزا عائد بھی کی جا رہی ہے۔ یہ لاک ڈاؤن سب سے زیادہ لمبی مدت کے لئے چل سکتا ہے کیوں کہ اس میں بنیادی سہولتوں یعنی راشن پانی اور ادویات کی بندش نہیں لگائی جاتی جبکہ ثانوی سہولتوں مثلاً تعلیم، تفریح وغیرہ پر پابندی لگی رہتی ہے جن کے بغیر لوگوں کا گزارہ چل جاتا ہے۔

۳۔ نومینل لاک ڈاؤن یا برائے نام لاک ڈاؤن
یہ لاک ڈاؤن برائے نام ہوتا ہے۔ اور اس میں حکومت اپنی مرضی سے کچھ لوگوں کو ٹارگٹ بھی کر سکتی ہے۔ اس میں عوام کو پتہ تو ہوتا ہے کہ ملک میں یا ان کے علاقے میں لاک ڈاؤن ہے لیکن اس کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ وہ دیکھتے ہیں کہ لوگ اس لاک ڈاؤن کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں اور حکومت انہیں کچھ نہیں کہہ رہی۔ لوگ سرِ عام پھر رہے ہیں، ٹریفک جاری وساری ہے، دکانیں ، شادی ہال ، ہوٹل وغیرہ حسبِ معمول چل رہے ہیں۔ حکومت اپنے ادارے بند کر سکتی ہے جیسا کہ سرکاری سکول کالج وغیرہ لیکن عوام کو اپنے ادارے بند کرنے پر سختی سے مجبور نہیں کرتی۔ کوئی کاروائی نہیں ہوتی اور عوام سمجھتے ہیں کہ ملک میں کوئی لاک ڈاؤن ہے ہی نہیں۔ ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب کوئی خطرہ محسوس تو ہو رہا ہو لیکن ابھی بہت دور ہو کہ اس کے اثرات محسوس نہ ہو رہے ہوں۔ ابھی وہ خطرہ سر پے نہ آیا ہو اور اس بات کا بھی امکان ہو کہ وہ خطرہ شاید ٹَل ہی جائے اور حکومت کو اس کے لئے کچھ نہیں کرنا پڑے جیسے کوئی طوفان دور سے آ رہا ہو اور اس بات کا امکان بھی ہو کہ وہ رُخ بدل لے گا۔ جیسے کوئی وبا ہمسائے ملک میں ہو اور امکان ہو کہ اس ملک میں نہیں آئے گی۔ وغیرہ۔


اب ہم بات کریں گے کہ کس طرح ایک قسم کا لاک ڈاؤن دوسری قسم کے لاک ڈاؤن میں بدل بھی سکتا ہے۔

ایسا اس وقت ہو گا جب حالات میں واضح تبدیلی واقع ہو جائے ۔ یعنی ایک صورتِ حالات دوسری قسم کی صورتِ حالات میں ڈھل جائے۔ جیسے کوئی طوفان یا وبا جس کا امکان تھا کہ نہیں آئے گی لیکن آ جائے،یا جیسے کسی جنگ کا امکان تھا کہ نہیں لگے گی لیکن لگ جائے وغیرہ۔ حکومتی اقدامات حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ بعض اوقات حکومت کی سوچ درست ثابت ہوتی ہے اور بعض اوقات غلط۔ بعض اوقات حکومت یا لوگ کسی بات کا درست ادراک نہیں کر پاتے اور وہ صورتِ حال وارد ہو جاتی ہے جو متوقع نہیں ہوتی اور اس طرح لاک ڈاؤن کی کیفیت بھی تبدیل کرنی پڑتی ہے۔ جیسا کہ کرونا کہ موجودہ صورتِ حال میں جب اس وائرس سے متاثرہ کیسز بڑھتے جا رہے ہیں تو لاک ڈاؤن کی پابندیاں بھی سخت سے سخت ہو تی جا رہی ہیں۔ لوگوں کے گھر سے باہر جانے کے اوقات مزید محدود کئے جا رہے ہیں۔ اور اس طرح سے ایک فرینڈلی لاک ڈاؤن ، آہستہ آہستہ ملٹری لاک ڈاؤن کی طرف جا رہا ہے اور اگر اس میں مزید سختی کرنا درکار ہو گی تو فوج اور رینجرز کی مزید نفری بھی درکار ہو سکتی ہے۔

اسی طرح جب’ ووہان‘، چین کے شہر ، میں کرونا پر قابو پا لیا گیا تو ملٹری لاک ڈاؤن کو نرم کر دیا گیا ۔ اور اس لاک ڈاؤن کی مقررہ تاریخ کے آنے سے پہلے ہی یہ ملٹری لاک ڈاؤن، آہستہ آہستہ فرینڈلی لاک داؤن کا شکل اختیار کر گیا۔ اسی طرح ہمارے ملک میں ابھی فرینڈلی لاک ڈاؤن کی کیفیت چل رہی ہے جس میں ، چوں کہ کرونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں، مزید سختی کے اشارے مل رہے ہیں اور یہ ملٹری لاک ڈاؤن کی طرف جا رہا ہے۔ اسی طرح جب لاک ڈاؤن کے اعلانات ہوئے تھے تو لوگ اس کی پرواہ نہیں کررہے تھے اور یوں لگ رہا تھا کہ لاک ڈاؤن برائے نام یعنی’ نومینل لاک ڈاؤن‘ ہے۔ اور جب ان شائاﷲ کرونا کی وبا ختم ہونے لگے گی تو ملٹری یا فرینڈلی لاک ڈاؤن دونوں قسم کے لاک ڈاؤن نومینل لاک ڈاؤن کی طرف چلے جائیں گے۔ اور پھر یہ نومینل لاک ڈاؤن بھی اعلانیہ طور پر ختم کر دیا جائے گا ۔ دفعہ 144 ختم کر دی جائے گی اور اس طرح ہر قسم کا لاک ڈاؤن بھی ختم کر دیا جائے گا ۔ ان شائاﷲ

(یہ لاک ڈاؤن کی خود ساختہ قسمیں ہیں جو کسی مستند یا معتبر جگہ سے نہیں لی گئیں صرف ایک ذہن کی ذاتی اختراع ہیں۔ امید ہے قارئین کرام کو پسند آئیں گی۔)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 177511 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
03 Apr, 2020 Views: 323

Comments

آپ کی رائے