ہنوز دلی دور است

(Muhammad Saleem Baloch, Karachi)

من حیث القوم ہم کچھ سست واقعہ ہوئے ہیں اور آپ کو میری اس رائے سے اتفاق نہ کرنے کا پورا حق ہے۔ ہم اپنے طالب علموں کی مثال لیتے ہیں جو زیادہ تر امتحانات کے آخری ایام میں دل و جان سے اور پورا زور لگا کے پڑھائی کر رہے ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچے بڑوں کا عکس ہوتے ہیں۔ جب تک کوئی بھی مسئلہ، کوئی بھی مصیبت سر پر نہ آ ن کھڑی ہو ہم پوری طرح حرکت میں نہیں آتے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ" کل کرے تو آج اور آج کرے تو ابھی". انگریزی کے ایک معاورے کا مفہوم ہے " برائی کو شروع میں ہی ختم کر دو۔" لیکن شاید ہمیں مصیبتوں، بیماریوں اور مسائل کو پالنے کا شوق ہے۔ شیکسپیئر کے کردار ایملٹ طرح اسی مخمصے میں الجھے رہتے ہیں کہ "To do or not to do". جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ یہ ہمارا قومی مزاج اور خاصہ ہے کہ نہ صرف ہمارے بچے بلکہ اعلیٰ سطح پر بیٹھے ہو اربابِ اختیار جو اہم فیصلے کرتے ہیں وہ بھی اس میں مبتلا ہیں کہ جب تک مصیبت دروازے پر دستک نہ دے ہم لوگ بالکل گوارا نہیں کرتے کہ کچھ سدے باب کریں۔ عمومی قومی مزاج قوموں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور بروقت فیصلہ سازی بھی اس میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اب چائے وہ انفرادی معاملات ہوں یا اجتماعی۔ ہر سطح پر بروقت اور مثبت فیصلہ سازی اکثر بڑی آفات اور مصیبتوں سے بچاتی ہے۔ چائے آپ دنیا کی تاریخ کو کھنگالیں یا ہمارے جنوبی ایشیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ آپ کو واضح نظر آئے گا کہ جہاں بروقت فیصلے نہیں ہوئے وہاں قوموں نے اس کی بھاری قیمتیں چکائی۔ اس میں قریب ترین مغلیہ سلطنت کا زوال اور اس میں بھی ابولفتح نصیرالدین روشن اختر محمد شاہ المعروف محمد شاہ رنگیلا کا قصہ اس تاخیر ی ذہن کی واضح عکاسی کرتی ہے جب 1739 کے اوائل میں نادر شاہ در خیبر عبور کر کے ہندوستان میں داخل ہوا تو محمد شاہ کو یہی بتا گیا کہ نادر شاہ کی فوجیں آگے بڑھ رہی ہیں اور وہ آرام سے یہی کہتا رہا:" ہنوز دلی دور است" یعنی، دلی ابھی بہت دور ہے اور نتیجے میں اس جنگ کا فیصلہ صرف تین گھنٹے میں ہو گیا جس میں محمد شاہ رنگیلا تاریخ کی قید میں نشان عبرت بن گیا۔ جو قومیں بروقت اور درست فیصلے نہیں کرتے وہ تاریخ کے اوراق میں آنے والے قوموں کے لیے عبرت بن جاتے ہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 222 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Saleem Baloch

Read More Articles by Muhammad Saleem Baloch: 18 Articles with 2656 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: