کوشش

(Sami Ullah Malik, )

جب نمرود نے آگ کاالاؤدہکایااورحضرت ابراہیم علیہ السلام کواس الاؤمیں جھونک دیاتوچشمِ فلک نے ایک عجیب نظارہ دیکھاکہ ایک ننھاساابابیل اپنی چھوٹی سی چونچ میں پانی کے دوتین قطرے دبائے آگ کی طرف بھاگ رہاہے۔کسی نے پوچھا “بھئی اتنی بے تابی میں کہاں اڑے جارہے ہو؟””بولانمرودکی دہکائی ہوئی آگ کوبجھانے جارہاہوں”سننے والے نے قہقہہ لگایااور کہا”ناسمجھ،تمہاری چونچ میں دبے ان چند قطروں سے نمرودکی آگ کاکیابگڑے گا؟”ننھے ابابیل نے جواب دیا”میں جانتاہوں میری کمزورسعی کاکوئی نتیجہ نہیں نکلے گالیکن مجھے اتنامعلوم ہے کہ جب حشرکے دن نمرودکی آگ بجھانے والوں کی فہرست بنائی جائے گی تواس میں میرا نام بھی ضرورشامل ہوگااورایک ابابیل کیلئے اتناہی کافی ہے”۔

دنیامیں مسائل اورمعاملات سے نمٹنے کے دوطریقے ہیں،ایک زاویہ نظرابابیل سے سوال کرنے والوں کاہے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگرمسئلہ آپ کی استطاعت سے بڑاہے،آپ میں مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت موجودنہیں توپھرآپ کوسرے سے کوشش ہی نہیں کرنی چاہئے،بس خودکوحالات پرچھوڑدیں اوراللہ کی مددکاانتظارکریں جبکہ دوسرامکتبہ فکرابابیل کی طرح سوچتاہے کہ آپ میں مسئلہ سلجھانے کی قدرت ہویانہ ہوبس آپ ابابیل کی طرح چونچ میں دوقطرے پانی بھریں اورآتشِ نمرود کی طرف دوڑپڑیں،اللہ کرم کرے گا،اگراس کوشش میں مسئلہ سلجھ گیاتوآپ سرخروہو گئے ، نہ سلجھاتوکم ازکم آپ کانام نمرود کی آگ بجھانے والوں میں توضرورآجائے گااورآپ کی بخشش کیلئے کافی ہوگا۔یہ دوسرامکتبہ فکرانبیاءواولیاء کرام اور ان کے ماننے اورچاہنے والوں پرمشتمل ہے۔

دنیاکے تمام مذاہب انسان کونیکی کی تلقین کرتے ہیں،اسے اندھیرے میں ایک دیاجلانے،لق ودق صحرامیں ایک گھونٹ پانی سے ایک بیج بونے اور سیلاب کے راستے میں ایک پتھررکھنے کاحکم دیتے ہیں۔خودنبی اکرم ﷺ کافرمان ہے کہ اگردنیا میں صورپھونکاجارہاہواورمیرے ہاتھ میں کسی درخت کی قلم ہوتومیں فوراًوہ قلم زمیں میں گاڑھ دوں گا۔اسے کہتے ہیں “کوشش” اورمثبت پیش رفت۔یہ حقیقت ہے کہ اس دنیامیں جوکچھ ہو رہاہے وہ امرربی ہے،یہ صرف اللہ کاحکم ہے جس کے باعث بھوک غربت بیماری جہالت اورموت ہے،اللہ ہی کےحکم سے بادلوں کارخ پھرتا ہے اورسرسبزشاداب وادیوں میں ریت اڑتی ہے اوراس کے حکم سے چشمے سوکھتے،نہریں خشک ہوتیں اوردریاراستے بدلتے ہیں،اس کی اجازت سے ہڈیوں سے بیماریاں پھوٹتی ہیں اوراس کی رضامندی سے زوال پذیرقومیں عروج پاتی ہیں اورعروج پرکھڑی اقوام زوال کی ڈھلوانوں میں لڑھکتی ہیں لیکن اللہ کے حکم،رب کی رضامندی کے باوجودانسان پرکوشش فرض ہے۔دنیاکوبہتربنانے،اپنے حالات،اپنی غربت، افلاس بیماری بھوک کے خلاف لڑناانسانی فرض ہے اورذمہ داری بھی۔

آپ میڈیکل سائنس کولیجئے،دنیاکاہرطبیب جانتاہے کہ اگرکسی انسان کوکینسریاایڈزہوجائے تواس کاانجام موت ہے لیکن اس کے باوجود تمام ڈاکٹر آخری وقت تک مریض کاعلاج کرتے ہیں،ہارٹ اٹیک کی صورت میں جب مریض کادل خاموش ہوجاتا ہے،نبض تھم جاتی ہے اورسانس رک جاتی ہے تواس وقت بھی مریض کوزندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،اس کے دل میں انجکشن لگایاجاتاہے،اس کوبرقی جھٹکے دیئے جاتے ہیں، کیوں ؟ کیونکہ میڈیکل سائنس دل کے خاموش ہونے کے بعدبھی مریض کی زندگی سے مایوس نہیں ہوتی،مرنے کے بعدبھی زندگی کی ایک موہوم سی امید قائم رہتی ہے اوریہ امیداسے آخری کوشش پرابھارتی ہے۔یہ توہے انسان کی کوشش،انسان کی امیدلیکن کیاکیجئے ہمارے تمام حکمران کھربوں کے مالک ہیں لیکن غربت توختم نہیں کرسکے تاہم غریب ختم ہوتے جارہے ہیں۔

یقیناًغربت،افلاس،بھوک بیماری صرف اللہ ہی دورکرسکتاہے،کسی انسان میں اتنی استطاعت نہیں لیکن اس کے باوجود کوشش انسان پرفرض ہے اورجب انسان بے لوث ہوکرکوشش کرتاہے توکسی خوشگوارلمحے میں اللہ کوانسان پرپیارآ جاتاہے ،وہ دیکھتا ہے کہ یہ ایک کمزوربے بس ابابیل ہے، یہ ابابیل اپنی کمزوری اوربے بسی سے بھی واقف ہے لیکن اس کے باوجود اپنی چونچ میں پانی کے دوقطرے بھرکرآتشِ نمرودچل پڑاہے،اللہ کواپنے اس ابابیل کی اطاعت،فرمانبرداری پرپیارآجاتاہے اوروہ آتشِ نمرودکو ِگلزارہونے کاحکم دے دیتاہے اورپھروہ ابابیل تاریخ کاحصہ بن جاتی ہے۔ خلوص،عاجزی اوراس انکساری میں لپٹی ہوئی کوشش اوردعااتنی قیمتی ہوتی ہے کہ اللہ سوت کی اٹی میں یوسف تک عنائت کردیتاہے،پھریہ غربت کیاچیز ہے ۔قوموں کوکوشش درکارہوتی ہے،اعترافِ شکست نہیں،ناکامی کااعتراف نہیں۔اس وقت ہمارے حکمرانوں کے ہاں خلوص نام کی کوئی شئے موجود نہیں۔اپنی حکومت کوبچانے کیلئے اگرتمام ادارے بھی داؤپرلگانے پڑیں توبعیدنہیں کہ وہ ایساکر گزریں گے۔

وزیراعظم قوم سے خطاب میں کروناسے مقابلے کی بڑھک لگارہےہیں اورٹائیگرفورس بنانے کا اعلان کردیاگیاہے جبکہ عالمی طاقتیں اس کے سامنے اوندھے منہ کے بل گرپڑی ہیں۔غیرمنتخب مشیرزلفی اگرتفتان سرحدپرزائرین کے ساتھ معاملہ میں احتیاط کرتے تویقیناًدرپیش بحران کی شدت کہیں کم ہوتی۔نجانے الفاظ کےچنائومیں اس قدرتکبرکیوں ہے جبکہ بروقت تدابیر نہ کرنے کی نالائقی کی ذمہ داری قبول کرنے کاوقت تھا۔اپنے ہاتھوں سے فصل کابیج بویاہے اورساری قوم کواس کے کانٹوں کے حوالے کردیاگیا ہے۔آخراس جرم عظیم کی سزاکااعلان کب ہوگا؟کیاہی بہترہوتا کہ اس مشکل گھڑی میں غریب عوام کی مددکیلئے فنڈکااعلان کرتے ہوئے پہلے اپنی جیب سے فنڈدینے کااعلان کرتے۔

حکمران خودکوملک کی سلامتی کیلئے لازم وملزوم قراردیکراپنی ذات کو”باز”سے تشبیہ دیتے ہیں اورترنگ میں آکر اپنی نگاہوں کوخوردبیں قراردیتے ہوئے خطرات کوپیشگی پکڑنے اورخطرے کوختم کرنےکادعویٰ کرتے ہیں،تویادرکھیں قوم علامہ اقبال ؒکے اس بازسے توبہت محبت کرتی ہے جو درویش صفات کامالک ہوتے ہوئے کبھی اپناگھرنہیں بناتا،جوپہاڑوں کی چوٹیوں پراپنانشیمن بناتاہے لیکن یہ کیسابازہے جس کے رہنے کیلئے بنی گالہ جیسا پرتعیش محل ہے۔کیایہ وہ بازتونہیں جو صرف اپنے آقاکے حکم پرمعصوم پرندوں کا شکارکرتاہے؟بازہمیشہ آزاد فضاؤں میں بلندیوں میں پرواز کرتاہے لیکن کچھ باز ایسے بھی ہوتے ہیں جن کوشکاریوں نے اپنی مرضی سے سدھاکران کی آنکھوں پرپٹی باندھ رکھی ہوتی ہے اورانہیں اپنے آقا کی مرضی کے مطابق ہی شکارپرجھپٹناہوتاہے اورشکارکواپنے آقاکے قدموں میں لاکرسرخرو ہوتاہے۔

قوم کوایک بارپھرکھلی آنکھوں سے ملک کے معاملات پرگہری نظررکھنی ہوگی،اپنی کاوشوں اورکوششوں کومہمیزکرناہو گااورپھراس کے بعدان معاملات کی ڈوری اللہ پرچھوڑناہوگی۔ویسے تویہ کام حکمرانوں کاہے کہ وہ خلوص سے لبریز کوششیں کریں اورباقی کام اللہ پرچھوڑدیں لیکن افسوس ہمارے حکمرانوں میں چولستان کے اس غریب کسان جتنا”توکل“نہیں جو ریت میں بیج پھینکتاہے اورپھرجھولی پھیلاکراللہ سے بارش کی دعاکرتاہے اوراللہ کاکرم دیکھئے،وہ اگر بارش نہیں برساتا تو کسی نہ کسی طریقے،کسی نہ کسی ذریعے سے اسے ایک سال کارزق ضرورپہنچادیتاہے اوریہ بھی دیکھئے جس سال وہ کسان اللہ کی رحمت سے مایوس ہوکربیج نہیں بوتا،اسے اس سال رزق بھی نہیں ملتا،اس کے حصے کا اناج بھی اس تک نہیں پہنچتااوریہ وہی سال ہوتاہے جب چولستان کے لوگ نقل مکانی کرتے ہیں۔

برطانیہ کے شمالی ساحل سمندرکے ایک خاص علاقے میں ہرسال ہزاروں من خوراک سائبیریاکے ان مہمان پرندوں کیلئے پھیلادی جاتی ہے جو شدید سردیوں کی تعطیلات یہاں منانے کیلئے آتے ہیں اورتین مہینوں کے بعداپنے گھروں کولوٹ جاتے ہیں۔آنکھیں کھولنے کیلئے صرف یہی ایک واقعہ کافی ہے۔
رہے نام میرے رب کاجورزاق بھی ہے!
اچھی گزررہی ہے دلِ خودکفیل سے
لنگرسے روٹی لیتے ہیں پانی سبیل سے
دنیامرے پڑوس میں رہتی توہے
مگرمیری دعاسلام نہیں اس ذلیل سے

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 161 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 357 Articles with 88151 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: