کورونا وائرس اور امن عالم

(Dr Salim Khan, India)

اس کائنات ہستی میں ہر شئے کو فنا سے دوچار ہونا پڑتاہے۔ کورونا بھی اس معاملے میں استثناء حاصل نہیں ہے۔ اپنی تباہی و بربادی کی انتہا کو چھو لینے کے بعد یہ وباء بھیاللہ کے اذن سے رخصت ہوجائے گی ۔ انسانی تاریخ اس طرح کو وباء نہ تو پہلی بار آئی ہے اور نہ یہ آخری ہے۔ چودھویں صدی میں پھیلنے والی طاعون کی وبا ء کو کون بھول سکتا ہے جس میں دنیا بھرکے 20 کروڑ لوگ لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ اسی طرح تقریباً ایک صدی قبل 1918ءمیں ا سپینی انفلوئنزا سے یورپ میں دس کروڑ اور امریکا میں 20 لاکھ لوگ متاثر ہوئے تھے۔اس سے ہلاک ہونے والوں کا تخمینہ تقریباً دس کروڈ ہے ۔ ہر صدی میں کم ازکم ایک بار عالمِ انسانیت کو اس طرح کی آزمائش سے گذارا گیا ہے تاکہ وہ روزمرہ کے مسائل سے اوپر اٹھ کر اپنے مقصدِ حیات پر غوروخوض کرے۔ اپنے خالق و مالک کے بیش بہا احسانات پر اس کا شکر ادا کرے۔ یہی جذبۂ شکر دراصل کفر کے انکار (یعنی لاالہ) اور ایمان و یقین یعنی ( الی اللہ) کی پہلی منزل ہے۔

عام طور پر جنگ و جدال کو انسانی جان کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے نام نہاد مہذب یوروپ نے پہلی جنگ عظیم میں جملہ ایک کروڈ 70لاکھ لوگوں کو ہلاک کیا لیکن اس کے باوجود عقیدۂ توحید کے خلاف بھڑکائی جانے والی قوم پرستی کی آگ سرد نہیں ہوئی ۔ عالمی امن کے ان پاکھنڈی علمبرداروں نے قلیل عرصے کے اند ر پھر دوسری جنگ عظیم برپا کردی جو 6کروڈ افرادکو نگل گئی ۔ اسی زمانے میں عالم انسانیت فلو کی وبا ء سے بھی برسرِ جنگ تھی جس نے اپنے ابتدائی 25 ہفتوں میں ڈھائی کروڈ جانیں تلف کردیں اورگمان غالب ہے کہ کل دس کروڈ لوگ اس کا شکار ہوئے۔ اس وقت کے متحدہ ہندوستان میں ایک کروڈ70لاکھ اموات ہوئی تھیں جو کہ آبادی کا پانچ فی صد تھا۔ ایران میں مرنے والوں کی تعداد24لاکھ 31ہزارتھی۔ ویسے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس مہلک مرض کو پھیلانے میں جنگ عظیم اوّل کا بہت اہم کردار تھا کیونکہ اس دوران ساری دنیا کے فوجی ایک ملک سے دوسرے میں اپنے ساتھ نادانستہ اس وباء کے جراثیم لے کر چلے جاتے تھے۔ اکتوبر 1918 میں اس مہلک ترین فلو کی دوسری لہر اٹھی۔اس نے امریکا اور دنیا کے بیشتر ممالک کے متاثرہ مریضوں کو ہلاک کیا ۔ اس فلو کی ہلاکتوں نے لائف انشورنس کمپنیوں کا دیوالیہ نکال دیا ۔

اور دنیا اب نوول کرونا کی وباء کا شکار ہے۔ دسمبر 2019ء سے تادمِ تحریر (۲۹ مارچ ۲۰۲۰) یہ6لاکھ 63 ہزار لوگوں کو متاثر کرچکا ہے اور ان میں سے31ہزار ہلاک ہوچکے ہیں ۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ جہاں انفلوئنزا کی وباء کے باوجود مغربی دنیا برسرِ جنگ رہی اور اسے اپنی حماقت سے دنیا بھر میں پھیلاتی رہی اس کے برعکس مسلمانوں نے عقل کے ناخن لے کر یمن اور سعودی عرب کے درمیان چلنے والی جنگ کو ختم کردیا ۔ امید ہے کہ اب اس طرح کی لڑائی پھر کبھی نہیں ہوگی۔ آپسی تنازعات کو گولی کے بجائے بولی سے حل کیا جائے گا۔ کورونا وائرس کی آفت کے پیش نظر اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کی جانے والی جنگ بندی کی تجویز کے جواب میں سعودی قیادت والے عسکری اتحاد کی طرف سے یمن میں جنگ بندی کااعلان کیا اور حوثیوں کے رہنما محمد علی الحوثی نے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے عملی نفاذ پرزوردیا ۔کورونا وائرس نے اس طرح باہم متحارب ہم سایہ ممالک کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیا ۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش نے کووڈ۔انیس کی وبا سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا میں تمام جنگ زدہ علاقوں میں فوری طور جنگ بندی کی اپیل کی تو یمن کی حوثی حکومت نے اس کو تسلیم کر لیا ۔ سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بھی جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں انسانی بنیادوں اور معاشی سطح پر اعتمادی سازی کے اقدامات کے لیے جو کوششیں کی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ۔ یمن میں ایران نواز حوثیوں کے خلاف گزشتہ پانچ برس سے سعودی عرب کی قیادت والا عسکری اتحاد برسرِ جنگ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن دنیا کے 'بدترین انسانی بحران سے دوچار ہے' ۔ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کو اندیشہ ہے کہ اگر یمن میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹ پڑی تو اس ملک کا نظام صحت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا اور بے شمار ہلاکتیں ہوں گی۔ اتفاق سے یہ جنگ 26مارچ 2015 کو شروع ہوئی اور 26 مارچ 2020کو کورونا کے بہانے اس کا خاتمہ ہوگیا کیونکہ بقول انٹونیو گوٹیریش فی الحال سب کو مل کر ہماری اپنی زندگی کے لیے حقیقی لڑائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے مطابق کورونا وائرس کا خطرہ ٹلا نہیں اور یہ وباء ابھی تک عروج پر ہےاس لیے پوری دنیا کے ملکوں جنگ بند کر کے اپنی تمام توجہ اور وسائل اس عالمی وباء کے خلاف استعمال کرنا چاہیے۔ اس وبا سے نمٹنے کے لیے دُنیا میں تنازعات کو روکنے کی کوشش لازمی ہے سلامتی کونسل کا کام اس وبا کو دور کرنے کے لئے کام کرنا ہے۔انٹونیو گوٹیریش نے یہاں تک کہا کورونا دنیا میں تنازعات کے خاتمے کا بہترین موقع ہے مگر بدقسمتی سے ہم اس موقعے سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے ہیں۔ 'کوویڈ ۔19' کسی ایک ملک، قوم یا معاشرے کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ چیلنج ہے۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کیمرون، جمہوریہ وسطی افریقہ، کولمبیا، لیبیا، میانمار، فلپائن، جنوبی سوڈان، سوڈان، شام، یوکرین اور یمن کے اندر برپا تنازعات میں شامل فریقین نے ہماری تجاویز کو قبول کرنے کا عندیہ تو دیا ہے لیکن صرف اعلانات سے کام نہیں چلے گا عملاً جنگ بندی ہونی چاہیے۔
دنیا بھر میں میں جاری لڑائیوں کی بنیا د میں بہت سے تنازعات کافی پرانے ہیں اور وہ آسانی کے ساتھ حل نہیں ہوسکتے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ متحارب فریقین کے درمیان زبردست عدم اعتمادی اور شکوک و شبہات ہیں جن کا دور ہونا بہت مشکل ہے۔ اس لیے ان نازک حالات میں جب کہ کرونا وائرس 188 ممالک میں پھیل چکا ہےاور اب تک 53 ہزار سے زیادہ افراداس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں حکمرانوں کو اپنے محدود مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچنا چاہیے۔ فی الحال دنیا بھر میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 10 لاکھ 35 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ان میں صحتیاب ہونے والوں کی تعداد صرف 2 لاکھ ہے۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے ۔ جنگل میں جب سیلاب آتا ہے تو سارے موذی جانورایک جگہ جمع ہوکر اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہاں موجود ازلی دشمن سانپ اور منگوس بھی ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتے ۔ کیا اشرف الخلوقات کہلانے والاحضرتِ انسان ان وحشی جانوروں سے سبق سیکھ کر اس عالمی آفت سے نمٹے گا ؟ کورونا کا وائرس عالمی برادری کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ کیاامن عالم کی یہ پکار بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوگی یا کوئی اس پر کان دھرے گا؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 131 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 959 Articles with 317148 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: